مسئلہ امامت کے متعلق شیعی عقائد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ امامت کے متعلق شیعی عقائد

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 4

ملاحظہ ہو کتاب بصائر الدرجات صفحہ 213

ويكون جبريل امامہ وميكائيل عن يمينه و اسرافيل عن يساره والملائكة المقربون حذاءہ و اول من بايعه محمد رسول اللّٰہﷺ

ظہور مہدی کے وقت جبریل علیہ السلام ان کے آگے ہوں گے میکائیل دائیں جانب اسرافیل بائیں جانب مقرب فرشتے ساتھ ہوں گے۔ سب سے پہلے رسول اللّٰہﷺ مہدی کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔

نیز ملاحظہ ہو حق الیقین۔

اول کے کہ با او بیعت اوکند محمد مصطفیٰﷺ باشند

یعنی پہلا شخص مہدی کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا محمد مصطفیٰﷺ ہوں گے۔

ظاہر ہے جس فرقے کا عقیدہ سید الانبیاء، رحمةللعالمين، محبوب رب العالمين، رسول مقبولﷺ کے بارے میں یہ ہو، اس کے مسلمان ہونے کے دعویٰ کی حقیقت کیا ہو سکتی ہے۔

پانچواں عقیده

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ ائمہ کے پاس تمام آسمانی کتابیں غیر محرف اپنی اصل حالت میں موجود ہوتی ہیں۔ ائمہ ان تمام کتب سماوی کے عالم ہوتے ہیں۔ اور نازل شدہ کتب کو امام اسی زبان میں پڑھتے ہیں جس زبان میں وہ نازل ہوئی تھیں مثلاً سریانی اور عبرانی زبان میں۔

ملاحظہ ہو اصول کافی صفحہ 137 پر طویل روایت ہے جس کا کچھ حصہ مندرجہ ذیل ہے :

وان عندنا علم التوراة والانجيل والزبور وتبيان ما في الالواح

امام جعفر صادق رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ ہمارے ائمہ کے نزدیک تورات، انجیل اور زبور کا علم موجود ہے اور جو کچھ تختیوں میں ہے وہ بھی ہمارے پاس موجود ہے۔

نوٹ

کبھی شیعہ حضرات حضرت فاروق اعظمؓ نے پر اعتراض کرتے ہیں۔ کہ اسے تورات کے ساتھ بڑا شغف تھا جب کہ رسول خداﷺ نے حضرت عمرؓ کو روک دیا تھا، اب فرمائیں کہ فاروق اعظمؓ تو ایک دفعہ تورات کو صرف دیکھ لیں اور رسول پاکﷺ کے منع کرنے پر اس کے اوراق کو ہی پھاڑ ڈالیں تب بھی آپ کے اعتراض کے مورد بن جائیں۔ اب فرمائیں بقول آپ کے آپ کے ائمہ کا کیا حال ہو گا۔ جن کو تورات، زبور، انجیل صحف ابراہیم اور باقی صحف کا علم بھی ازبر تھا۔

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

چھٹا عقیدہ

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ ائمہ کو اسم اعظم یاد ہوتا ہے اور اس کے بہتر خروف ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وزیر آصف کو صرف ایک حرف یاد تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دو حرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چار اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آٹھ، حضرت نوح علیہ السلام کو پندرہ اور حضرت آدم علیہ السلام کو پچیس حروف یاد تھے۔ (جن کو بوقت ضرورت وہ استعمال کرتے تھے) مگر ائمہ اثناءعشریہ کو وہ بہتر کے بہتر حروف یاد ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ عصائے موسیٰ، انگشتری سلیمان علیہ السلام بھی ائمہ کے پاس ہوتی ہے۔

ملاحظہ ہو اصول کافی صفحہ 140

سمعت ابا عبد اللّٰہ علیه السلام ان عيسى بن مريم اعطی حرفين كان يعمل بهما و اعطى موسى أربعة احرف واعطى ابراهيم ثمانية احرف وا على نوح خمسةعشر حرفا و اعطی آدم خمسةوعشرين حرفا -

