مسلہ فدک میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا جعفر صادق…

مسلہ فدک میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا جعفر صادق رحمہ اللہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حمایت میں

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 2

عرب کے معروف فاضل الاستاذ محمود عباس عقاد نے بڑے پتہ کی بات لکھی ہے۔

یہ کوئی سمجھ کی بات نہیں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی جو وفاداری رسولﷺ سے تھی اس میں اس لئے شک کیا جائے کہ انہوں نے حضورﷺ کی صاحبزادی فاطمہؓ کو میراث سے محروم رکھا اگر انہوں نے ان کو محروم رکھا تو خود اپنی لڑکی عائشہؓ کو بھی اسی طرح محروم رکھا کیونکہ شریعت کی رو سے انبیاء کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے یہ نہیں چاہا تھا کہ میراث محمدﷺ سے حضورﷺ کے ورثہ کو محروم کردیں جن میں خود ان کی محبوب ترین اور سرمایہ فخر بیٹی عائشہؓ بھی تھیں لیکن انہوں نے چاہا تھا کہ رسول اللہﷺ کے دین اور آپﷺ کی وصیتوں کے معاملہ میں توسع سے کام نہ لیں اور دین کو بچانا خاندان اور مال کے بچانے سے زیادہ ضروری تھا.

( العبقريات الاسلامیہ صفحہ 446)

✿⁠۔۔۔۔۔آپ آگے چل کر لکھتے ہیں:

میراث کے معاملے میں جو ابوبکرؓ نے طے کر دیا اس کے سوا کوئی فیصلہ کرنے کا ان کو حق بھی نہ تھا ان کو یہی معلوم تھا کہ انبیاء کرام کسی کو وارث نہیں بناتے جب ان کی وفات کا وقت آیا تو حضرت عائشہؓ کو وصیت کی کہ جو کچھ ان کو دیا ہے اس سے مسلمانوں کے حق میں دستبردار ہوجائیں جبکہ وہ مال ان کے لئے عطیہ اور میراث کی شکل میں حلال تھا

(ایضاً صفحہ 448 المرتضٰیؓ صفحہ 144)

یہاں اس بات پر بھی غور کیجئے کہ اگر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دل میں حضرت فاطمہؓ اور آل نبیﷺ سے کسی قسم کا کوئی بوجھ ہوتا تو کیا آپؓ حضرت علیؓ کو حق خمس کی تولیت دیتے؟

حضورﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنی زندگی میں جس طرح خمس کی تقسیم کا والی بنایا تھا کہ وہ اسے بنی ہاشم پر تقسیم کریں حضورﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ بھی اسی روش پر رہے اور حضرت عمرؓ نے بھی اپنے دور خلافت میں حضرت علیؓ کو اسی پر مامور رکھا تھا.

حضرت علی المرتضیٰؓ کہتے ہیں:

ولاتی رسول الله خمس الخمس فوضعته مواضعه حياة رسول الله وحياة أبي بكرؓ و عمرؓ فاتی بمال فدعاني فقال خذه فقلت لا أريده فقال خذه فانتم أحق به قلت قد استغنينا عنه فجعله فى بيت المال

(سنن ابی داؤد جلد 2 صفحہ 61)

حضورﷺ نے خمس کے خمس کو میری ولایت میں دیا تو میں اس کے مصارف پر خرچ کرتا رہا اور اور یہ سلسلہ حضورﷺ کی حیات تک اسی طرح رہا اور آپﷺ کے بعد ابوبکرؓ اور عمرؓ کی زندگی تک ایسا ہی ہوتا رہا حضرت عمرؓ کی زندگی کے آخری دنوں میں جب مال آیا تو آپ نے مجھے بلایا اور کہا اس کو لے لو میں نے کہا میں نہیں چاہتا آپؓ نے کہا اسے لو تم اس کے زیادہ حقدار ہو میں نے کہا اب ہمیں اس کی ضرورت نہیں چنانچہ حضرت عمرؓ نے اسے بیت المال میں جمع کرادیا اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کبھی حضورﷺ کے طریقہ سے نہیں ہٹے تھے اور نہ ان کے دلوں میں حضرت علیؓ اور حضرت سیدہ فاطمہؓ کے خلاف کوئی بوجھ تھا گر ایسا ہوتا تو آپ ہی سوچیں حضرت علیؓ کبھی یہ بات کہتے ؟


صفحہ 2 از 2