اہم تر دروس و عبر اور فوائد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

اہم تر دروس و عبر اور فوائد

  ابو شاہین

صفحہ 2 از 4

ابن کثیرؒ 600 ہجری کی حدود میں بنوبویہ کی حکومت کے ایام میں کتاب و سنت کی حدود سے متجاوز عاشورۂ محرم کی تصویر کشی کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’اس دن بغداد اور دوسرے شہروں میں ڈھول بجائے جاتے، راستوں اور بازاروں میں راکھ اور توڑی اڑائی جاتی، دکانوں پر ٹاٹ لٹکا دئیے جاتے اور لوگ غم کا اظہار کرتے اور روتے پیٹتے، بہت سے لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے غم اور ان کی موافقت میں پانی نہ پیتے اس لیے کہ انہیں شدید پیاس کی حالت میں قتل کیا گیا تھا، پھر عورتیں چہرے کھول کر نوحہ کرتیں، روتیں اور بین کرتیں، اپنے سینوں اور چہروں پر طمانچے مارتے ہوئے ننگے پاؤ ں بازاروں میں نکلتیں، اس قسم کے اور بھی کئی رسوائی کے کام کیے جاتے، قبیح بدعات و خرافات کا ارتکاب کیا جاتا، اس قسم کے کاموں سے ان کا اصل مقصد بنو امیہ کی حکومت کو بدنام کرنا ہوتا تھا اس لیے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ان کے دَورِ حکومت میں قتل ہوئے تھے۔

 (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 577)

اثنا عشری علماء تعزیتی جلوسوں کے جواز کے قائل ہیں۔ میرے ایک سوال کے جواب میں محمد حسین غروی نے لکھا:

1۔ عاشورۂ محرم کے دن گلیوں اور بازاروں میں تعزیتی جلوسوں کے جواز میں کوئی شبہ نہیں ہے، یہ ہر قریب اور بعید تک حسینی پیغام پہنچانے کا آسان ترین طریقہ ہے اور اس سے مظلوم شہید کو پرسا دینے کی رسم بھی ادا ہوتی ہے۔

2۔ رخساروں اور سینوں پر طمانچے مارنے کے جواز میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے۔ بلکہ ایک حد تک زنجیر زنی کا جواز بھی موجود ہے۔ اگر زنجیر زنی سے قدرے خون نکل آئے اور اس سے ماتمی حضرات کو تکلیف پہنچے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، اگر تلوار زنی سے اس قدر خون بہ نکلے کہ وہ زیادہ ضرر رساں نہ ہو، تو راجح قول کی رُو سے اس کا جواز بھی موجود ہے۔

3۔ رونے، رلانے اور عزا داری کے لیے امامیہ شیعہ جو 7 صدیوں سے تشبیہات و تمثیلات کا رواج اپنائے ہوئے ہیں تو ان کے جواز میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے۔ ان کے نزدیک آج یہ فتویٰ معمول بہا ہے اور اس پر ان کا اجماع ہے۔ اکثر اثنا عشری علماء تو اسے واجب قرار دیتے ہیں۔

(مقتل الحسین و فتاوی العلماء الاعلام فی تشجیع الشعائر، شیخ مرتضی عباد: صفحہ 12 تا 40 العقیدۃ فی اہل البیت: صفحہ 495)

ان مظاہر کے بارے میں ناصر الدین شاہ رقم طراز ہیں: ’’ہندوستان، پاکستان، ایران اور عراق میں لوگ گلیوں بازاروں میں تعزیے نکالتے، ان کے ساتھ ننگے پاؤ ں چلتے اور لوہے کی ایسی زنجیروں سے ماتم کرتے ہیں، جن کے ساتھ چھوٹے چھوٹے اور تیز دھار بلیڈ یا چھریاں بندھی ہوتی ہیں۔ بعض لوگ تو اس زور سے ماتم کرتے ہیں کہ ان کے جسم سے خون بہنے لگتا ہے، اور بعض لوگ مر بھی جاتے ہیں، جبکہ عورتیں گھروں میں بیٹھ کر آہ و بکا کرتیں اور اپنے ہاتھوں سے ماتم کرتی ہیں اور یہ سب کچھ اس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے غم اور احترام میں ہوتا ہے، جو ان کے خیال میں مظلومانہ انداز میں مقتول ہوئے۔‘‘ (العقائد الشیعیۃ: صفحہ 135)

