مسئلہ امامت کے متعلق شیعی عقائد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ امامت کے متعلق شیعی عقائد

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 4

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ ہر امام کو اپنی موت کا علم ہوتا ہے۔ اور اپنے اختیار سے مرتا ہے۔ اگر خود نہ مرنا چاہے تو خدا نہیں مار سکتا۔ اور نا ہی کوئی امام کی مرضی کے بغیر کی اُسے قتل کر سکتا ہے۔ چنانچہ اصول کافی صفحہ 158 پر ایک مستقل باب باندھا گیا ہے۔

باب انهم يعلمون متى يموتون وانهم لا يوتون الا باختیار هم

یعنی امام جانتے ہیں کہ کب مریں گے اور وہ اپنے اختیار سے مرتے ہیں۔

مگر اہل سنت ان تمام مزعومات کی تکذیب کرتے ہیں۔ کیونکہ واقعات اس قسم کے عقائد کو جھٹلاتے ہیں۔

الف)_ اگر ائمہ کو اپنی موت وحیات کا علم ہوتا ہے تو ساری زندگی ائمہ نے تقیہ کے لباس میں کیوں گزار دی۔؟

ب)_ اگر یہ عقیدہ ٹھیک ہے تو امام حسینؓ کو رونے پیٹنے کا کا مطلب ؟ جب موت امام کے اختیار میں تھی اور جب انہیں علم تھا کہ میدان کربلا میں عبید اللّٰہ بن زیاد کی فوج نے ہمیں شہید کر دینا ہے تو عورتوں اور بچوں کو مدینۃالرسول سے ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت تھی ؟

ج)_ جب حضرت علیؓ کو ان واقعات کا علم تھا کہ میں خلافت حضرت حسنؓ کو دے رہا ہوں، حضرت حسنؓ حضرت امیر معاویہؓ کو دیں گے، امیر معاویہؓ یزید کو دے دیں گے، اور یزید میرے بیٹے حضرت حسینؓ کو شہید کروادے گا تو ابتداء ہی میں یہ کام نہ کرتے۔ اس قسم کے عقائد رکھنے سے یہ اشکالات سامنے آتے ہیں۔

دسواں عقیده

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امام منصوص من اللّٰه ہوتا ہے اور ہر ایک امام پر ایک لفافہ سر بمہر خدا تعالیٰ کی طرف سے اترتا ہے اور ہر امام اس لفافے کو کھولتا ہے، اور جو اس میں لکھا ہوا ہوتا ہے اس پر عمل کرتا ہے۔

ان الوصية تنزلت من السمآء كتابا لم ينزل على محمدﷺ كتاب مختوم الا الوصية۔

تحقیق وصیت آسمان سے لکھی ہوئی رسول اکرمﷺ پر کوئی تحریر سر بمہر سوائے وصیت ائمہ نازل نہیں ہوئی تھی۔

گیارھواں عقیدہ

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ ہر امام کے پاس ایک رجسٹر ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے انہیں ملتا ہے۔ جس میں ان کے شیعوں کے نام بمعہ ولدیت لکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ شیعہ جس جگہ کا بھی ہو۔ امام کو ان کا علم ہوتا ہے۔ چنانچہ اصول کافی صفحہ 136 پر امام رضا سے منقول ہے:

وان شيعتنا لمكتوبون باسمائهم واسماء آباء هم

تحقیق ہمارے شیعہ لکھے ہوتے ہیں اپنے ناموں کے ساتھ اور اپنے باپوں کے ناموں کے ساتھ۔

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت حسینؓ نے شیعانِ کوفہ کے نام رجسٹر سے دیکھ کر کوفہ کا سفر اختیار کیا تھا۔ ورنہ غیر شیعہ کے خطوط پر امام کب اعتبار کر سکتے ہیں۔ لہذا کوفہ سے خطوط لکھ کر حضرت حسینؓ کو بلانے والے وہی لوگ تھے جنہیں حضرت حسینؓ پہلے سے جانتے تھے پھر انہوں نے ہی دھوکہ کیا۔

بارھواں عقیدہ

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ ہر امام پر اللّٰه تعالیٰ نے ظالم بادشاہ کی بیعت کرنی لازم کردی ہے سوائے امام مہدی صاحب کے۔

چنانچہ شیعہ کی معتبر کتاب احتجاج طبرسی طبع ایران صفحہ 150 پر ملاحظہ ہو:

اما علمتہ مامنا أحد الا ويقع في عنقه بيعة لطاغية زمانه الا القائم يصلى وخلفه روح اللّٰه

