لوگوں کے درمیان عدل و مساوات کو قائم کرنا - دفاعِ اہلِ سنت…

لوگوں کے درمیان عدل و مساوات کو قائم کرنا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اس اصول پر کاربند ہونا اس کی واضح مثال ہے۔

چنانچہ فرماتے ہیں، میں تم پر حاکم بنایا گیا ہوں، لیکن تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر اچھا کروں تو مجھ سے تعاؤن کرو اور اگر میں کجی اختیار کروں تو مجھے سیدھا کر دو، تمہارا ضعیف فرد بھی میرے نزدیک قوی ہے، جب تک کہ میں دوسروں سے اس کا حق اس کو نہ دلا دوں، اور تمہارا قوی شخص بھی میرے نزدیک ضعیف ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسروں کا حق نہ حاصل کر لوں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 6 صفحہ، 305)

آپ بیت المال سے لوگوں پر خرچ کرتے تو اس میں جو کچھ ہوتا لوگوں کو برابر برابر دیتے۔

ابن سعد رحمۃ اللہ وغیرہ کی روایت ہے، مقام سنح میں آپؓ کا بیت المال معروف تھا، وہاں کوئی پہرے دار نہیں ہوتا تھا۔

آپؓ سے لوگوں نے عرض کیا، بیت المال پر پہرے دار مقرر کر لیں۔

آپؓ نے فرمایا، کوئی خوف نہیں لوگوں نے کہا، کیوں؟

فرمایا، اس پر تالا لگا رہتا ہے۔

اور آپؓ جو کچھ اس میں ہوتا لوگوں میں تقسیم کر دیتے اور جب آپؓ وہاں سے مدینہ منتقل ہوئے تو بیت المال کو بھی منتقل کر لیا اور اسے اپنے گھر میں قائم کیا۔ جہینہ کی کان سے مال آیا جو بہت زیادہ تھا۔ اور آپؓ کی خلافت میں بنو سلیم کی کان کھودی گئی وہاں سے زکوٰۃ آئی۔ ان سب کو آپؓ بیت المال میں رکھتے اور لوگوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کرتے، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹا بڑا سب کو برابر دیتے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، پہلے سال آپؓ نے آزاد، غلام، عورت، لونڈی سب کو دس دس دینار دیے اور دوسرے سال سب کو بیس بیس دینار دیے۔ پھر کچھ مسلمان آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، عرض کیا،

اے رسول اللہﷺ کے خلیفہ! آپؓ نے مال سب میں برابر تقسیم کیا ہے حالانکہ لوگوں میں ایسے بھی ہیں جن کو فضیلت اور اسلام میں سبقت حاصل ہے۔ کاش! آپؓ فضیلت و سبقت رکھنے والوں کو زیادہ دیتے۔

فرمایا، آپؓ لوگوں نے جو فضیلت و سبقت اسلام کا تذکرہ کیا ہے تو اس کا اجر و ثواب اللہ تعالیٰ عطا کرنے والا ہے اور یہ وظیفہ ہے اس میں مساوات و برابری ترجیح سے بہتر ہے۔

(ابوبکر الصدیق: الطنطاوی صفحہ، 187/188ابن سعد: جلد، 3 صفحہ، 193)

آپؓ کے دورِ خلافت میں عطیات کی تقسیم برابری سے ہوتی تھی۔

اس سلسلہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپؓ سے گفتگو کی اور فرمایا، کیا آپؓ، جنہوں نے دونوں ہجرتیں کیں اور دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، ان میں اور ان لوگوں کے درمیان جو فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے برابری کر رہے ہیں؟

حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا، یہ سب انہوں نے اللہ کے لیے کیا ہے، اس کا اجر و ثواب ان کو اللہ تعالیٰ دے گا، اور بلا شبہ دنیا مسافر کی زادِ راہ ہے۔

اگرچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں تقسیم کا طریقہ تبدیل کر دیا، سابق الاسلام اور جہاد والوں کو زیادہ دیتے تھے لیکن اپنے عہدِ خلافت کے اخیر میں فرمایا، اگر میں پہلے سے جانتا تو حضرت ابوبکرؓ کے طریقہ تقسیم کو اختیار کرتا اور لوگوں کو برابر دیتا۔

(الاحکام السلطانیۃ للماوردی: صفحہ، 201)

آپؓ اونٹ، گھوڑے اور اسلحہ خریدتے اور مجاہدین کے حوالے کر دیتے۔ ایک سال دیہات سے چادریں خریدیں اور مدینہ کی بیواؤں کے درمیان موسم سرما میں تقسیم کر دیں۔ آپؓ کے دور خلافت میں آپؓ کو جو مال ملا وہ دو لاکھ دینار تھا ان سب کو خیر کے کاموں میں تقسیم کر دیا۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ، 258)

عدل و مساوات کو قائم کرنے میں آپؓ نے ربانی منہج کی پیروی کی اور کمزوروں کے حقوق کی نگہداشت کی، آپؓ نے یہی مناسب سمجھا کہ اپنے آپؓ کو انھی لوگوں کی صف میں رکھیں، پھر آپؓ پورے ہوش و حواس کے ساتھ ان کے ساتھ رہے، دنیاوی قوتوں کے عوامل و اسباب آپؓ کو پھسلا نہ سکے ... یہ اسلام کی تصویر تھی اس شخص کی نگاہ میں جس نے ظلم وجور کو کچل کے رکھ دیا، عدل و انصاف کے ذریعہ سے لوگوں کے سر کو بلند کیا، جس پر اس کی سلطنت کا ایمان تھا اور جس کے ذریعہ امت و ملت کی حفاظت ہوئی۔

(ابوبکر رجل الدولۃ: صفحہ، 46)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اوّل دن سے ان بلند پایہ مبادی اور اصولوں کو نافذ کرنے میں لگ گئے۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ عدل میں حاکم و محکوم کی عزت ہے، اسی لیے آپؓ نے اپنی اس سیاست کو نافذ العمل قرار دیا اور رب العالمین کا یہ ارشاد برابر دہراتے رہے،

إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ.

(سورۃ النحل: آیت نمبر، 90)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے، وہ خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ چاہتے تھے کہ مسلمان دین پر مطمئن ہو جائیں اور اس کی طرف دعوت کی آزادی ملے۔ اور مسلمانوں کو اطمینان اس وقت حاصل ہو گا جب ان کا حاکم خواہشات نفسانی سے خالی ہو کر محض عدل کی بنیاد پر حکومت کرے۔

اس اساس و بنیاد پر حکومت کا تقاضا ہے کہ حاکم ہر شخصی اور ذاتی امتیازات سے بالاتر ہو اور اس کے اندر عدل و رحمت دونوں جمع ہوں۔

امور سلطنت پر فائز ہونے سے متعلق حضرت ابوبکرؓ کا نظریہ، انکارِ ذات اور اللہ کے لیے مطلق اخلاص و تجرد پر قائم تھا، جس کی وجہ سے آپؓ کمزوروں کی کمزوری اور معاشرہ کی ضرورت کا بھرپور احساس رکھتے تھے اور اپنے عدل کے ذریعہ سے خواہشِ نفس پر برتری حاصل کر لی تھی پھر سلطنت کے تمام مسائل کا، بڑے ہوں یا چھوٹے، پوری بیدار مغزی اور احتیاط کے ساتھ جائزہ لیتے تھے۔

(الصدیق لہیکل باشا: صفحہ، 224)

صفحہ 2 از 3