راوی کہتا ہے میں نے امام جعفر سے سنا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو (اسم اعظم) دو حرف دیے گئے جن کے ذریعے وہ عمل کرتے تھے۔ اور موسیٰ علیہ السلام کو چار، ابراہیم علیہ السلام کو آٹھ نوح علیہ السلام کر پندرہ اور آدم علیہ السلام کو پچیس حروف عطا کیے گئے تھے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب انبیاء نے اپنے اپنے وقت میں ایک ایک، دو دو اور چار چار حرفوں کو پڑھ کر ساری زندگی باطل کا مقابلہ کیا اور کامیابی وکامرانی انہیں حاصل ہوتی رہی۔ واللہ اعلم۔ بارہ اماموں نے ان بہتر حرفوں کو کیوں نہ پڑھا۔ جبکہ ان سے خلافت چھینی گئی، مصلے، محراب وغیرہ پر غیروں نے قبضہ کرلیا، فدک کی جاگیر ہاتھ سے جاتی رہی ساری زندگی تقیہ کی آڑ میں چھپ چھپا کر زندگی گزاری۔ آخر اسم اعظم کے بہتر حروف کس لیے یاد کیے تھے؟

ساتواں عقیدہ

شیعوں کے نزدیک ائمہ "عالم ماکان و ما یکون" ہوتے ہیں۔ یعنی جو کچھ ہو چکا اور جو قیامت تک اور قیامت کے بعد بھی ہوگا سب چیزوں کا علم اماموں کو ہوتا ہے ۔

جیسے اصول کافی صفحہ 159 پر مستقل باب باندھا گیا ہے :

باب ان الائمة يعلمون ما كان وعلم ما يكون

اس باب کے تحت روایات کثیرہ ہیں، بطور نمونہ ایک روایت پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔

ملاحظہ ہو اصول کافی صفحہ 160

سمعوا ابا عبد اللّٰہ علیه السلام يقول اني لا علم مافي السموت ومافي الأرض واعلم ما في الجنة واعلم مافي النار واعلم ما كان وما یکون

راوی کہتے ہیں کہ ہم نے امام جعفر علیہ السلام سے سنا ہے کہ فرمایا امام نے جو کچھ بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہوتا ہے میں سب جانتا ہوں اور جو کچھ جنت یا جہنم میں ہے جانتا ہوں، اور جو کچھ ہوچکا ہے یا ہونے والا ہے، سب جانتا ہوں۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر امام تمام علوم جانتے ہیں اور جو کچھ ہو چکا ہے، یا ہونے والا ہے سب جانتے ہیں تو یقیناً امام حسینؓ کو کربلا میں ہونے والے واقعات کا علم بھی پہلے سے ہو گا۔ تو انہوں نے سب کچھ جانتے ہوئے کربلا کا سفر کیا اور مصائب و آلام کو عمداً اختیار کیا تو اس سلسلے میں رونے رولانے کی ضرورت نہیں ہے۔

آٹھواں عقیده

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امام ہر شخص کو دیکھ کر پہچان لیتا ہے کہ یہ جنتی ہے یا دوزخی، منافق ہے یا مسلمان، شیعہ ہے یا سنی۔ اگر ان سے کوئی مسئلہ پوچھے تو دوزخیوں کو وہ مسئلہ بتاتے ہیں جس پر عمل کر کے وہ دوزخ میں جاتا ہے۔ اور بہشتیوں کو وہ مسئلہ بتاتے ہیں جس پر عمل کرنے سے وہ بہشت میں جاتا ہے۔

ملاحظہ ہو اصول کافی صفحہ 277:

ليس يسمع شيئا من الأمر ينطق به الاعرفة ناج او هالك فذالك يجيبهم بالذي يجيبهم

امام جب کسی چیز کو کہ جب بولی جاوے سنتا ہے تو پہچان لیتا ہے کہ وہ بولنے والا جنتی ہے یا دوزخی اس لیے ان کو جواب بھی ایسا ہی دیتا ہے۔

نوٹ:

یہ عجب معمہ ہے، حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ روذخی شخص کو امام ایسے کلمات کی تلقین کرتے جن پر عمل پیرا ہو کر وہ گناہوں سے تائب ہو جاتا۔ اور نیک اعمال کر کے جنت کا مستحق بھی جاتا۔ اگر امام نے دوزخی شخص کو دوزخ میں لے جانے والے مسائل ہی بیان کرنے ہیں اور امام مفترض الطاعۃ ہوتا ہے تو بھلا اس سے بیچارے اس شخص کا کیا قصور ہو گا۔؟

نواں عقیدہ

صفحہ 3 از 4