واقعہ شہادت خلیفہ دوم سیدنا عمررضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت |…

واقعہ شہادت خلیفہ دوم سیدنا عمررضی اللہ عنہ

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 5

(تاریخ کامل: جلد 3 صفحہ 21 لابن اثیر )

کیا تمھاری جماعت کے مشورہ و اتفاق سے یہ کام ہوا ہے؟

صحابہؓ اس کے جواب میں فرماتے معاذاللہ(خدا کی پناہ ہم ایسا کیونکر کر سکتے تھے )

 سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمؓر کو مقام شہادت پر فائز فرمایا اور آپؓ کی شہادت میں کسی ایک مسلمان کا ہاتھ نہ تھا یہ ایک بدترین آدمی فیروز پارسی تھا۔

فساقها الله إليه على يد شر خلقه عبد مملوك للمغيرة

(در السحابة: صفحہ 175)

وکان مجوسیا

(تاریخ عمرؓ: صفحہ 241 )

شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمۃاللہ لکھتے ہیں:

ولم یقتل عمرؓ من المسلمین لرضاء المسلمین عنہ وانما قتلہ کافر فارسی مجوسی

(منہاج السنہ: جلد، 6 صفحہ 13)

آپؓ کے خون میں کسی مسلمان کا ہاتھ تھا نہ کسی مسلمان کی خوشی اس میں شامل تھی آپؓ کو ایک کافر ایرانی مجوسی نے شہید کیا۔

آپ یہ بھی لکھتے ہیں

فان ابا لؤلؤة کافر قتل عمر کما یقتل الکافر المؤمن وهذہ الشھادة أعظم من شھادة من یقتلہ مسلم فان قتیل الکافر أعظم درجة من قتیل المسلمین

(منہاج السنہ: جلد 6، صفحہ 31)

ابو لولو کافر نے حضرت عمؓر کو شہید کیا جس طرح کوئی کافر کسی مسلمان کو شہید کر دیتا ہے اور یہ اس سے بڑی شہادت ہے کہ آپؓ کے خون سے کسی مسلمان کا ہاتھ رنگین ہوتا کیونکہ کافر کے ہاتھ سے شہید ہونا بہ نسبت کسی مسلمان کے ہاتھ سے زیادہ مرتبہ والی شہادت ہے۔

سیدنا عمر فاروقؓ کے فوری علاج کیلئے لوگوں نے ایک طبیب بلایا جس نے آپؓ کو انگور کا شربت اور دودھ پلانے کی کوشش کی مگر یہ دونوں چیزیں زخم کی راہ سے باہر نکل پڑیں اس وقت لوگوں کو یہ پتہ چل گیا کہ زخم گہرا ہے اور اب آپؓ شاید زیادہ دیر زندہ نہیں رہیں گے اس صورت حال پر بعض حضرات نے عرض کیا کہ آپؓ اپنا جانشین مقرر کر جائیں نیز وہاں موجود لوگوں میں سے کسی نے آپؓ کی تعریف و توصیف میں چند کلمات کہے تو آپؓ نے اس پر فرمایا

اللہ کی قسم میری تمنا یہ ہے کہ میں دنیا سے ہلکا ہوکر روانہ ہو جاؤں میں کسی کا مقروض نہ ہوں اور میرا بھی کسی پر قرضہ نہ ہو حضور انور ﷺ پر درود و سلام ہو جن کی صحبت نے مجھے تمام آلام و مصائب سے محفوظ رکھا

( تاریخ الخلفاء: صفحہ 137)

اس دوران حضرت عبداللہ بن عباسؓ آپؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے امیر المؤمنین آپؓ کو جنت کی خوشخبری ہو آپؓ اس وقت ایمان لائے جبکہ لوگ کافر تھے آپ نے حضورﷺ کے ساتھ جہاد کیا حضورﷺ آپ سے راضی ہو کر دنیا سے گئے اور آپؓ کی خلافت میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہیں تھا اور اب آپؓ مقام شہادت پا رہے ہیں۔

ابشر بالجنۃ یا امیر المؤمنین اسلمت حین کفر الناس وجاھدت مع رسول اللّٰہ حین خذلہ الناس وقبض رسول اللّٰہ وھو عنک راض ولم یختلف فی خلافتک اثنان وقتلت شھیدا

( مستدرک حاکم: صفحہ 98)

سیدنا عمرؓ نے یہ بات سنی تو سیدنا ابن عباسؓ سے فرمایا کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو حضرت ابن عباسؓ ابھی کچھ نہ کہہ پائے تھے کہ پاس ہی کھڑے حضرت علؓی نے کہا جی ہاں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔

فقال علیؓ نعم نشھد بذلک

(کتاب الاثار :صفحہ 207 )

