مطالبہ میراث کے سلسلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کردار -…

مطالبہ میراث کے سلسلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کردار

  مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

صفحہ 2 از 3

(4)  چونکہ شیعہ عقیدے کے مطابق انہیں ماکان وما یکون کا علم تھا اس لیے وہ  جانتے تھے کہ اب کی بار حضرت عمرؓ کے ہاتھوں انہیں یہ ذلت اُٹھانا پڑے گی پھر بھی انہیں اکیلے ہی بھیجا، صاف ظاہر ہے کہ انہیں اپنی بیوی کی ذلت و رسوائی سے خوشی ہوتی تھی۔ اگر ایسانہیں تو ماکان ومایکون والی بات بناوٹی ہے۔ ان میں سے ایک صورت لازماً تسلیم کرنی پڑے گی۔

(5)  مہاجرین و انصار کی امداد کی کیفیت تو ایک دو دن میں بھی معلوم ہو سکتی تھی اس لیے یہ چلہ پورا کرنے میں انہیں ذلیل و رسوا کرنے کے علاوہ کوئی مقصد نظر نہیں آتا۔

(6) شیرِ خدا ہونے کے باوجود اپنی بیوی سے ایک غیر آدمی کا یہ سلوک دیکھ کر ٹس سے مس نہ ہونا عجیب سی بات ہے کہ ایک عام آدمی کی بیوی سے بھی اگر یہ سلوک کیا جائے تو اس کی غیرت و حمیت جوش میں آجاتی ہے، کیا شیعہ روایات کے مطابق شیر خدا میں اتنی غیرت اور حمیت بھی نہ تھی؟

(7)  حضرت علیؓ کی حضرت فاطمہؓ سے اتنی بیزاری، ایسی بے رُخی اور اس قدر بیگانگی ان کے باہمی تعلق پر بھی روشنی ڈالتی ہے اور حضرت علیؓ کی شجاعت، مردانگی اور غیرت و حمیت کا بھی ایک بھیانک نقشہ سامنے آتا ہے۔ اہلِ بیت کی محبت کا دم بھرنے والوں نے اہلِ بیت پر کیا ستم ڈھایا ہے!

حضرت علیؓ کے اس کردار کے علاوہ یہاں ایک ضمنی بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے تکرار کے بعد سہی لیکن فدک دے تو دیا پھر شیعہ حضرات انہیں اب تک معاف کیوں نہیں کرتے۔ ان کے پے در پے حملے حضرت ابوبکر صدیقؓ پر کیوں ہوتے ہیں؟

اس روایت سے حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے قلبی تعلق اور دِلی محبت کا نقشہ تو سامنے آگیا مگر اس خاکے میں جو مزید رنگ بھرا گیا وہ بھی ملاحظہ ہو۔

حضرت فاطمہؓ نے جب حضرت  عمرؓ کے ہاتھوں اتنی ذلت اُٹھائی (بقول شیعہ) تو گھر آ کر اپنے محبوب شوہر، شیرِ خدا اور امام برحق، مفترض الطاعة سے خطاب فرمایا:

يا بن أبي طالب، اشتملت شملة الجنين، وقعدت حجرة الظنين

ای پسر طالب خویشیتن را بشملہ در پیچیدی مانند جنین در رحم وروی از خلق نہفتی چوں مردم متہم ۔

(احتجاج طبرسی اور ناسخ التواریخ صفحہ 131۔ 132 جلد 4 از کتاب دوم)

حق الیقین کی عبارت یہ ہے:

مانند جنین در رحم پردہ نشین شدہ و مثل خائباں یا حائضاں در خانہ گریختہ۔

خیال رہے کہ یہ خطاب دین سے نا آشنا بیوی کا اپنے شوہر سے نہیں بلکہ خاتونِ جنت نے شیرِ خدا اور امام مفترض الطاعۃ سے کیا ہے. ان الفاظ میں تلاش کیجیۓ کہ حضرت فاطمہؓ کے دل میں حضرت علیؓ کی شجاعت اور بہادری کا نقشہ کیا تھا، آپؓ کے زہد و تقویٰ کا تصور کیا تھا اور اپنے خاوند سے محبت کتنی تھی۔

جانبین کی سیرت و کردار اور ان کے باہمی تعلقات کا جو نقشہ شیعہ روایات میں کھینچا گیا ہے اس کے متعلق انسان سوچ میں پڑجاتا ہے کہ ایک طرف یہ عقیدہ کہ شیرِ خدا سات زمینوں کو اُٹھانے والا، قلعہ خیبر فتح کرنے والا، باب قلعہ کو اُکھاڑ پھینکنے والاحتیٰ کہ لا فتی الا علیؓ لا سیف الا ذوالفقار

