حدیث عشرہ مبشرہ پر اعتراضات کا تحقیقی جائزہ - دفاعِ اہلِ…

حدیث عشرہ مبشرہ پر اعتراضات کا تحقیقی جائزہ

  ابو روافض وقاص علی حیدری

صفحہ 4 از 5
 چھ ماہ بعد بھی بیعت کرنے سے عشرہ مبشرہ والی حدیث پر کوئی اثر نہیں پڑتا جب بعد میں بھی بیعت کر لی تو اور ہر شخص کے اعمال کا دار و مدار مدار خاتمہ پر ہوتا ہے ملاحظہ ہو صحیح بخاری: جلد، دوم۔
اور یہ چھ ماہ والا قول راوی کا تفرد ہے جب کہ اول خلیفہ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر سیدنا علیؓ کی بیعت اسی وقت ہی ہوگئی تھی جب بیعت عام لینے کے لیے ان کو طلب کیا گیا تھا۔ 
ملاحظہ فرمائیں صحیح بخاری: جلد دوم، مستدرک حاکم، اعتقاد بیہقی۔
 جہاں تک سیدہ فاطمہؓ کی ناراضگی کا تعلق ہے یہ بشری تقاضے سے تھی جس کا کوئی اثر شیخینؓ کی ذوات پر نہیں پڑتا اور بعد میں رضا مندی بھی ثابت ہے۔ 
طبقات ابنِ سعد: جلد ہشتم۔
سیدہ فاطمہؓ خود سیدنا علیؓ پر بھی کئی دفعہ غضبناک ہوئیں اور ایسے کاموں سے ناراض ہو جاتی تھیں جن میں سیدنا علیؓ کا کوئی قصور نہیں ہوتا تھا۔ 
ملاحظہ فرمائیں علل الشرایع: جلد اول، امالی شیخ صدوق، تفسیر عیاشی، بشارت مصطفیٰ، احتجاج طبرسی جلد اول، جلا العیون: جلد اول، حق الیقین۔ 
اگر ان کے ناراض ہونے سے سیدنا علیؓ کی جنت مشکوک نہیں ہوتی جن سے کئی دفعہ ناراض ہوئیں تو شیخینؓ کی جنت کو بھی کوئی نقصان نہیں۔
رہی جنازہ میں شامل نہ ہونے کی بات یہ بھی لچر قسم کا جاہلانہ اعتراض ہے کسی درست سند کی روایت میں یہ نہیں کہ سیدہ فاطمہؓ نے کسی کا بھی نام لے کر جنازہ سے منع کیا ہو۔ بلکہ اکثر روایات میں مطلق نہی ہے کہ کسی کو اطلاع نہ دی جائے اور یہ سب پردہ کی وجہ سے تھا جیسے جس پر رات کو جنازہ کی وصیت اور جنازہ کو پردہ میں رکھنے کے قرائن اس پر دلالت کرتے ہیں۔
ملاحظہ فرمائیں الاستیعاب۔ 
 کسی کو غصہ میں کہے گئے الفاظ عقیدہ نہیں ہوتے اور نہ ان الفاظ کا قانونی طور پر لاگو ہونے کا کوئی جواز ہوتا ہے جیسے سیدنا حاطبؓ کو غصہ میں سیدنا فاروقِ اعظمؓ نے منافق کہہ دیا لیکن وہ جنتی ہیں اور زبانِ نبوت نے اسی وقت سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے سامنے اس کی تصدیق فرمائی۔ 
اسی طرح نہج البلاغہ کے اندر سیدنا علیؓ نے غصہ میں آ کر سیدنا امیرِ معاویہؓ کو کیا کچھ نہیں فرما دیا لیکن اس کا کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ جب کہ انہی سیدنا امیرِ معاویہؓ کے اسلام اور ایمان کو سیدنا علیؓ نے اپنے جیسا فرمایا اور ان کو سبِ وشتم کرنے اپنے نالائق سبائیوں کو منع کیا۔ اگر ایسے الفاظ کا اثر پڑتا ہے تو سیدنا علیؓ کی جنت بھی فریقِ ثانی کی جمع پونجی سے مشکوک ہو جائے گی شرح اس کی یہ ہے کہ سیدنا عباسؓ جو اہلِ بیتِ رسول ہیں انہوں نے سیدنا فاروقِ اعظمؓ کے سامنے سیدنا علیؓ کو خائن، دھوکے باز، آثم اور جھوٹا کہا۔ 
ملاحظہ فرمائیں صحیح بخاری: جلد دوم، صحیح مسلم: جلد دوم، نہج البلاغہ۔ 
