منصب خلافت اور خلیفہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

منصب خلافت اور خلیفہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

اس کی شخصیت اس حیثیت سے ممتاز حیثیت کی حامل ہو کہ رسول اللہﷺ نے خود اس کی شہادت دی ہو، اور نبی کریمﷺ نے دین کے بنیادی ارکان کی ادائیگی اور اہم امور میں اس کو نیابت سونپی ہو اور انتہائی خطرناک مواقع پر اس کو نبی کریمﷺ کی صحبت کا شرف حاصل رہا ہو اور اس طرح کے مواقع پر انسان اسی کو اپنے ساتھ رکھتا ہے جس پر کلی طور پر اعتماد و بھروسہ کرتا ہے۔

وہ اس حیثیت سے امتیازی خصوصیت کا مالک ہو کہ وہ اسلام کے خلاف اٹھنے والے طوفان اور تیز و تند آندھیوں کے سامنے پہاڑ بن کر کھڑا رہے جو دین کو جڑ سے اکھاڑ دینے اور نبی کریمﷺ کی تمام کوششوں کو برباد کر دینے اور بہت سے قوی الایمان اور طویل الصحبت افراد کے دلوں میں تزلزل پیدا کر دینے کے لیے کافی ہو۔ نیز وہ ان تمام فتنوں کے سامنے بلند پہاڑوں کی طرف ڈٹا رہے۔ انبیاء علیہم السلام کے سچے جانشینوں کا دور یاد دلائے، لوگوں کی آنکھوں سے پردہ اٹھائے اور دین کی اساس و بنیاد اور صحیح عقیدہ سے گرد و غبار کو دور کرے۔

فہم اسلام کے سلسلہ میں اس کی شخصیت ایک منفرد اور ممتاز ہو، رسول اللہﷺ کی حیاتِ طیبہ میں مختلف حالات، جنگ و صلح، خوف و امن، وحدت و اجتماع، شدت و آسودگی ہر حال میں آپﷺ کے ساتھ رہا ہو۔

اس کی شخصیت انتہائی غیرت مند ہو، دین کی اصل اور اس کی اصلی شکل میں بقاء پر اس کو اس قدر غیرت ہو جو لوگوں کے یہاں عزت و آبرو، ماں، بیٹی، بیوی سے متعلق غیرت سے بڑھی ہوئی ہو۔ اور اس سلسلہ میں اس کو کوئی خوف یا لالچ، تاویل یا اقرباء و اصدقاء کی عدم موافقت آڑے نہ آئے۔

رسول اللہﷺ کی خلافت کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخص رسول اللہﷺ کی خواہشات کی تنفیذ کا انتہائی حریص اور اس میں انتہائی دقیق ہو، رائی برابر بھی اس سے انحراف نہ کرے اور نہ کسی طرح کی سودے بازی کرے اور نہ ملامت گروں کی ملامت سے ڈرے۔

وہ دنیا کی چیزوں سے لطف اندوز ہونے کے سلسلہ میں انتہائی درجہ کا زاہد ہو، نبی کو چھوڑ کر اس طرح کا زہد کسی اور کے پاس نہ ہو۔ اس کے دل و دماغ میں کبھی حکومت و سلطنت کی تشکیل و تاسیس اور اپنے کنبے اور ورثاء کے لیے اس کی توسیع کا خیال نہ گزرا ہو، جیسا کہ جزیرہ عرب کے قرب و جوار مثلاً روم و فارس میں شاہی خاندان کے یہاں چلا آرہا تھا۔

(المرتضی سیرۃ ابی الحسن بن ابی طالب: صفحہ، 65/66)

یہ تمام صفات و شروط سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اندر یکجا موجود تھیں اور یہ آپؓ کی زندگی کا جزو لاینفک بن گئی تھیں۔ رسول اللہﷺ کی زندگی میں، خلافت سے قبل اور خلافت کے بعد پوری زندگی سیدنا ابوبکرؓ اس پر قائم رہے، کوئی انکار کرنے والا اس کا انکار کر سکتا ہے اور نہ اس سلسلہ میں کوئی شک ڈال سکتا ہے۔ یہ چیز تواتر اور بداہت سے ثابت ہے۔

(المرتضی: صفحہ، 67)

سقیفہ بنو ساعدہ کے اجتماع میں اصحاب حل و عقد نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے خصوصی بیعت کی اور پھر دوسرے دن لوگوں کے سامنے پیش کیا، پھر امت نے مسجد میں آپؓ سے عام بیعت کی۔

(الخلافہ والخلفاء الراشدون: صفحہ، 66/67)