سیّد محسن امین حسینی ماتمی مجالس کے انعقاد کے اسباب گنواتے ہوئے رقم طراز ہے:

’’اس قسم کے ماتمی پروگراموں کا مقصد ان کی مظلومانہ شہادت پر کبھی آواز کے ساتھ اور کبھی آواز کے بغیر رونا، حزن و تاسف اور تکلیف و الم کا اظہار کرنا ہوتا ہے اور اس دوران مرثیہ خوانی اور نوحہ خوانی کے ذریعے سے معتقدین کو غم کے اظہار پر اور رونے کے لیے آمادہ کرنا ہوتا ہے۔‘‘

(اقتناع اللائم علی اقامۃ الماتم: صفحہ 2)

خمینی لکھتا ہے:

’’سیّد الشہداء پر رونے اور حسینی مجالس کے انعقاد نے ہی چودہ صدیوں سے اسلام کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دے رکھا ہے۔‘‘ (عقیدۃ اہل السنۃ فی اہل البیت: صفحہ 496 نقلا عن کشف الاسرار)

حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما مذکورہ بالا افعال سے بری الذمہ ہیں، اس لیے کہ جس اسلام کو ان کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے وہ تو ان جیسے افعال کو جائز قرار نہیں دیتا۔ ان کا تو ارشاد گرامی ہے:

’’رخسار پیٹنے والا، گریبان چاک کرنے والا اور جاہلیت کی باتیں لکھنے والا ہم مسلمانوں میں سے نہیں ہے۔‘‘ (بخاری: رقم الحدیث 1294)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ارشاد مبارک ہے: ’’اگر نوحہ کرنے والی مرنے سے پہلے پہلے توبہ نہ کرے تو اسے

قیامت کے دن اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ اس نے گندھک کی شلوار اور خارشی قمیص پہن رکھی ہو گی۔‘‘ (مسلم: رقم الحدیث 934)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ’’میں چیخنے چلانے والی، بال نوچنے والی اور گریبان چاک کرنے والی سے لاتعلق ہوں۔‘‘ (ایضاً: رقم الحدیث 167)

حسینیت کے شعائر کے تحت جو کیا جاتا ہے مثلاً طمانچے مارنا، نوحہ کرنا، سیاہ لباس پہننا وغیرہ اور جس کے جواز کا ان کے علماء و مفتیان فتویٰ دے رہے ہیں، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک اور ائمہ اہلِ بیت کی زبانوں سے حرام قرار پا چکا ہے اور یہ سب کچھ شیعہ کے قدیم اور جدید مصادر میں موجود ہے اور اس تحریم کا ان کے شیوخ اور سرکردہ لوگ اعتراف کرتے ہیں۔

محمد بن علی بن حسین بن بابویہ قمی، جوصدوق کے لقب سے معروف ہے، کا کہنا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’نوحہ کرنا زمانہ جاہلیت کا فعل ہے۔‘‘ (من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 6 صفحہ 271 اور 272)

محمد باقر مجلسی نے بھی اسے انہی الفاظ میں روایت کیا ہے۔ (بحار الانوار: جلد، 82 صفحہ 103)

یہ لوگ جس نوحہ اور آہ و بکا پر نسلاً بعد نسل عمل پیرا ہیں وہ زمانہ جاہلیت کا عمل ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مطلع فرمایا ہے۔ ( من قتل الحسین: صفحہ 73) جو روایات شیعہ کو ان امور سے منع کرتی ہیں، جن کا ارتکاب وہ اپنی مجالس و محافل میں کیا کرتے ہیں، ان میں سے امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد بھی ہے: ’’اس شہر میں میت پر نوحہ کرنے سے منع کرو جہاں تمہاری حکومت ہو۔‘‘

(مستدرک الوسائل للنوری: جلد، 1 صفحہ 44)

صفحہ 2 از 4