سیدنا طلحہؓ و سیدنا زبیرؓ نے سیدنا علیؓ پر جنگ مسلط نہیں کی اس کا ثبوت دینا کہ کسی کتاب سے نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا صرف قصاص کا مطالبہ تھا جس کے حوالے سے مذاکرات کامیاب ہوگئے تھے لیکن ان پر آج کے اعتراض کرنے والے سبائیوں کے آباؤ اجداد نے اندھیرے سے فایدہ اٹھا کر دونوں گروہوں کو آپس میں لڑا دیا۔
 سیدنا علیؓ سے جنگ والی روایت کی صحت مشکوک ہے جو مطلب سبائیوں نے اپنی رزیل فکر سے نکالا وہ سیدنا علیؓ کو سمجھ نہ آیا اور وہ اس نام نہاد جنگ کے اختتام پر اہلِ بیت کی سرخیل سیدہ عائشہؓ کو عزت سے رخصت کرے ہیں اور ان کو کہتے ہیں کہ آپ کی وہی حرمت ہے جو اس سے پہلے تھی۔
اس کے علاؤہ سیدنا زبیرؓ و سیدنا طلحہؓ کے قاتلین کو خود جہنمی سیدنا علیؓ نے ڈکلیئر کیا۔
ملاحظہ فرمائیں نہج البلاغہ، طبری جلد سوم، البدایہ والنہایہ جلد سوم۔
اگر ان مقتولین کی وجہ سے کسی زبان نبوت سے جنتی شخصیت مشکوک ہوسکتی ہے تو اس کی زد سب سے پہلے سیدنا علیؓ پر پڑے گی کیونکہ کہ صفین میں خود ان کی طرف سے جنگ مسلط کی گئی جبکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شرعی حق مانگ رہے تھے اس جنگ میں ہزاروں کے مقتولین کی جواب دہی خلیفہ وقت کے سر جائے گی یہاں جس آیت کو پیش کیا گیا ہے یہ صرف سبائی نہیں خارجیوں کی رزیل فکر پر یہ اعتراض تیار کیا گیا ہے جو سیدنا علیؓ کے باطل پر ہونے کے ثبوت میں خارجی بھی پیش کرتے ہیں۔
  دامادِ رسول مظلومِ مدینہ سیدنا عثمانؓ کی تائید اور آپ کو مظلوم اور حق پر سمجھنے والوں میں بقیہ اصحاب کے ساتھ سیدہ عائشہؓ بھی تھیں۔ 
زیرِ بحث روایت جھوٹی کذاب راویوں کی ہے جس میں مظلومِ مدینہ کے بارے میں قتل کا فتویٰ تھا۔
ملاحظہ فرمائیں طبری جلد سوم، طبقات ابنِ سعد جلد سوم میزان الاعتدال۔
رہی سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ کے صاحبزادے کی روایت پر اعتراض اس کا حوالہ اجہل کبیر صاحب نے نہیں دیا ورنہ اس پر بھی تفصیلی جواب دیا جاتا۔ سیدنا حمیدؒ کے بارے میں یہاں اعتراض کہ ایک سال کا بچہ کیسے روایت کر سکتا ہے اس کے لیے ایک پھکی حاضر خدمت ہے کہ یہ عقلی ڈھکوسلہ اس وقت آپ کے مصنفین کو کیوں یاد نہیں آتا جب سیدنا علیؓ کے بچپن کے واقعات سنائے جاتے ہیں پھر جہالت یہ کہ جن سیدنا حمیدؒ کو سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ کا بیٹا بتایا جا رہا ہے وہ خود اپنے والد سے روایت کر رہے ہیں یہ حمیدؒ نامی راوی سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ کے صاحبزادے ہیں ہی نہیں ان کے والد دوسرے ہیں اور وہ سیدنا عبد الرحمٰنؓ سے روایت کر رہے تھے۔
عن عبد الرحمٰن بن حمیدؒ عنہ ابیہ عن عبد الرحمٰن بن عوفؓ قال رسول اللہﷺ 
یعنی سیدنا عبد الرحمٰن بن حمیدؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور وہ سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا
جامع ترمذی جلد دوم۔
عشرہ مبشرہ والی حدیث کی سند صرف یہی نہیں اور بھی کئی اسنادہ سے مروی ہے چنانچہ امام ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ:
صفحہ 4 از 5