فدک دور فاروقی رضی اللہ عنہ اور دور عثمانی رضی اللہ عنہ میں…

فدک دور فاروقی رضی اللہ عنہ اور دور عثمانی رضی اللہ عنہ میں

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 3

والحال ان علیاؓ وعثمانؓ ایضاً یمشیا علی ما فعلہ الشیخانؓ وحکی ان رافضیا ذھب عند السفاح الخلافۃ العباسی فقال انی مظلوم فأجرنی قال الخلیفۃ عند من الفدک بعد ھما قال عند عثمانؓ قال ثم عند من ؟  قال عند علیؓ وھکذا قال الخلیفۃ فأی خصوصیۃ ابیبکرؓ وعمرؓ فسکت الرافضی الملعون۔

✍️(العرف الشذی بشرح الترمذی صفحہ 485)

حقیقت حال یہ ہے کہ سیدنا علیؓ سیدنا عثمانؓ بھی حضراتِ شیخینؓ کے طریقے پر ہی چلے ہیں اس  بارے میں ایک حکایت نقل کی گئی ہے کہ عباسی خلیفہ سفاح کے سامنے ایک شیعہ اپنی فریاد لے کر آیا اور کہا کہ میں مظلوم ہوں میری مدد کی جائے، خلیفہ نے پوچھا کہ بتا تجھ پر کس نے ظلم کیا ہے اس نے کہا ابوبکرؓ و عمرؓ نے میراث کے معاملے میں مجھ پر ظلم کیا ہے خلیفہ نے کہا اچھا یہ بتا کہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کے بعد فدک کس کے پاس آیا اس نے کہا عثمانؓ کے پاس۔خلیفہ نے پوچھا اس کے بعد؟ اس نے کہا علیؓ کے پاس۔ علی ھذا القیاس۔

خلیفہ نے کہا بتا پھر اس ظلم میں ابوبکرؓ اور عمرؓ کی کون سی خصوصیت رہی اس میں تو سیدنا علیؓ بھی شریک ہوگئے چنانچہ وہ رافضی چپ ہو گیا اور اس سے کوئی جواب نہ بن پڑا

علامہ عبدالرحمن بن جوزی رحمہ اللہ (596 ھ) اس واقعے کے ذیل میں لکھتے ہیں۔

قال ابن عقیل الظاہر ان من وضع مذھب الرافضۃ قصد الطعن فی اصل الدین والنبوۃ۔۔۔۔الخ

( تلبیس ابلیس صفحہ98 طبع دمشق)

ابن عقیل کہتے ہیں کہ یہ بات ظاہر ہے کہ جس نے رافضی (شیعہ) مذہب بنایا اس کا اصل مقصد دین اسلام اور نبوت محمدی میں طعن کرنا تھا اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ جو اعتقاد حق لائے وہ ہماری نظر سے غائب چیز ہے (اور ہم نے آپﷺ کی زبان سے کچھ بھی نہیں سنا) بلکہ ہمارا اعتماد فقط سلف صالحین  یعنی صحابۂ کرامؓ و تابعین عظام رحمہم اللّٰہ کے نقل کرنے اور دیکھنے والوں کی جودت نظر پر ہے یعنی ان بزرگوں نے اپنی خوبی نظر سے ان کو بزرگ پیغمبر پایا تھا تو ان کی جودت نظر پر بھی ہمارا بھروسہ ہے ان دونوں باتوں سے ہمارا یہ حال ہے کہ گویا ہم خود وہ دیکھتے ہیں جب کہ ہمارے لیے ایسے اکابر نے دیکھ لیا تھا جن کی بزرگی دین و کمال عقل وجودت نظر پر ہمارا کامل اعتماد ہے پس رافضی مذہب کے بانی نے یہ پروپگینڈا کیا کہ جن پر تم یہ اعتماد کرتے ہو انہوں نے پیغمبر کی وفات کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ ان کے خاندان پر خلافت کا ظلم کیا (یعنی خلافت ان سے چھین لی) اور ان کی صاحبزادی پر میراث کا ظلم کیا (فدک چھین لیا )تو یہ بات جب ہی ہو سکتی ہے کہ جس کے حین حیات میں اس کی نبوت کے متعلق یہ اعتقاد تھا وہ ان کی نظر میں ٹھیک شخص نہ تھا۔ (معاذ اللہ)

اول ما بدأوا بعد موتہ بظلم اھل بیتہ فی الخلافۃ وابنتہ فی ارثھا وما ھذا الا لسوء اعتقاد فی المتوفی (ایضا ص98)

