مسئلہ امامت کے متعلق شیعی عقائد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسئلہ امامت کے متعلق شیعی عقائد

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 4

دخولِ جنت کا مدار اللّٰہ اور رسولﷺ کی اطاعت کو ٹھہرایا گیا ہے۔ اطاعت امام کو دخولِ جنت کا مدار نہیں بنایا گیا۔ نیز میدان محشر میں الم يَاتِكُمُ رُسُلٌ مِنْكُمْ کے فقرے سے سوال کیا جائے گا کہ کیا تمہارے پاس رسول تم میں سے آئے تھے یا نہیں۔؟ امامت کے متعلق سوال نہیں ہو گا۔

مذکورہ بالا قرآنی آیات سے ثابت ہوا کہ مؤمن بننے کے لیے ایمان باللّٰہ و ایمان بالرسول ہی کافی ہے۔ امامت کے ساتھ ایمان ضروری نہیں۔

دوسرا یہ ثابت ہوا کہ جس اطاعت کو دخول جنت کا سبب بنایا گیا ہے وہ اطاعت صرف اللّٰہ اور رسولﷺ کی ہی ہے۔ امام کی اطاعت کا وہاں ذکر نہیں۔

تیسرا یہ ثابت ہوا کہ قیامت کے دن سوال ایمان باللّٰہ و بالرسول سے ہی ہو گا۔ امام کی امامت کے متعلق سوال نہیں ہو گا۔ البتہ ملکی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے اُولی الامر (یعنی مسلمانوں کے حاکم) کی اطاعت اور ملکی قانون کا احترام بھی ضروری ہے، بشرطیکہ خلافِ شرع نہ ہو.

دوسر ا عقیده

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ کسی وقت بھی دنیا امام کے وجود سے خالی نہیں ہو سکتی رسول خدا ﷺ کے بعد قیامت تک ہر ہر زمانے کے لیے ایک ایک امام کا تقرر ہو چکا ہے۔ جن کی تعداد کُل بارہ ہے۔ بارہویں امام کے خاتمے پر دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ان بارہ اماموں کے نام یہ ہیں :

(1) حضرت علیؓ

(2) حضرت حسنؓ

(3) حضرت حسینؓ

(4) حضرت زین العابدین رحمہ اللّٰہ

(5) حضرت محمد باقر رحم اللّٰہ

(6) حضرت محمد جعفر رحمہ اللّٰہ

(7) حضرت موسیٰ کاظم رحمہ اللّٰہ

(8) حضرت موسیٰ رضا رحمہ اللّٰہ

(9) حضرت محمد تقی رحمہ اللّٰہ

(10) حضرت علی نقی رحمہ اللّٰہ

(11) حضرت حسن عسکری رحمہ اللّٰہ

(12) حضرت مہدی

اہل سنت کہتے ہیں کہ ہر زمانے کے لیے امام اور امیر کی ضرورت ہے لیکن محض اس لیے کہ انتظامی اور سیاسی امور اور ملکی نظام برقرار رہے مگر ان کی تعدا کسی خاص عدد میں بند نہیں ہے۔

تیسرا عقیده

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ اماموں کے پاس قرآن وحدیث کے علاوہ اور بھی بہت سے علوم کے وسائل ہوتے ہیں۔ ازاں جملہ یہ کہ اماموں کے پاس مصحف فاطمہؓ، کتاب علیؓ اور چمڑے کا ایک بہت بڑا تھیلا ہوتا ہے جس میں تمام اولین و آخرین کے علوم بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور فرشتے بھی ان کے پاس آتے ہیں اور ہر جمعرات انہیں معراج ہوتی ہے۔ اور ہر شب قدر میں انہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کتاب ملتی ہے۔ جس میں سال بھر کے احکام لکھے ہوئے ہوتے ہیں۔

چنانچہ اصول کافی طبع نولکشور صفحہ146 پر ایک مستقل باب ہے، جس کا عنوان یہ ہے۔ باب فيه ذكر الصحيفة والجفر والجامعہ ومصحف فاطمہؓ اس باب میں سب سے پہلی روایت ابو بصیر صاحب کی ہے کہ میں ایک دن امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس گیا اور کہا کہ میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ یہاں کوئی غیر آدمی بھی نہیں ہے تو بطور راز امام صاحب نے انہیں سب کچھ بتا دیا۔ چنانچہ اس طویل روایت کے چند فقرے یہ ہیں:

ثم قال ابومحمد وان عندناالجامعة وما يدريهم ماالجامعه قال قلت جعلت فداك وماالجامعة قال صحيفة طولها سبعون ذراعا بذراع رسول اللّٰہﷺ واملا به من فلق فيه خط علیؓ بيمينه فيها كل حرام و حلال وكل شيئ يحتاج اليه الناس حتى الارش في الخدش وضرب به فقال لى تاذن یا ابامحمد قال قلت شئت قال تغمزنی بیدہ وقال حتى ارش هذا كانة مغضب قال وان عندنا جفر وما يدريهم ماالجفر قال قلت ماالجفر قال وعاء من ادم فيه علم النبيين والوصيين وعلم العلماء الذين مضوا من بني اسرائیل ثم قال وعندناالمصحف فاطمہؓ وما يدريهم ماالمصحف فاطمہؓ قال مصحف فيه مثل قرآنكم هذا ثلث مرات واللّٰہ ما فيه من قراٰنکم حرف واحد

پھر امام نے فرمایا اے ابو محمد ہمارے پاس ایک جامعہ ہے اور لوگوں کو کیا معلوم جامعہ کیا چیز ہے۔ ابو محمد کہتے ہیں کہ میں آپ پر فدا ہوں، جامعہ کیا چیز ہے۔؟ آپ نے فرمایا جامعہ ایک کتاب ہے جس کا طول ستر ہاتھ ہے۔ رسول خداﷺ کے ہاتھ سے، رسول ﷺ کے اپنے منہ بولی ہوئی اور علیؓ کے داہنے ہاتھ کی لکھی ہوئی باتیں اس میں ہیں۔ یہاں تک کہ زخم سے چھل جانے کی دیت بھی اس میں ہے۔ پھر امام نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے مجھے فرمایا اے ابو محمد کیا تم اجازت دیتے ہو میں نے کہا میں آپ پر فدا ہو جاؤں میں تو آپ ہی کا ہوں، آپ جو چاہیں کریں پھر آپ نے گویا کہ غصہ کی حالت میں اپنے ہاتھ سے مجھے دبایا اور فرمایا ہاں اس کی دیت بھی۔ پھر امام نے فرمایا ہمارے پاس جفر بھی ہے اور لوگوں کو کیا معلوم جفر کیا ہے ۔ میں نے کہا جفر کیا چیز ہے؟ امام نے فرمایا وہ چمڑے کا تھیلا ہے جس میں نبیوں اور وصیوں کا علم ہے اور جو علماء بنی اسرائیل میں گزرے ہیں ان سب کا علم اس میں ہے۔ پھر امام نے فرمایا ہمارے پاس مصحف فاطمہؓ ہے اور لوگوں کو کیا معلوم کہ مصحف فاطمہؓ کیا چیز ہے فرمایا وہ مصحف ہے تو تمہارے اس قرآن سے تین گنا زیادہ اور اللّٰہ کی قسم تمہارے اس قرآن کا ایک حرف بھی اس میں نہیں ہے۔

اس روایت میں کتاب علیؓ، چمڑے کا تھیلا اور مصحف فاطمہؓ کا ذکر آپ نے پڑھ لیا اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ستر گز لمبا قرآن حضرت علیؓ کا اب امام مہدی کے پاس موجود ہے تو اس کے رکھنے کے لیے رحل بھی اتنی بڑی ہی بنوائی ہوئی ہوگی اور پھر رحل اور قرآن رکھنے کے لیے جگہ بھی اتنی ہی ہوگی واللّٰہ اعلم. سرمن رائی والی مختصر ہی غار ہر چیز کو کیسے برداشت کرتی ہوگی۔

باقی رہا فرشتوں کی آمد و رفت ائمہ کی طرف ہوتی ہے۔ تو اس کے لیے اصول کافی135 ملاحظہ فرما ہے :

يا حيثمة نحن شجرة النبوت و بيت الرحمة ومفاتيح الحكمة و معدن العلم و موضع الرسالۃ و مختلف الملائکۃ

امام جعفر نے فرمایا اے حیثمہ ہم لوگ نبوت کے درخت، رحمت کے گھر، حکمت کی کنجیاں اور علم کے معدن ہیں۔ اور فرشتوں کی آمد ورفت ہمارے یہاں ہے۔

چوتھا عقیدہ

شیعوں کا عقیدہ ہے کہ نبوت کی طرح امام کا تقرر بھی من جانب اللّٰه ہوتا ہے۔ پہلا امام حضرت علیؓ ہے، اور آخری بارہواں امام مہدی ہے۔ امام مہدی کے خاتمہ پر دنیا کا خاتمہ ہے۔ جب امام مہدی صاحب غار سے برآمد ہوں گے تو پہلے پہل رسول خداﷺ کو زندہ کریں گے۔ اور رسول پاکﷺ امام مہدی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں گے۔ نعوذ باللّٰہ۔ اور ظہور مہدی کے وقت ان کی حالت یہ ہوگی۔

صفحہ 2 از 4