کیا متعۃ الحج کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حرام قرار…

کیا متعۃ الحج کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حرام قرار دیا؟

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2
  1. حج افراد: حرمت والے مہینوں میں صرف اکیلے حج کا احرام باندھ کر ادا کیا جائے تو اسے حج افراد کہتے ہیں۔
  2. حج قران: اس میں حج، عمرہ دونوں کا احرام باندھا جاتا ہے ، عمرہ کے احکام ادا کرنے سے حلال نہیں بلکہ حج کے ارکان ادا کرنے کے بعد دس ذوالحجہ کو حلال ہونا ہوتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے زندگی میں ایک ہی حج ادا کیا ہے جسے حجۃ الوداع کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے آپﷺ کا یہ حج، حجِ قران تھا اس میں عمرہ کے مناسک ادا کرنے کے بعد حلال نہیں ہو سکتا چونکہ آپﷺ اپنے ساتھ قربانی کے جانور لائے تھے اس لیے آپﷺ دس ذوالحجہ سے پہلے حلال نہیں ہو سکتے تھے البتہ آپﷺ نے تمتع کو افضل قرار دیتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا۔
 لو استقبلت من امري ما استدبرت ما سقت الهدي ولحللت مع الناس حين حلوا
اگر مجھ کو اپنا حال پہلے سے معلوم ہوتا جو بعد کو معلوم ہوا تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور عمرہ کر کے دوسرے لوگوں کی طرح بھی احرام کھول ڈالتا۔
گویا کہ آپﷺ نے حج تمتع کی خواہش فرمائی ہے لیکن آپﷺ تمتع نہیں کر سکتے تھے اس لیے کہ آپﷺ کے ساتھ قربانی کے جانور تھے، خیال رہے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا دورِ جاہلیت میں معیوب سمجھا جاتا تھا، دورِ جاہلیت میں ان کا مشہور قول ہے
اذا برء اللبر وافا الوبر وانسلخ صفر فقد حلت العمرۃ لمن اعتمر
حج کے سفر کے سبب جب سواری والے جانوروں کی پشت کے زخم مندمل ہوجائیں گے جانوروں کے بال کچھ بڑھ جائیں گے اور صفر کا مہینہ ختم ہو جائے گا تو تب عمرہ کرنے والوں کے لیے عمرہ کرنا درست ہوگا۔
3) حج تمتع:  یعنی زمانہ حج میں ایک احرام باندھ کر عمرہ کیا جائے اور پھر دوسرے احرام سے حج کر لیا جائے، دونوں احراموں کی درمیانی مدت میں حالتِ احرام کے ممنوعات سے پوری طرح تمتع (فائدہ اٹھانا) کیا جا سکتا ہے اس طرح کے حج کو حج تمتع کہتے ہیں۔
اور امت کا اجماع ہے کہ عمرہ کے ساتھ حج کرنا اور عمرہ کرنے کے بعد بے عذر احرام سے نکل جانا حرام ہے جائز نہیں ہے، نبی کریمﷺ نے اس کا نسخ اپنے اصحاب سے مصلحتاً کرایا تھا کیونکہ رسم جاہلیت تھی کہ عمرہ کو حج کے مہینوں میں فجور سمجھا جاتا تھا۔ یہ نسخ صرف اسی زمانے سے مخصوص ہے اوروں کو جائز نہیں ہے کہ بغیر عذر کے نسخ کریں۔ یہ تخصیص کئی روایات سے ثابت ہے۔
کتاب:حج کے احکام و مسائل
باب:حج تمتع کرنا جائز ہے
وحدثنا سعيد بن منصور ، وابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب، قالوا:حدثنا ابو معاوية ، عن الاعمش ، عن إبراهيم التيمي ، عن ابيه ، عن ابي ذر رضي الله عنه، قال:كانت المتعة في الحج لاصحاب محمد صلى الله عليه وسلم خاصة
(صحیح مسلم:2965)
اعمش نے ابراہیم تیمی سے،انہوں نے اپنے والد ( یزید بن شریک)سے ،انہوں نے سیدنا ابوذرؓ سے روایت کی ، انہوں نے فرمایا:حج میں تمتع ( حج کا احرام باندھنا پھر عمرہ کر کے احرام کھول دینا) صرف محمدﷺ کے ساتھیوں کے لئے خاص تھا ۔
اب سوال دوبارہ وہی ہے کہ صحابہ کرامؓ بشمول اہلِ بیتؓ تمام زندگی سیرت النبیﷺ کے مطابق عمل کرتے رہے، اگر سیدنا علیؓ واقعتاً خلیفہ منصوص من اللہ ہوتے تو کبھی خلفائے ثلاثہؓ کی بیعت نہ کرتے اور نہ ان سے قریبی تعلقات اور رشتہ داریاں کرتے، سیرت نبیﷺ سیرت اہلِ بیتؓ اور سیرتِ صحابہؓ میں کوئی فرق نہیں ہے، شیعہ اہلِ بیتؓ پر پوری زندگی تقیہ کا جھوٹا الزام لگاتے ہیں،اس طرح شیعہ نہ صرف گستاخِ صحابہؓ ہیں بلکہ گستاخِ اہلِ بیتؓ بھی ہیں۔
حج تمتع آسان ہونے کی وجہ سے لوگ صرف اور صرف حج کی یہی قسم ادا کرتے تھے اور باقی دونوں اقسام کو لوگوں نے چھوڑ رکھا تھا، تبھی سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے لوگوں کو منع کیا تھا کہ اس وقت حج تمتع کوئی نہیں کرے گا۔
اس سے یہ ہوا کہ لوگوں کو حج کے ایک قسم سے منع کیا گیا اور 2 اقسام پر انکو عمل کرایا گیا۔
پھر سیدنا عثمان غنیؓ نے بھی اسکو رائج رکھا، اب سیدنا عثمان غنیؓ بھی مجتہد ہیں اور سیدنا علیؓ بھی، انکی رائے ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہے۔
جس طرح قرآن میں حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا فیصلہ ایک دوسرے سے مختلف تھا حالانکہ وہ دونوں انبیاء کرام علیہم السلام تھے۔

صفحہ 2 از 2