مذہب سے گمراہی اور متشابہات کی طرف دعوت عمل دینے والی آراء و تجاویز
علی محمد الصلابیاس موضوع سے متعلق اس نبطی کا واقعہ قابلِ ذکر ہے جس نے ملک شام (نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 197، الشیخان أبوبکر و عمر بروایت بلاذری: صفحہ 231) میں تقدیر کا انکار کیا تھا۔ اس نے شام میں دورانِ خطبہ میں سیّدنا عمرؓ پر اس وقت اعتراض کیا تھا جب آپؓ نے کہا:
مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِىَ لَهٗ ۞(سورۃ الأعراف: آیت 186)
ترجمہ: یعنی جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔
اس نے تقدیر کا انکار کرتے ہوئے کہا: اللہ کسی کو گمراہ نہیں کرتا، سیّدنا عمرؓ نے انکار تقدیر پر مشتمل دوبارہ ایسی بات کہنے پر اسے قتل کی دھمکی دی۔
(نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 198)
سائب بن یزید کا بیان ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: اے امیر المؤمنین!
وَالذّٰرِيٰتِ ذَرۡوًا۞ فَالۡحٰمِلٰتِ وِقۡرًا ۞(سورۃ الذاريات: آیت 1، 2)
ترجمہ:’’قسم ہے ان (ہواؤں) کی جو اڑا کر بکھیرنے والی ہیں! پھر ایک بڑے بوجھ (بادل ) کو اٹھانے والی ہیں۔‘‘
ان آیات سے کیا مراد ہے؟ آپؓ نے فرمایا: کیا تم ہی ہو؟ پھر آپؓ اس کی طرف بڑھے اور اپنی آستینیں چڑھا لیں اور برابر اسے درّے لگاتے رہے یہاں تک کہ اس کی پگڑی گر گئی۔ سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’اللہ کی قسم، اگر تمہارا سر حلق کیا ہوتا تو میں تیرے سر پر مارتا۔‘‘ پھر فرمایا: ’’اسے اس کا کپڑا پہنا دو اور اونٹ کے کجاوے پر بٹھا دو اور اسی حالت میں اسے اس کے وطن پہنچا دو۔ پھر وہاں جا کر مجمع عام کو کوئی خطاب کرے اور کہے: ’’صبیغ (تفسیر ابن کثیر: جلد 2 صفحہ 213 بسند زبیر بن بکار، اس کی سند منقطع ہے۔ نیز دیکھیے مسند ابو حاتمؒ اور سنن بیہقیؒ اور بیہقیؒ نے کہا کہ یہ روایت مرسل جید ہے۔) نے علم حاصل کرنا چاہا لیکن اس کو علم حاصل نہ ہو سکا۔‘‘ اس طرح وہ اپنی قوم میں رسوائی کی زندگی گزارتا رہا یہاں تک کہ مر گیا۔
(مجمع الزوائد: جلد 4 صفحہ 283 ابو یعلیٰ نے کہا کہ اس کی سند جید ہے۔)