سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو…

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت نہ دی

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 2

( من لا یحضرہ الفقیه جلد 2 صفحہ 217)


اللہ کی قسم حضور ﷺ کہ چچا حضرت عباسؓ اور چچا زاد بھائی حضرت علیؓ اور دوسرے تمام رشتہ دار آپ کے وارث نہ ہوئے آپ کے مال کے وارث صرف اور صرف حضرت فاطمہ علیہا السلام ہی ہوئی تھیں۔


قرآنی آیت يوصيكم الله في أولادکم ۔۔۔۔۔الایۃ یہ پڑھ پڑھ کر حضرت ابوبکرؓ کے خلاف بولنے والے شیعہ علماء کی زبانیں اس باب میں کیوں خاموش ہو جاتی ہیں؟کیا اسلام اور شریعت نے ازواج اور اولاد نرینہ نہ ہونے کی صورت میں دوسرے اعزہ واقارب کا حق نہیں بتایا تھا؟


حضور اکرم ﷺ کی میراث کا معاملہ عام امت کی میراث کی طرح ہوتا تو حضرت سیدہ فاطمہؓ کی طرح حضور اکرم ﷺ کی تمام ازواج مطہراتؓ اور آپ کے دیگر رشتہ دار بھی اس میراث میں برابر کے شریک ہوتے اور ہر ایک کو شریعت کی رو سے ان کا حق ضرور ملنا چاہیے تھا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ نے جس طرح حضرت سیدہ فاطمہؓ کو حضور ﷺ کی حدیث سنا کر مسئلہ واضح کیا اسی طرح آپؓ نے حضور ﷺ کی ازواجؓ کو ( جن میں آپؓ کی اپنی پیاری صاحبزادی حضرت عائشہؓ بھی ہیں ) بھی یہی بات بتادی تھی کہ انبیاء علیہم السلام کے چھوڑے ہوئے مال صدقہ ہوتے ہیں ان میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔


حضرت عمرہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے انتقال کے بعد بعض ازواجؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا کہ حضور ﷺ کی میراث کا معاملہ کیا ہے ؟ کیا ہمیں حصہ ملے گا ؟ حضرت ابوبکر نے حضرت عائشہؓ کو بلایا اور کہا کہ ان سے جا کر کہو کہ اللہ سے ڈرو۔ کیا حضورﷺ نے نہیں فرمایا کہ ہم انبیاء علیہم السلام جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب کا سب صدقہ ہوا کرتا ہے حضرت عائشہؓ کی زبانی یہ پیغام سن کر ازواج مطہراتؓ نے سر تسلیم خم کردیا اور پھر کوئی چیز طلب نہیں کی


عبد الرزاق عن معمر عن الزهري عن عروة وعمرة قالا: إن أزواج النبي صلى الله عليه وسلم أرسلن إلى أبي بكر يسألن ميراثهن من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأرسلت إليهن عائشة: ألا تتقين الله؟ ألم يقل رسول الله لانورث ما تركنا صدقة قال فرضين بقولها وتركن ذلك


( المصنف عبد الرزاق جلد 5 صفحہ 471)


اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے فدک نامی علاقہ یا جاگیر حضورﷺ کی اپنی جاگیر نہ تھی اور اگر آپﷺ کی ہوتی بھی تو آپ ہی کے ارشاد کے مطابق وہ میراث میں تقسیم نہیں ہو سکتی تھی اور اگر واقعی انبیاء علیہم السلام کی میراث تقسیم ہوتی تو اس پر صرف اکیلی حضرت فاطمہؓ نہیں بلکہ آپ ﷺ کی تمام ازواجؓ اور آپ ﷺ کے دیگر

قریبی عزیز بھی اس وراثت کے مستحق قرار پاتے تھے۔



صفحہ 2 از 2