مطالبہ میراث کے سلسلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کردار -…

مطالبہ میراث کے سلسلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کردار

  مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ

صفحہ 1 از 3

مطالبہ میراث کے سلسلے میں حضرت علیؓ کا کردار

اس واقعہ کا خلاصہ ملا باقر مجلسی نے اپنی کتاب "بحار الانوار" صفحہ101 کتاب الفتن میں الاختصاص سے نقل کیا ہے:

عن عبد الله بن سنان، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: لما قبض رسول الله صلى الله عليه وآله وجلس أبو بكر مجلس، بعث إلى وكيل فاطمة صلوات الله عليها فأخرجه من فداك.

فأتته فاطمة عليها السلام ۔۔۔۔ فقال: إن النبي (س) لا يورث.

فرجعت إلى علي عليه السلام فأخبرته، فقال: ارجعي إليه وقولي له:

زعمت أن النبي صلى الله عليه وآله لا يورث [وورث سليمان داود] (7)، وورث يحيى زكريا، وكيف لا أرث أنا أبي؟! فقال عمر: أنت معلمة، قالت: وإن كنت معلمة فإنما علمني ابن عمي ۔۔۔۔ قالت: فان فدك إنما هي صدق بها علي رسول الله صلى الله عليه وآله، ولي بذلك بينة.

فقال لها: هلمي ببينتك. قال: فجاءت بأم أيمن وعلي عليه السلام، ۔۔۔۔ثم خرجت وحملها علي على أتان عليه كساء له خمل، فدار بها أربعين صباحا في بيوت المهاجرين والأنصار والحسن والحسين عليهما السلام معها، ۔۔۔ فانتهت إلى معاذ بن جبل فقالت: يا معاذ بن جبل! إني قد جئتك مستنصرة، ۔۔۔۔ قال: قلت: وما يبلغ من نصرتي أنا وحدي، ۔۔۔ ثم انصرفت.

فقال علي عليه السلام لها: ائتي أبا بكر وحده فإنه أرق من الآخر، ۔۔۔۔۔۔، قال: صدقت، قال:

فدعا بكتاب فكتبه لها برد فدك (4).

فخرجت والكتاب معها، فلقيها عمر فقال: يا بنت محمد! ما هذا الكتاب الذي معك؟ فقالت: كتاب كتب لي أبو بكر برد فدك، فقال: هلميه إلي، فأبت أن تدفعه إليه، فرفسها برجله - وكانت عليها السلام حاملة بابن اسمه: المحسن - فأسقطت المحسن من بطنها، ثم لطمها، فكأني أنظر إلى قرط في أذنها حين نقف، ثم أخذ الكتاب فخرقه.

فمضت ومكثت خمسة وسبعين يوما مريضة مما ضربها عمر، ثم قبضت.

(بحار الانوار: صفحہ 189-192)

ترجمہ: عبد اللہ بن سنان حضرت جعفر صادق رحمہ اللّٰہ سے بیان کرتا ہے کہ جب رسولِ کریمﷺ دنیا سے رخصت ہوۓ اور حضرت ابوبکرؓ ان کے جانشین ہوۓ تو انہوں نے حضرت فاطمہؓ کے وکیل کو فدک سے نکال دیا تو وہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس فدک کے مطالبہ کے لیے آئیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حدیثِ رسولﷺ سنائی کہ انبیاءؑ کسی کو وارث نہیں بناتے۔ وہ حضرت علیؓ کے پاس لوٹ گئیں انہیں بتایا۔

