اہم تر دروس و عبر اور فوائد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

اہم تر دروس و عبر اور فوائد

  ابو شاہین

صفحہ 4 از 4

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ’’جب اسے کسی رنج و کرب کا سامنا ہو تو وہ یہ دعا پڑھا کرے:

یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ (سنن الترمذی: رقم 3540)

’’اے زندہ اور تھامنے والے! میں تیری رحمت کی مدد مانگتا ہوں۔‘‘

4۔ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی ہر چیز سے اجتناب کرنا

مثلاً زبان سے برائی کا اظہار کرنا، چہرے پر طمانچے مارنا، گریبان چاک کرنا، بال نوچنا، نوحہ کرنا، لوگوں سے شکایت کرنا، موت اور بربادی کی دعا کرنا، وغیرہ، یہ سب کام اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والے اور صبر و رضا کے منافی ہیں۔ (موسوعۃ الآداب الاسلامیۃ: جلد، 2 صفحہ 788)

5۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو یاد کر کے اپنی مصیبت کو کم تر خیال کرنا

اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور اس کی وجہ سے آسمان سے وحی کے سلسلہ کا منقطع ہو جانا امت اور اس کے ہر فرد کے لیے بہت بڑی مصیبت تھی۔ اگر مصیبت زدہ شخص اس بات کو یاد کرے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی مصیبت کے مقابلہ میں اس مصیبت کی کوئی حیثیت نہیں ہے تو اس کی مصیبت آسان پڑ جائے گی، اس لیے کہ بڑی مصیبت صرف اسی صورت میں ہلکی نظر آئے گی جب اس سے بھی بڑی مصیبت کو یاد کیاجائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

’’جب تم میں سے کسی شخص کو کوئی مصیبت آئے تو وہ اس مصیبت کو یاد کرے جو اسے میری وجہ سے پہنچی، اس لیے کہ یہ سب سے بڑی مصیبت ہے۔‘‘ (البیہقی فی شعب الایمان: رقم، 10152 صحیح الجامع: 347)


صفحہ 4 از 4