فدک کے بارے ایک مشہور سوال کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فدک کے بارے ایک مشہور سوال کا جواب

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 2

اب آپ ہی بتائیں کیا مسلمان یہ سوچ سکتا ہے کہ حضرت علیؓ محض دولت اور جائیداد کے لیے خاتون جنت اور حضورﷺ کے نواسوں کو اس طرح در در کی ٹھوکریں کھلاتے رہے ہیں اور فقیروں کی طرح مدینہ کے ہر گھر کے آگے جاکر جائیداد نہ ملنے کی فریاد کرتے رہے اور چالیس دن تک یہ تماشا ہوتا رہا. (استغفرﷲ)

پھر کیا ہم اس بات کا تصور بھی کر سکتے ہیں کہ خود خاتون جنت سیدہ فاطمہؓ بھی ایک باغ کے حصول کے لیے اس طرح کی ذلت برداشت کرنے کو تیار تھیں کہ ان کے شوہر حضرت علیؓ ان کے دو بچوں حضرات حسنینؓ کے ساتھ انہیں چالیس دن گلی گلی پھراتے رہیں اور آپؓ بھی در در جا کر فریادیں کرتی رہیں کہ کہ مجھے فدک دلا دو میری مدد کرو..

انا للہ وانا الیہ راجعون

سچی بات تو یہ ہے کہ یہ سب سبائی ذہن کی پیداوار ہے اور اس کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ حضور اکرم ﷺ اور آپ کی اولاد کو بدنام کیا جائے۔

لیجیے اسی سلسلے کا ایک اور واقعہ بھی دیکھتے جائیے کہ

شیعہ علماء کہتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ کے انتقال کے بعد جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ حاکم بن گئے تو حضرت فاطمہؓ نے ان سے میراث مانگا حضرت ابوبکر صدیقؓ نے انہیں حدیث سنا کر واپس کر دیا تو حضرت فاطمہؓ اکیلی واپس حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس گئیں،۔اس وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس لوگوں کا ایک بڑا مجمع تھا، حضرت فاطمہؓ نے اس مجمع کے سامنے ایک طویل خطبہ دیا اس میں علاوہ اور باتوں کے اور کیا کہا؟ اسے آفتاب حسین جوادی شیعی سے سنیے یہ خطبہ فدک نامی ایک کتاب میں لکھتا ہے

اپنے شوہر نامدار حیدر کرار کی جانفشانیوں کا تذکرہ اور اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے وقت حکمراں مہاجرین و انصار اور خواتین کے سامنے شدید احتجاج کیا ہے

(خطبہ فدک صفحہ 5 )

شیعہ علماء نے حضرت فاطمہؓ کے جس احتجاج کا ذکر کیا ہے پیش نظر رہے کہ یہ احتجاج حضور ﷺ کے وصال کے چند روز بعد کا بتایا جاتا ہے اور ساتھ یہ بھی ملحوظ رہے کہ حضرت فاطمہؓ کے اس احتجاج میں ہمیں ان کے شوہر نامدار حضرت علیؓ نظر نہیں آتے؟ اور نہ ہمیں حضرت عباسؓ کہیں دیکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی حضرت مقداد حضرت ابوذرؓ اور حضرت سلمان فارسیؓ حضرت فاطمہؓ کی حمایت میں وہاں کھڑے دکھائی دیتے ہیں شیعہ علماء کے بیان کردہ اس واقعہ سے حضرت فاطمہؓ کی جو تصویر نظر آتی ہے کیا کوئی مسلمان اسے قبول کر سکتا ہے؟؟

حضرت مولانا سید شاہ ولایت حسین صاحب بہاری رحمہ اللہ (خلیفہ محدث جلیل حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللّٰہ) لکھتے ہیں:

ہم شیعہ علماء سے پوچھتے ہیں کہ اگر مقتضائے محبت نبوی یہی ہے کہ سب لوگ نوحہ و ماتم میں آگے رہتے اور ایسے سخت ترین حادثہ کا کم از کم دس بیس دن تو سوگ اور نوحہ و ماتم کرتے تو فرمائیے جناب سیدہؓ جن کے غم و الم کی کوئی حد نہیں تھی وہ کیوں طلب میراث کے لیے ایک عام مجمع کے وقت خدمت صدیقیؓ میں وفات کے تیسرے چوتھے روز ہی تشریف لے گئیں اور بہت طول و طویل فصیح و بلیغ خطبہ پڑھا اور حضرت صدیقؓ سے مناظرہ کیا جس کو مجلسی وغیرہ نے بحار الانوار میں نقل کیا ہے کیا تین دن ہی میں سارا غم جاتا رہا اور کیا یہ حرص دنیا پر دلیل نہیں ہے؟

حالانکہ بعد تحقق غلب شئے مغصوب کا لینا آپ کو حسب روایات شیعہ حرام تھا پھر حرام چیز کے لیے ماتم خانہ سے نکلنا اور سارے رنج و غم نوحہ وبکاء کو طاق پر رکھ دینا اور عام مجلس میں لوگوں کے سامنے اس طاقت لسانی سے حضرت صدیقؓ اور تمام لوگوں کو مخاطب کرکے خطبہ پڑھنا بجز بےصبری اور حب دنیا کے اور کیا سمجھا جا سکتا ہے؟

حالانکہ صراة الخاہ از ملا باقر مجلسی میں ہے

ازگناہان دعویٰ ومخاصمات و مطالبات خود را نزد حکام جور بردن

مگر پھر بھی آپ نے دعویٰ فدک سے اجتناب نہ کیا اور دنیا کے لیے گناہ کا بار اپنے سر لیا سچ ہے

حب الدنیا رأس کل خطیئة

( کشف التلبیس جلد 3 صفحہ 19)

شیعہ علماء خاندان نبوت کے خلاف جس قسم کے انتہائی نازیبا بلکہ گھٹیا بیانات اور واقعات منسوب کرتے ہیں اس سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ اس گروہ کا اصل مقصد خاندان نبوت کی عزت داغدار کرنا ہے اور شیخ الروافض عبداللہ ابن سباء کی روحانی ذریت سے ہم اس کے سوا اور کیا توقع رکھیں۔

علامہ عبدالرحمن جوزی رحمہ اللہ نے سچ کہا ہے

غلو الرافضة فی حب علیؓ حملھم علی ان وضعوا احادیث کثیرة فی فضائله اکثرھا تشنیه وتؤذیه

(تلبیس ابلیس: صفحہ 99)

رافضی گروہ نے حبِ علی میں اس قدر غلو( حد سے زیادتی) کر لیا کہ ان کے فضائل میں بےشمار ایسی روایتیں گھڑ لیں جن میں سے اکثر میں حضرت علیؓ کی برائی اور ایذاء نکلتی ہے۔



صفحہ 2 از 2