دوسری طرف یہ نقشہ کہ بیوی (جو خاتم الانبیاءﷺ کی لختِ جگر ہے) کی توہین و تذلیل ہوتی ہے بلکہ خود کی جاتی ہے اسے مارا پیٹا جاتا ہے حتیٰ کہ اسقاطِ حمل ہو جاتا ہے مگر نہ خونِ حیدری جوش میں آتا ہے نہ ذوالفقارِ حیدری نیام سے باہر آتی  غیرت و حمیت کی ایسی مثال دنیا میں شاید ہی کہیں ملے۔

پھر خاتونِ جنت سے وہ الفاظ منسوب کیے جاتے ہیں کہ اپنے خاوند کو ان الفاظ سے مخاطب کرنا ایک جاہل گنوار اور پھوہڑ بیوی کے متعلق بھی تصور میں نہیں آسکتے۔

ان قابلِ احترام ہستیوں کی سیرت و کردار کا وہ بیان جو حقائق پر مبنی ہے اگر سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روایات میں بیان کردہ تصویر کے دونوں رُخ شیعہ وگوں نے محض زیب داستاں کے لیے وضع کیے ہیں۔ محبت اہلِ بیت کے دعویٰ کرنے کے ساتھ ساتھ اہلِ بیت سے دشمنی کا حق ادا کر دیا۔

یہاں ایک اور عقدہ بھی کھل رہا ہے شیعہ حضرات نے یہ اتہام باندھا ہے کہ حضرت فاطمہؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ناراض ہو گئیں اور راوی کے اس قول "غضبت فاطمةؓ " کو اس اتہام کی بنیاد بنایا ہے۔ ساتھ ہی یہ حقیقت ہے کہ حضرت فاطمہؓ کا اپنا قول کہ میں ابوبکر صدیقؓ سے ناراض ہوں آج تک کوئی شیعہ پیش نہیں کرسکا۔ صرف ایک راوی کے اپنے قول اور اپنی راۓ پر لوگوں نے یہ طوفان اُٹھایا ہے۔ اب ذرا ان الفاظ پر غور کیجیے جو حضرت فاطمہؓ نے حضرت علیؓ کو مخاطب کرتے ہوۓ فرمایا۔ ان الفاظ سے پیار جھلک رہا ہے یا غصہ اور ناراضگی۔ پھر یہ الفاظ کسی راوی کے نہیں بلکہ حضرت فاطمہؓ کے اپنے الفاظ ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ تو حضرت فاطمہؓ کی فرضی ناراضگی کی وجہ سے ملزم ٹھہرے تو حضرت فاطمہؓ کی حقیقی ناراضگی کے اظہار سے حضرت علیؓ کی سیرت کو کیسے بچاؤ گے؟

اس اندازِ گفتگو کو حضرت فاطمہؓ کی طرف منسوب کرنا انؓ کی سیرت پر بہت بڑا حملہ ہے اس لیے اس داغ کو دھونے کی خاطر ایک تاویل کی گئی ہے:

بحار الانوار: جلد 29، صفحہ 224 کتاب الفتن اور حق الیقین

فأقول: يمكن أن يجاب عنه: بأن هذه الكلمات صدرت منها عليها السلام لبعض المصالح، ولم تكن واقعا منكرة لما فعله، بل كانت راضية، وإنما كان غرضها أن يتبين للناس قبح أعمالهم وشناعة أفعالهم، وأن سكوته عليه السلام ليس لرضاه بما أتوا به.

ترجمہ: میں کہتا ہوں ممکن ہے ان کی طرف سے یہ جواب دیا جاۓ کہ یہ کلمات کسی مصلحت کے تحت ان کی زبان سے نکلے، حقیقت میں حضرت فاطمہؓ کو حضرت علیؓ کا رویہ نا پسند نہیں تھا بلکہ خوش تھیں ان کی غرض یہ تھی کہ لوگوں کے سامنے حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ کے افعالِ قبیح کا اظہار کریں۔ اور حضرت علیؓ کا خاموش رہنا در حقیقت حضرت فاطمہؓ کے رویہ پر رضامندی کے طور پر تھا۔

حق الیقین کی عبارت یہ ہے:

مٶلف گوید کہ دریں مقام تحقیق بعض از امور ضرور است مادر جواب گوئیم کہ ایں معاوضہ محمول بر مصلحت است از براۓ آنکہ مردم بدانند کہ حضرت امیر ترک خلافت برضاۓ خود نکروہ و بغصب فدک راضی نبودہ

اس سے اونچی بات صاحب ناسخ التواریخ نے بتا دی کہ:

مکشوف باد کہ اسرار اہلِ بیت مستور است از مدرکات امثال ما مردم

خوب سمجھ لیجیۓ کہ اہلِ بیت کے اسرار ہم جیسے لوگوں کی سمجھ سے باہر ہیں۔

صفحہ 2 از 3