اہم تر دروس و عبر اور فوائد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

اہم تر دروس و عبر اور فوائد

  ابو شاہین

صفحہ 3 از 4

سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی کا ارشاد ہے: ’’تین کام زمانہ جاہلیت کے اعمال میں سے ہیں جن پر لوگ قیامت تک عمل کرتے رہیں گے: (1) ستاروں کی وجہ سے بارش مانگنا (2) انساب میں طعن کرنا اور (3) مردوں پر نوحہ کرنا۔‘‘ (بحار الانوار: جلد، 82 صفحہ 101) امام محمد باقر کا قول ہے: ’’چہرہ اور سینہ پیٹنا اور بال نوچنا بے صبری کی انتہاء ہے، نوحہ کرنے والا صبر کا دامن چھوڑ دیتا اور غلط راستہ اختیار کرتا ہے۔‘‘ 

(الکافی، الکلینی: جلد، 3 صفحہ 222 اور 223)

سر پر خنجر اور تلواریں مارنے اور خون بہانے کے بارے میں شیخ حسن مغنیہ فرماتے ہیں: امر واقع یہ ہے کہکہ ان چیزوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کے بارے میں کوئی صریح نص وارد نہیں ہے، مگر یہ ایک عمدہ اور قابل تعریف جذبہ ہے، جس سے مومنین کے نفوس میں اس لیے جوش دلایا جاتا ہے کہ کربلا کے دل فگار واقعہ میں مقدس خون بہائے گئے۔ (آداب المنابر: صفحہ 182)

مگر یہ بات یقینی ہے کہ ان امور کا شمار منکرات اور بدترین قسم کی بدعات میں ہوتا ہے۔ (من قتل الحسین: صفحہ 83) اسلام نے ہمیں آداب مصائب کی تعلیم دی ہے۔ شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ ایک بہت بڑی مصیبت ہے اور مصائب کے مواقع پر چند آدابِ اسلام مندرجہ ذیل ہیں:

 1۔ مصائب پر صبر کرنا

 مصیبت کا سب سے بڑا ادب یہ ہے کہ انسان مصیبت آنے پر صبر کرے، صبر کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دل کو ناراضی سے زبان کو شکوہ و شکایت سے اور جوارح کو ان اعمال و افعال سے روکے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں، مثلاً رخسار پیٹنا، گریبان چاک کرنا، چہرے پر خراشیں لگانا، بال نوچنا اور جاہلانہ انداز میں واویلا کرنا۔ اسلامی تعلیمات کی رُو سے مصیبت کی خبر سننے کے ساتھ ہی انسان کو صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’صبر پہلے صدمہ کے وقت ہوتا ہے۔‘‘ (بخاری: رقم الحدیث، 1283)

 2: مصیبت پر صبر کر کے ثواب حاصل کرنا

 انسان کو چاہیے کہ وہ مصیبت پر صبر کر کے اس پر اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھے، کیونکہ ایسا کرنے کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَاصْبِرْ عَلٰی مَآ اَصَابَکَ اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِo (سورۃ لقمٰن: آیت 17)

’’اور تم پر جو مصیبت آئے اس پر صبر کرنا، یقینا یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے۔‘‘

انسان اگر کسی پیاری چیز کو گم پائے تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد کرنا چاہیے: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں اپنے بندے کی کسی پیاری چیز کو قبض کر لوں اور وہ اس سے ثواب کا ارادہ کرے تو میرے پاس جنت کے علاوہ اس کی اور کوئی جزا نہیں ہے۔‘‘ (بخاری: رقم الحدیث 4624) پیاری چیز، مثلاً بیٹا، باپ یا اس جیسی کوئی چیز۔ اللہ رب کائنات نے مصائب پر صبر کرنے کے بدلے اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ صبر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لیے ہو، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآئَ وَجْہِ رَبِّہِمْ (الرعد: 22)

’’اور وہ لوگ جو اپنے رب کی رضامندی کی جستجو کے لیے صبر کرتے ہیں ۔‘‘

لہٰذا صبر اللہ رب العزت کے لیے ہونا چاہیے، اس آدمی جیسا صبر جو اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر راضی ہو اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ (موسوعۃ الآداب الاسلامیۃ، عبدالعزیز فتحی: جلد، 2 صفحہ 786)

 3۔ ’’اِنَّا لِلّٰہِ‘‘ اور مصیبت کی دعا پڑھنا

 جب کوئی مصیبت آئے تو آدمی یہ دعا پڑھا کرے: 

اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَ اَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْہَا

’’ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ، یا اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کا نعم البدل عطا فرما۔‘‘

ارشاد ربانی ہے:

وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَo الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْ ٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَo اُولٰٓئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَ رَحْمَۃٌ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُوْنَ (البقرۃ: 155-157)

’’جنہیں جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملک ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ، ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’جس بندۂ مسلم کو کوئی مصیبت آئے پھر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ((اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَ اَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْہَا)) پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا۔‘‘ (مسلم: 918)

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’جب میرے خاوند ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے کہا: مسلمانوں میں ابو سلمہ سے بہتر کون ہے؟ پھر میں انا للہ پڑھتی رہی، تو اللہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرما دئیے۔‘‘ (ایضاً)

مصیبت زدہ انسان یہ دعا بھی پڑھا کرے:

اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا شَرِیْکَ لَہٗ

’’اللہ میرا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔‘‘

یہ دعا پڑھنے کی وجہ سے باذن اللہ اس کی مصیبتیں اور پریشانیاں دُور ہو جائیں گی۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کو کوئی پریشانی، غم، بیماری یا کوئی سختی لاحق ہو جائے اور وہ یہ دعا پڑھے: 

اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا شَرِیْکَ لَہٗ 

"تو اس سے ان چیزوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔‘‘ (صحیح الجامع: رقم الحدیث 6049) اسی طرح وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کردہ دعائے مکروب پڑھا کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’مصیبت زدہ کی دعائیں یہ ہیں: 

اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ اَرْجُوْ فَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ وَ اَصْلِحْ لِیْ شَاْنِیْ کُلَّہٗ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ (سنن ابی داود: رقم الحدیث 5090 صحیح الجامع: رقم 3388)

’’اے اللہ ! میں تیری رحمت کی اُمید رکھتا ہوں، تو پل بھر کے لیے بھی مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر اور میرا سارا معاملہ درست کر دے، تیرے سوال کوئی معبود نہیں۔‘‘

صفحہ 3 از 4