سقیفہ بنو ساعدہ کے اجتماع میں جو گفتگو ہوئی اور قرارداد سامنے آئی اس سے مختلف مبادی و اصول سامنے آتے ہیں،

1: امت کی قیادت بذریعہ انتخاب و اختیار عمل میں آنی چاہیے۔

2: قیادت کی مشروعیت اور انتخاب و اختیار کے اصولوں میں سے بیعت بنیادی اصول ہے۔

3: منصب خلافت پر وہی فائز ہو گا جو دین میں مضبوط اور انتظامی و اداری امور میں مکمل اہلیت و صلاحیت رکھتا ہو۔

4: خلیفہ کا انتخاب اسلامی، شخصی، اخلاقی عناصر کے مطابق ہو۔

5: خلافت کا نسبی اور قبائلی وراثت سے تعلق نہیں۔

6: سقیفہ بنو ساعدہ کے اندر قریش کی ترجیح موجودہ حالات اور امر واقع کے مطابق تھی، جس کا خیال رکھنا ضروری ہے اور ہر اس چیز کا اعتبار کرنا ضروری ہے جو موجودہ حالات کے اعتبار سے موزوں ہو، بشرطیکہ اسلامی اصول سے متصادم نہ ہو۔

7: سقیفہ بنو ساعدہ میں جو گفتگو عمل میں آئی وہ مسلمانوں کے درمیان قائم نفسیاتی تحفظ و سلامتی کے اصولوں پر تھی۔ وہاں کوئی فتنہ و فساد، تکذیب، سازش، بدعہدی اور نقض اتفاق نہ تھا بلکہ تسلیم و رضا کا ماحول تھا، نصوصِ شرعیہ ہی اصل مرجع تھے۔

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ، للشجاع: صفحہ، 256)

تھی۔ وہاں کوئی فتنہ وفساد، تکذیب، سازش، بدعہدی اور نقض اتفاق نہ تھا بلکہ تسلیم ورضا کا ماحول تھا، نصوص شرعیہ ہی اصل مرجع تھے۔

ڈاکٹر توفیق شاوی نے واقعہ سقیفہ سے بعض ان مثالوں پر استدلال کیا ہے جو خلفائے راشدین کے دور میں اجتماعی شورائیت سے وقوع پذیر ہوئی ہیں،

سقیفہ بنو ساعدہ میں اس شورائیت کے اصول پر عمل کرتے ہوئے جس کی قرآن نے تنصیص فرمائی ہے، پہلی قرارداد جو پاس کی گئی وہ یہ تھی کہ نظامِ حکومت اور دستور سلطنت آزاد شورائیت سے پاس ہو گا۔ اسی لیے یہ اصول محل اجماع رہا اور اس اجماع کی اصل وہ قرآنی نصوص ہیں جو شورائیت کو فرض قرار دیتی ہیں، یعنی اس اجماع نے اسلامی نظام حکومت کے پہلے شرعی اصول شورائیت کو واضح کیا اور اسے ضروری قرار دیا۔ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد یہ پہلا دستوری مبتدا تھا جو بالاجماع مقرر ہوا اور یہ اجماع کتاب و سنت میں شورائیت کو واجب کرنے والے نصوص کی تائید و تطبیق تھی۔

سقیفہ بنو ساعدہ کے اجتماع میں دوسری قرارداد جو پاس ہوئی وہ یہ تھی کہ خلیفہ وقت کا انتخاب اور اس کے اختیارات کی تحدید شورائیت کے ذریعہ سے عمل میں آئے۔ یعنی آزاد بیعت جو حاکم کو ان شرائط اور قیود کے ساتھ زمام حکومت سنبھالنے کی صلاحیت تفویض کرتی ہے جو عقد بیعت یعنی دستور کے ضمن میں آتے ہیں۔ یہ دوسرا دستوری اصول تھا جو بالاجماع پہلی قرارداد کی طرح پاس کیا گیا۔

مذکورہ دونوں اصولوں کو نافذ کرتے ہوئے اس اجتماع میں حضرت ابوبکرؓ کو بحیثیت خلیفہ اوّل منتخب کیا گیا۔

(فقہ الشوری والاستشارہ: د/ توفیق الشاوی: صفحہ، 140)

پھر اس انتخاب نے آخری شکل اس وقت اختیار کی جب عام بیعت عمل میں آ گئی، یعنی جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دوسرے دن مسجد نبویﷺ میں موافقت کی اور پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان شرائط کے ساتھ اس کو قبول کیا جنہیں اس مناسبت سے دیے گئے اپنے پہلے خطبہ میں ذکر فرمایا تھا۔

صفحہ 2 از 3