خصوصاً انبیاء کے بارے میں تو یہ واجب کرتا ہے کہ ان کے انتقال کے بعد ان کے قوانین مقررہ کی حفاظت لازم سمجھی جائے خصوصاً ان کے اہل و عیال کے حق میں اس کے قواعد کے موافق احترام ضروری ہوتا ہے

پس جب رافضی(شیعہ) گروہ نے یہ عقیدہ رکھا کہ صحابۂ کرامؓ نے حضور اکرمﷺ کے بعد یہ سب کام (ظلم) جائز سمجھے تو اس گروہ نے صاف صاف یہ اقرار کیا کہ ہم تک جو شریعت  پہنچی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے  اس لیے کہ حضور اکرمﷺ کی جانب سے ہم تک  پہنچنے میں سوائے منقول طریقہ کے اور  کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے(یعنی صحابہ کرامؓ نے ہم تک یہ بات نقل کی اور ہم نے ان کی اس نقل پر اعتماد کیا )اب جب صحابۂ کرامؓ پر ہی اعتماد ختم ہو گیا تو ان کی جانب سے منقول اعتقادات و شریعت پر کس طرح اعتبار کر سکتے ہیں اور جن کے اتباع پر اعتماد  کرتے ہوئے شریعت پر جزم کیا گیا تھا اس سے بد اعتقادی پیدا ہو جائے گی اور یقین ختم ہو جائے گا اور ہمیشہ یہ وسوسہ رہے گا کہ جن کے اعتماد پر  شریعت کا انحصار ہے انہوں نے ایسی کوئی بات نہ دیکھی جس سے اتباع اور ایمان فرض ہو اور انہوں نے یہ مصلحت اس پیغمبر کی زندگی تک رعایت رکھی اور اس کے فوت ہوتے ہی اسکی شریعت  سے منحرف ہو گئے اور ان لوگوں میں سے سوائے ان کے چند گھر والوں کے اور کوئی بھی اس کے دین پر باقی نہ رہا ۔(معاذ اللہ)

ولم نأمن ان یکون القوم لم یروا ما یوجب اتباعہ فراعوہ مدۃ الحیاۃ وانقلبوا عن شریعتہ بعد الوفاۃ ۔ولم یبق علی دینہ الا الاقل  من اھلہ (ایضاً صفحہ99)

پس رافضی گروہ کے اس مکرو فریب کا مقصد اس کے سوا اور کیا ہے کہ اصل اعتقاد مٹ جائے اور ان عقائد و اعمال کو قبول کرنے میں ہمارا دل سست ہو جائے جو ہمیں صحابہؓ سے ملے ہیں۔

(دیکھیے تلبیس ابلیس اردو ترجمہ صفحہ130)

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ (1362 ھ) فرماتے ہیں کہ:

"ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ "عام سنی سے ایک شیعہ کی گفتگو ہوئی سنی نے کہا کہ جب فدک پر جھگڑا تھا تو حضرت علیؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں اس کو کیوں نہ لے لیا؟ شیعہ نے جواب دیا کہ جو چیز غصب کر لی جاتی ہے پھر ہم لوگ اس کو نہیں لیتے سنی نے جواب دیاکہ خلافت بھی تو غصب کر لی گئی تھی پھر اس کو کیوں لیا تھا (یعنی آپؓ چوتھے خلیفہ کیوں بنے) اس جواب پر شیعہ دم بخود رہ گیا۔"

(الافاضات جلد 4 صفحہ 89)

حضرت العلام مولانا اللہ یار خاں رحمتہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ:

"اس سلسلے میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو متہم کرتے وقت دیکھ لینا چاہیے کہ سیدنا علیؓ نے اپنے دور اقتدار میں کیا فرمایا اور کیا رویہ اختیار کیا۔

(تحذیر المسلمین عن کید الکاذبین: صفحہ 255)

فلما وصل الامر الی على بن ابی طالب کم فی امر فدک فقال انی لا ستحیی من اللّٰہ ان ارد شیا منع عنہ ابوبکرؓ واقضاہ عمر ؓ (شیعہ کتاب الشافی: شریف مرتضیٰ صفحہ 231)

"جب سیدنا علیؓ خلیفہ ہوئے تو فدک کے بارے میں بات کی گئی تو فرمایا مجھے اللّٰه سے حیا آتی ہے کہ میں اس حکم کو رد کروں جس کا فیصلہ ابوبکرؓ نے کیا اور عمرؓ نے برقرار رکھا"

صفحہ 2 از 3