فدک خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے ادوار میں - ردِ رافضیت |…

فدک خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے ادوار میں

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 2

مشہور محقق مناظر حضرت العلام مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ اپنی کتاب تحذیر المسلمین میں مذکورہ حدیث مبارکہ کے ضمن میں تحریر فرماتے ہیں کہ 

"یعنی حضور اکرمﷺ کے فیصلے کو تہِ دل سے تسلیم کرنا اور اسکی مخالفت کا خیال بھی دل میں نہ لانا۔ حضرت ابوبکرؓ کے متعلق تو ایک سچے مومن کا رویہ ریکارڈ پر آگیا۔ مگر دوسری طرف حضرت فاطمہؓ کے متعلق غلط فہمیاں پیدا کرنے اور پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ دیکھنا یہ ہے کہ سیدہ فاطمہؓ نے قرآن حکیم کی یہ آیات یا اسی مضمون کی دوسری آیات پڑھی ہوں گی یا نہیں؟ اگر پڑھی ہوں گی تو ان کا مفہوم بھی سمجھا ہوگا یا نہیں؟ اگر سمجھا ہوگا تو اس حکم کی تعمیل کی ہوگی یا نہیں؟ اگر کہیں کہ تعمیل نہیں کی تو یہ حضرت فاطمہؓ کے مقام سے ناواقفیت بلکہ ان کی توہین ہے۔ اگر کہیں کہ تعمیل کی تو اس کی صورت کیا ہوسکتی ہے۔ آدمی جتنا غور کرے اس کے بغیر کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ جب ان کے مطالبہ کے جواب میں سیدنا ابوبکرؓ نے اپنا کوئی فیصلہ نہیں سنایا بلکہ حضور اکرمﷺ کی حدیث سنا دی اور اپنی طرف سے صرف اتنا کہا کہ مجھے اس حدیث پر عمل کرنا ہے۔ اور فاطمہؓ اس جواب ایسی مطمئن ہوگئیں کہ عمر بھر اس مسئلہ کا ذکر تک نہیں کیا"

سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بعد حضرت عمرؓ نے بھی یہی بات کہی تاہم کسی ایک نے بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو چیلنج نہیں کیا کہ آپؓ یہ بات غلط کہتے ہیں یہ آواز صحابہؓ کے مجمع میں سے آئی نہ ہی اہل بیت نبوتﷺ میں سے کسی نے اس وقت سیدنا ابوبکرؓ کو آپؓ کے اس فیصلے پر چیلنج کیا تھا اور نہ ہی بعد میں کسی نے سیدنا ابوبکرؓ کے اس بیان سے اختلاف کیا اختلاف تو دور کی بات ہے انہوں نے آپؓ کے اس فیصلے کی بھرپور تائید و توثیق کی ہے

سید علی نقوی شیعہ کہتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اناج غلہ اور دیگر آمدنی لے کر حضورﷺ کے گھر والوں (ازواجؓ اور حضرت فاطمہؓ وغیرہ) کو پورے خرچ کی مقدار دیا کرتے تھے

ابوبکر غلہ وسود آنرا گرفتہ بقدر کفایت باھلبیت علیھم السلام مے داد وخلفاء بعد از وھم برآں اسلوب رفتار نموند تازمان معاویہ

(فیض الاسلام شرح نہج البلاغہ جلد 2 صفحہ 960)

اس سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے حضورﷺ کے طریقے سے سر مو انحراف نہ کیا تھا نہ کسی حقدار کا مال روکا اور نہ کسی کو غلہ اناج دینے سے منع کیا۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے اس طرز عمل سے حضورﷺ کا سارا گھرانہ خوش تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے جو بات پہلے دن کہی تھی اس پر آپؓ نے پورا پورا عمل کر کے دکھایا ہے۔ حضرت سیدہ فاطمہؓ سے بھی آپؓ نے جب یہ بات کہی تھی انہوں نے بھی اس پر کسی ناپسندیدگی کا اظہار نہ کیا

نہج البلاغہ کا شارح میثم بن علی بن میثم بحرانی (679ھ) لکھتا ہے

کان رسول اللہ یأخذ من فدک قوتکم ویقسم الباقی ویحمل منہ فی سبیل اللہ ولک علی اللہ ان اصنع بھا کما یصنع فرضیت بذلک وأخذت العھد علیہ بہ وأن یأخذ غلتھا فیدفع الیھم منھا ما یکفیھم ثم فعلت الخلفاء بعدہ کذلک الی أن ولی معاویہ

(محجاج السالکین ماخوذ از فتاوی عزیزی صفحہ 83 شرح نہج البلاغہ صفحہ 432)



صفحہ 2 از 2