حضرت عمر فاروقؓ کو حضرت علیؓ کی بات سے بہت خوشی اور راحت ملی۔ وفرح بذلک عمرؓ وأعجبہ

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 270)

ابن ابی حدید شیعی نے یہ واقعہ شرح نہج البلاغہ میں جناب ہیثم کے حوالے سے نقل کیا ہے

(جلد 3 صفحہ 146 الآثار فی موت عمرؓ)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے آپؓ کے بدن پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ اس جسم کو دوزخ کی آگ کبھی بھی نہ چھوئے گی (جلد لاتمسہ النار ابدا) آپؓ نے حضورﷺ کی بہت اچھی صحبت پائی ہے حضورﷺ آپؓ سے خوش ہوکر گئے ہیں سیدنا ابوبکؓر بھی آپؓ سے خوش ہوکر گئے، مسلمانوں نے آپؓ کے ساتھ ایک لمبا عرصہ گزارا اور آپؓ اس حال میں ان کو چھوڑ کر جارہے ہیں کہ وہ سب کے سب آپؓ سے خوش ہیں۔

وصحبت المسلمین وتفارقھم وھم عنک راضون

(سیرت عمرؓ: صفحہ 250 )

حضرت ابن عباسؓ نے اسوقت آپؓ سے یہ بھی کہا کہ

واللہ ان کان اسلامک لنصرا وان کانت امامتک لفتحا واللہ لقد ملأت امارتك الارض عدل(طبقات: جلد3، صفحہ 270)

وان كانت ولايتك لعدلا ولقد قتلت مظلوما (تاريخ عمر صفحہ 250) آپؓ کا اسلام لانا مسلمانون کے لیئے باعث عزت تھا آپؓ کی امارت و خلافت انصاف پر مبنی رہی اور آپؓ کو شہادت کی موت نصیب ہے حضرت عمرؓ نے اس پر فرمایا کہ واللہ تم محض اس کی وجہ سے مجھے عزیز نا جانو اگر حق تعالی نے اپنا رحم میرے شامل حال نا کیا تو عمرؓ ہلاک ہوجائے گا (الموافقہ: صفحہ 27)

آپؓ نے حضرت ابن عباسؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اگر دنیا میں میرے پاس سونے کے دو پہاڑ بھی ہوتے تو میں انہیں قیامت کے خوف سے راہ خدا میں خرچ کر دیتا (تاريخ الخلفاء: صفحہ 137)

والله لو ان لى طلاع الارض ذهبا لا فتديت به من عذاب الله قبل ان أراہ

(صحيح بخارى: جلد 1، صفحہ 521)

(طبقات جلد 3، صفحہ 270)

حضرت عمرؓ سے اس وقت کسی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کے ہاتھوں بہت سے شہر فتح کروائے ہیں بےشمار علاقے مسلمانوں کو ملے آپؓ کی نیکیاں کس قدر زیادہ ہیں تو آپؓ نے جواب میں فرمایا میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے ہاں ایسے ہی چھوٹ جاؤں اجر ملے نا ملے تو بڑے نفع کا سودا سمجھوں گا لوددت انى أنجو منه لا أجر ولا وزر(طبقات: جلد 3، صفحہ267)

شارح مشکٰوۃ نواب قطب الدین محدث دہلوی رحمۃاللہ لکھتے ہیں کہ

آپؓ نے یہ بات غلبۂ خوف کے سبب کہی کہ واقع ہوا ان کو اس وقت بخوف کمی کرنے کے اللہ کے حقوق میں

(مظاهر حق: جلد 5، صفحہ107 )

یعنی اللہ پاک کا جتنا حق ادا کرنا چاہیے تھا آپؓ سمجھتے تھے کہ وہ اس طرح ادا نہ ہو سکا اور اس میں آپؓ سے کمی کوتاہی رہ گئی آپؓ کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت حفصہؓ جب سیدنا عمر فاروقؓ کے پاس آئیں تو باپ کو دیکھ کر تڑپ اٹھیں اور اپنے جذبات پہ قابو رکھتے ہوئے اپنے بابا جان سے کہا

ابا جان آپؓ کو آپ کے رب کے پاس جانے کا رنج نہیں اور نہ ہی کوئی آپؓ کا فضائل میں ہمسر ہے اور میرے پاس آپؓ کے لیے بشارت موجود ہے اور آپؓ کا بہترین شفاعت کنندہ آپؓ کا عدل و انصاف ہے آپؓ کی سخت زندگی اور خواھشات سے عاری ہونے پر مشرکین اور مفسدين کو پکڑنے اور روکنے کے عمل کو آپؓ الله کے ہاں ہلکا نہ جانیں۔

صفحہ 2 از 5