حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں وضع کردہ روایات - ردِ…

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں وضع کردہ روایات

  مولانا ثناء اللہ شجاع آبادی

صفحہ 4 از 4

ترجمہ: کتنی ہی حدیثیں ہیں جن کے راوی بہت ہیں اور اس کے کئی کئی طریق  ہیں اور پھر بھی ضعیف ہی ہیں درجہ صحت کو نہیں پہنچتی ہیں جیسے حدیث طیر، حدیث الحاجم والمحجوم  اور حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ بلکہ ان کے جس قدر طرق بڑھیں گے اتنا ہی ضعف بڑھتا جائے گا ۔ کثرت رواة سے وہاں ترجیح ہوتی ہے جہاں راوی دونوں طرف سے احتجاج کے لائق  ٹھہریں۔

حافظ ابن تیمیہ بھی اسی صدی کے ہیں وہ بھی اس روایت پر مطمئن نہیں ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:

فلایصح من طریق الثقات اصلاً (منہاج السنہ: 86/4 مصر)

یہ حدیث ثقہ روایوں کی روایت سے کہیں درجہ صحت کو نہیں پہنچتی

یہ حدیث اس درجہ ضعف میں ہے کہ اس سے کسی عقیدے کے اثبات میں حجت نہیں پکڑی جا سکتی چہ جائیکہ اسے خلافت جیسے اہم مسئلے میں نص قرار دیا جا سکے۔

عقیدہ قائم کرنے کے لیے قطعی دلائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ظنی دلیل سے اعمال تو ترتیب پا سکتے ہیں لیکن عقائد نہیں بنتے۔ خبر واحد صحیح بھی ہو تو عقیدہ ثابت کرنے کے لیے کافی  نہیں اور یہاں یہ روایت ایک سند متصل مرفوع سے بھی ثابت نہیں۔

13.....عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال یا ام سلمة ان علیا لحمہ لحمی وھو بمنزلة ھارون بن موسی منی غیر انی لانبی بعدی، اخرجہ عقیلی فی الضعفاء (منہاج السنہ: 47/3)

ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنہ حضورﷺ سے روایت کی کہ اے ام سلمہ علی رضی اللہ عنہ کا چمڑا میرا چمڑا ہے اور وہ میرے لیے اسی درجے میں ہے جس میں ھارون  موسی کی نسبت سے تھے۔ البتہ وہ میرے بعد نبی نہ ہو گا۔ عقیلی نے اسے کتاب الضعفاء میں نقل کیا ہے۔

اس میں آفت داہر بن یحیی الرازی کی طرف سے آئی ہے. حافظ ذہبی اس کے بارے میں لکھتے ہیں:

رافضی بغیض لایتابع علی بلایاہ  (میزان الاعتدال 3/3، حرف الدال)

ہاں اس روایت کا دوسرا حصہ ھو بمنزلة ھارون من موسی صحیح ہے اخرجہ البخاری۔

نقطہ: اکثر شیعہ اس سے حضرت علیؓ کی خلافت اول بھی ثابت کرتے ہیں تو ہم پوچھتے ہیں حضرت ہارون علیہ السلام تو حضرت موسی علیہ السلام کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تھے پھر حضرت علیؓ حضرت ہارون علیہ السلام کی طرح کیسے ہوئے؟

14: عبداللہ بن داہر شعبی کی سند سے ایک روایت یہ بھی ملتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا: 

ھذا اول من آمن بی واول من یصافحنی یوم القیامۃ وھو فاروق  ھذہ الامۃ بین الحق و الباطل وھو یعسوب المومنین و المال یعسوب الظلمة وھو الصدیق الاکبر وھو خلیفتی من بعدی.

ترجمہ:  یہ پہلا شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا اور پہلا شخص ہے جو مجھ سے قیامت کے دن مصافحہ کرے گا۔ یہ اس امت کا فاروق ہے جو حق اور باطل میں فیصلہ کرنے والا ہے، یہ مومنین کا سردار ہے، یہی صدیق اکبر ہے جو میرے بعد میرا خلیفہ ہوگا۔

 اس پر علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

فھذا باطل لم ار احدا ذکرا داھراً ولا ابن ابی حاتم وانما البلاء من ابنہ عبداللہ فانہ متروک (میزان الاعتدال: 44/3)

یہ روایت باطل ہے اور میں نے نہیں دیکھا کہ کسی کو داہر کا ذکر کیا ہو، نہ ابن ابی حاتم نے، اور جو مصیبت آئی ہے وہ اس کے بیٹے عبداللہ کے طرف سے آئی ہے کیونکہ اس کی روایت ترک کر دی گئی ہے۔

15 روی ابو داود الرھاوی انہ سمع شریکا یقول علی خیر البشر فمن ابی فقد کفر (اخرجہ الخطیب فی التاریخ: 421/7،  او ردہ ابن جوزی فی الموضوعات، 378/1)

حافظ زہبی لکھتے ہیں

قلت بعض الکذابین یرویہ مرفوعا (میزان الاعتدال: 374/3)

ترجمہ میں کہتا ہوں بعض کذاب اس کو مرفوع بھی روایت کرتے ہیں۔


صفحہ 4 از 4