کیا تجھ کو علم نہیں کہ ہم (ائمہ) میں سے کوئی نہیں مگر اس کی گردن میں امام زمانہ کے ظالم بادشاہ کی بیعت ہوتی ہے. مگر امام مہدی صاحب جس کے پیچھے حضرت عیسیٰ روح اللّٰہ نماز پڑھیں گے۔

بعینہ اسی روایت عربی کا ترجمہ فارسی زبان میں منتہی الآمال جلد 1 صفحہ 278 پر موجود ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ جب ہر امام بادشاہ ظالم کی اطاعت میں رہا تو پھر امام کیسا؟ وہ چمڑے کا تھیلا، اسم اعظم، عصائے موسیٰ اور انگشتری سلیمانی کس کام آئیں گے؟۔

تیرہواں عقیدہ

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ ساری دنیا کی عمر ایک لاکھ سال ہے۔ جنات سے لے کر تمام دنیا نے بیس ہزار سال حکومت کرنی ہے اور اَسّی ہزار سال امام مہدی صاحب نے حکومت کرنی ہے اس وقت ان اسی ہزار سالوں میں ساری دنیا پر شیعہ ہی شیعہ ہوں گے۔ امام مہدی نے تمام مردہ لوگوں کو زندہ کرنا ہے۔ سنیوں سے اور خلفائے ثلاثہ سے خوب انتقام لینا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ملاحظہ ہو حق الیقین علامہ مجلسی مقصد آٹھواں۔

میرے سنی اور شیعہ بھائیو ! حق بات یہ ہے کہ نہ امام مہدی ابھی پیدا ہوا ہے نہ ہی سر من رائی میں کوئی غار ہے۔ نہ ہی چمڑے کا تھیلا ہے اور نہ ہی ان فرضی کہانیوں کا کوئی وجود ہے۔ یہ عقل و نقل کے خلاف ہیں۔ یہ سب سبائی کمیٹی کے ممبروں کی بنائی ہوئی کہانیاں ہیں جن کا ثبوت نہ قرآن سے ملتا ہے نہ حدیث سے۔ خدا تعالیٰ ان فرضی قصوں سے بچائے۔آمین۔

چودھواں عقیدہ

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امام مہدی اس وقت دنیا میں ظاہر ہوں گے جب ساری دنیا میں تین سو تیرہ پکے سچے شیعہ موجود ہوئے اور ایسے شیعہ جو کامل مومن، مخلص، مشرق سے مغرب تک، جنوب سے شمال تک، جب بیک وقت ان کی تعداد تین سو تیرہ ہو جائے گی اسی وقت امام مہدی صاحب غار سے باہر آجائیں گے۔

ملاحظہ کو شیعہ کی معتبر کتاب احتجاج طبرسی صفحہ 123 طبع ایران

يجتمع اليه من اصحابه عدة اهل بدر ثالث مائة وثلث عشرۃ رجلا من اقاصی الأرض ان قال فاذا اجتمعت له هذه العدة من اھل الاخلاص اظھر اللّٰہ امرہ۔

ان کے پاس ان کے اصحاب میں بقدر شمار اہل بدر تین سو تیرہ مرد اطراف عالم سے جمع ہو جائیں گے۔ جس وقت تعداد مخلصین کی ان کے پاس جمع ہو جاوے گی اس وقت اللّٰه ان کے کام کو ظاہر کر دے گا۔

اب شیعہ حضرات کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ اب تک ساری دنیا میں شیعوں سے تین سو تیرہ مخلص پیدا نہیں ہو سکے۔ یہ ایران و عراق، یہ لکھنو و پاکستان جہاں جہاں شیعہ بستے ہیں، بھلا اپنے گریبان میں نظر کریں۔ پوری دنیا میں لاکھوں ایمان کا دعویٰ کرنے والو، سوچو ! آپ کی کتابیں تو تین سو تیرہ سچے اور مخلص شیعہ ہونے کا بھی انکار کر رہی ہیں۔

مسئلہ امامت سے متعلق کتب شیعہ سے چند ایک ان کے عقائد پیش کیے گئے ہیں تا کہ شیعہ عوام کو پتہ چل جائے کہ ہمیں کس دلدل میں ڈالا جا رہا ہے ۔ آج کل تو شیعیت کا تصور یہی سمجھا جاتا ہے کہ صحابہ کرامؓ پر تبرا بھیج دو اور محرم کے دس دن ماتم کر لو، پکے شیعہ بن جاؤ گے۔ اور بس۔


صفحہ 4 از 4