عام بیعت اور داخلی امور کا انتظام وانصرام - دفاعِ اہلِ سنت…

عام بیعت اور داخلی امور کا انتظام وانصرام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

دارالسلطنت میں بیعت خلیفہ لے گا اور دیگر صوبوں اور مقامات میں بیعت یا براہِ راست امام لے گا یا پھر اس کے نائبین لیں گے جیسا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت میں ہوا، اہلِ مکہ اور طائف سے خلیفہ کے نائبین نے بیعت لی۔ جن کی بیعت واجب ہے وہ اصحاب حل و عقد، علماء اور قائدین امت، اہلِ شوریٰ اور مختلف علاقوں کے امراء ہیں اور باقی عام لوگوں کے لیے ان حضرات کی بیعت میں داخل ہونا کافی ہے لیکن اہلِ حل و عقد کی بیعت کے بعد عام لوگ بھی بیعت کر سکتے ہیں۔

(نظام الحکم فی الاسلام: صفحہ، 253)

اور کچھ علماء کا یہ خیال ہے کہ عام لوگوں کی بیعت ضروری ہے کیونکہ حضرت ابوبکرؓ نے زمام حکومت اس وقت تک نہیں سنبھالا، جب تک عام لوگوں سے بیعت نہ لے لی۔

(فقہ الشوری: د۔ الشاوی صفحہ، 439 عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ، 30)

یہ بیعت اس خاص معنیٰ میں جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے امت نے کی اسلامی حکومت میں امام اعظم کا حق ہے کسی دوسرے کو یہ حق نہیں، چاہے اسلامی حکومت قائم ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ اس بیعت پر بہت سے احکام مترتب ہوتے ہیں۔

(نظام الحکم فی الاسلام: صفحہ، 254)

خلاصہ کلام یہ کہ بیعت کا خاص مطلب یہ ہے کہ خلیفہ کے ساتھ ولاء اور سمع و اطاعت کا وعدہ کیا جائے بمقابل اس کے کہ وہ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق حکومت کرے گا، حقیقت میں یہ طرفین سے عہد و پیمان ہے اس میں امام طرفِ اوّل اور امت طرفِ ثانی ہے۔ امام کتاب و سنت کے مطابق حکومت کرنے اور اسلامی شریعت کی مکمل فرماں برداری کا عہد کرتا ہے اور امت حدود شریعت کے اندر امام کی اطاعت اور فرماں برداری کا عہد کرتی ہے۔

بیعت اسلامی نظام حکومت کے خصائص میں سے ہے۔ ماضی و حال میں پائے جانے والے تمام نظام حکومت میں صرف یہ اسلامی نظام حکومت کے اندر پایا جاتا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ حاکم و محکوم سب اسلامی قوانین کے پابند ہیں۔ حاکم ہو یا محکوم کسی کو شرعی قانون سے خروج یا کتاب و سنت سے متصادم قانون سازی کا حق نہیں ہے بلکہ یہ اسلامی حکومت کے عام نظام کی مخالفت اور اعلان جنگ ہے اور اس سے بڑھ کر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن نے ایسے لوگوں سے ایمان کی نفی کی ہے۔

(نظام الحکم فی الاسلام: صفحہ، 152/153)

ارشاد الٰہی ہے:

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (سورۃ النساء: آیت نمبر، 65)

ترجمہ: سو قسم ہے تیرے پروردگار کی، یہ مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپﷺ کو حکم نہ مان لیں پھر جو فیصلے آپﷺ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔

عہد صدیقی کی روشنی میں بیعت کا یہ مفہوم سامنے آتا ہے۔

خلافتِ صدیقی میں مصادر تشریع:

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جب تک میں اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی اطاعت کروں تم بھی میری اطاعت کرو اور جب میں اللہ و رسولﷺ کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اطاعت لازم نہیں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 6 صفحہ، 306)

قرآن کریم:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّـهُ ۚ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا۔

(سورۃ النساء: آیت نمبر، 105)

ترجمہ: یقیناً ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تا کہ تم لوگوں میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کرو جس سے اللہ نے تم کو شناسا کیا ہے اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو۔

تشریغ کا یہ پہلا مصدر ہے جو زندگی سے متعلق تمام احکام شرعیہ پر مشتمل ہے۔ اسی طرح زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق اساسی مبادی و احکام پر مشتمل ہے۔ نیز قرآن پاک نے مسلمانوں کے لیے حکومت و سلطنت کے اصول و مبادی بھی بیان کیے ہیں جن کی ان کو ضرورت پڑنے والی تھی۔

حدیث پاک:

حدیث پاک دوسرا مصدر ہے جس سے اسلامی دستور اپنے اصول حاصل کرتا ہے، اور حدیث کی روشنی میں ہی احکام قرآن کی تنفیذی اور تطبیقی تفصیلات کی معرفت ممکن ہے۔

(فقہ التمکین فی القرآن الکریم للصَّلابی: صفحہ، 432)

خلافتِ صدیقی شریعت مطہرہ کے تابع تھی اور ہر تشریع و قانون پر شریعتِ اسلامیہ کو بالا دستی حاصل تھی اور خلافتِ صدیقی نے اسلامی حکومت کے شرعی حکومت ہونے کی واضح اور روشن تصویر پیش کی ہے، جو اپنے تمام اداروں اور شعبوں میں شرعی قوانین کی پابند ہوتی ہے اور اس حکومت میں حاکم شرعی قوانین کا پابند ہوتا ہے، ان قوانین سے انحراف یا آگے پیچھے ہٹنے کی ذرا بھی گنجائش اس کے لیے نہیں ہوتی۔

(نظام الحکم فی الاسلام: صفحہ، 227)

خلافتِ صدیقی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معاشرہ میں شریعت کو سب پر بالا دستی حاصل تھی، حاکم و محکوم سب اس کے تابع تھے، اسی لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے امت سے جس اطاعت کا مطالبہ کیا اسے اللہ و رسولﷺ کی اطاعت سے مقید کیا کیونکہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے،

لا طاعۃ فی المعصیۃ انما الطاعۃ فی المعروف۔

ترجمہ: معصیت میں کسی کی اطاعت جائز نہیں، اطاعت تو بھلائی کے کاموں میں ہے۔

(حدیث متفق علیہ ہے۔ البخاری: الآحاد: صفحہ، 7257 مسلم: الامارۃ: صفحہ، 1840) (مترجم)


صفحہ 2 از 2