حضرت علیؓ نے کہا پھر جاؤ اور کہو کہ آپ کا خیال ہے کہ نبی میراث نہیں چھوڑتے، حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے والد داؤد کے وارث ہوۓ، حضرت یحییٰ علیہ السلام اپنے والد حضرت زکریا علیہ السلام کے وارث ہوۓ، میں اپنے باپ کی وارث کیوں نہیں ہو سکتی۔۔؟ حضرت عمرؓ نے کہا تمہیں پڑھایا گیا ہے۔ حضرت فاطمہؓ نے کہا اگر ایسی بات ہے تو مجھے میرے ابنِ عم علیؓ نے پڑھایا ہے۔ فدک تو رسولِ کریم ﷺنے مجھے دے دیا تھا میرے پاس اس کا ثبوت ہے پھر ام ایمن اور سیدنا علیؓ آۓ۔۔۔۔ پھر آپؓ چلی گئیں، پھر حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ کو گدھے پر سوار کیا جس پر ذرا سا کپڑا تھا اور چالیس روز تک مہاجرین و انصار کے دروازوں پر پھرایا اور حسنینؓ بھی ان کے ساتھ تھے۔ آپؓ معاذ بن جبلؓ کے ہاں پہنچیں اور امداد طلب کی، انہوں نے کہا میں اکیلا مدد نہیں کرسکتا۔ آپؓ لوٹیں تو حضرت علیؓ نے کہا کہ ابوبکرؓ کے پاس تنہائی میں جاؤ، وہ دوسرے (عمرؓ) کی نسبت زیادہ رقیق القلب ہے۔ وہ گئیں، بات کی تو ابوبکرؓ نے ان کے حق میں وثیقہ لکھ دیا۔ جب وہ تحریر لے کر واپس آئیں تو راستے میں حضرت عمرؓ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا: اے دخترِ رسولﷺ!! آپؓ کے پاس یہ کیا تحریر ہے؟  کہا: ابوبکر صدیقؓ نے مجھے فدک کی جاگیر لوٹا دی ہے، کہا: ادھر لاؤ مجھے دو. حضرت فاطمہؓ نے دینے سے انکار کر دیا تو عمرؓ نے انہیں ٹھوکر ماری۔ وہ حاملہ تھیں،  ان کا اسقاطِ حمل ہو گیا۔ پھر انہیں تھپڑ مارے، پھر وہ وثیقہ لے لیا، پھاڑ ڈالا اور چل دیئے۔ اس واقعہ کے بعد 75 روز تک حضرت فاطمہؓ زندہ رہیں اور اسی مرض میں وفات پا گئیں۔ إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔ 

واقعہ کی اس تفصیل سے چند اُمور کی وضاحت ہوتی ہے:-

(1) جب حضرت فاطمہؓ کو معلوم ہوا کہ ان کے وکیل کو فدک سے نکال دیا گیا ہے تو وہ مطالبہ لے کر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس اکیلی گئیں۔

(2)  جب وہاں سے ناکام واپس آئیں تو حضرت علیؓ نے ان کو دلائل بتاکر دوبارہ اکیلے بھیجا اور خود ساتھ نہیں گئے۔ 

(3)  پھر حضرت علیؓ گواہ کی حیثیت سے گئے مگر یہ ظاہر نہیں کہ انہوں نے شہادت کیا دی۔ 

(4) حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ کو گدھے پر سوار کر کے نہایت ذلت آمیز صورت میں 40 دن تک مہاجرین اور انصار کے دروازوں پر پھرایا جب کہ حضرات حسنینؓ بھی ساتھ تھے۔

(5)  اس ذلت و رسوائی سے پھرانے کا مقصد یہ نظر آتا ہے کہ مہاجرین و انصار کے سامنے اپنی مظلومیت کا اظہار کر کے ان سے امداد طلب کی جاۓ۔

(6)  اس دوران انہوں نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے امداد طلب کی کہ فدک لے دیں۔ 

(7)  واپسی پر پھر حضرت علیؓ نے مشورہ دیا کہ صرف حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس جاؤ۔ اس مرتبہ بھی خود ساتھ  نہیں گئے۔

(8)  حضرت فاطمہؓ اس مرتبہ گئیں تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے وثیقہ لکھ دیا۔

(9)  حضرت عمرؓ سے سرِ راہ ملاقات ہوئی توانہوں نے وثیقہ چھین کر پھاڑ دیا۔

(10) اسی پر بس نہیں بلکہ حضرت عمرؓ نے حضرت فاطمہؓ کا  گریبان پکڑ کر کھینچا، تھپڑ مارا پھر لات ماری جس سے اسقاط حمل ہوگیا۔

(11) واپسی پر حضرت علیؓ کو سب ماجرا سنایا مگر ان پر کچھ اثر نہ ہوا۔

ان اُمور سے یہ نتائج اخذ ہوتے ہیں

(1)  حضرت علیؓ کو حضرت فاطمہؓ کی عزت کا ذرا بھر خیال نہیں تھا۔

(2)  ان کی ذلت سے حضرت علیؓ کا دل پسیجنے کا کوئی نشان نہیں ملتا جس سے ظاہر ہے کہ وہ خوش ہوتے تھے۔

(3)  حضرت علیؓ کو حضرت فاطمہؓ کا اتنا بھی خیال نہیں تھا جتنا ایک عام شوہر کو ہوتا ہے اس لیے بار بار انہیں اکیلے ہی بھیجا، خود ساتھ نہ گئے۔

صفحہ 1 از 3