حدیث عشرہ مبشرہ پر اعتراضات کا تحقیقی جائزہ - دفاعِ اہلِ…

حدیث عشرہ مبشرہ پر اعتراضات کا تحقیقی جائزہ

  ابو روافض وقاص علی حیدری

صفحہ 3 از 5
جواب: کسی جگہ کسی حدیث کا نہ بیان کرنا اس کی عدم ثبوت پر دلالت نہیں کرتا جیسے سیدنا حسینؓ کو جب شہید کیا گیا اس وقت آپؓ نے اپنے جنتی ہونے کی احادیث مبارکہ اپنے قاتلین کو نہیں سنائیں اس کے علاوہ امامیہ حضرات کے بارہ اماموں میں سے جن کو شہید کیا گیا انہوں نے بھی اپنے قاتلین کو ایسی کوئی دلیل نہیں دی جن سے ان کا جنتی ہونا ثابت ہوتا تھا۔
1. معترض نے یہ بھی کہا ہے کے امام اول خلیفہ بلا فصل امیر المؤمنین سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے سقیفہ میں اپنے جنتی ہونے کی حدیث پیش کیوں نہ کی اس کا جواب ایک تو اوپر والے حصہ چہارم میں دے دیا گیا ہے دوسرا جواب یہ ہے کہ جب خلیفہ بلا فصل کے ہاتھ پر سب لوگوں نے بیعت کر لی تو اس حدیث کے پیش کرنے کی ضرورت ہی نہ رہی۔
2. معترض نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کے بارے میں یہ لکھا کہ اگر ان کو جنت کی بشارت دی گئی تھی تو وہ آخرت کے حساب کتاب سے کیوں ڈرتے تھے اس کا جواب: ملاحظہ ہو 
اول: اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اختیار کرنا اور اس کا اظہار کرنا اور اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بارے میں فکر کرنا کوئی عیب کی بات نہیں اور اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے ملنے والی فضیلتوں کی نفی نہیں ہوتی۔
خود امامیہ مذہب کے معتبر عالم محمد شریف مرتضیٰ علم الہدی نے کہا کے انبیاء کرام کے بارے میں قرآن مجید میں ایسے الفاظ آئے ہیں جو بظاہر ان کی عصمت کی نفی کرتے ہیں ان کی تاویل جناب نے اپنی کتاب میں کی اور اس کتاب کے مترجمین اور حاشیہ نگار نے بھی حضرت آدم علیہ السلام کا اللہ سے مغفرت طلب کرنے والی آیات کی تاویل میں لکھا کہ
حضرت آدم علیہ السلام کا ادنیٰ لغزش سے طلب مغفرت کرنا بغرضِ اظہار عبدیت و خشوع و خضوع تھا۔ ملاحظہ کتاب تنزیہ الانبیاء ولآئمہ: صفحہ، 36۔
دوم: جب سیدنا فاروقِ اعظمؓ کا جنازہ رکھا گیا تو سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ آپؓ نے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا کہ اس جیسے اعمال کے ساتھ اللہ سے ملنے کی آرزو کروں اور اللہ کی قسم مجھے پہلے ہی سے یہ خیال تھا کہ آپؓ کو اللہ تعالیٰ آپؓ کے صاحبین یعنی رسول اللہﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ علیہ السلام کے ساتھ کر دے گا کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ سے بکثرت یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں گیا اور ابوبکرؓ و عمرؓ گئے میں داخل ہوا اور ابوبکرؓ اور عمرؓ داخل ہوئے اور ابوبکرؓ اور عمرؓ نکلے۔
ملاحظہ ہو صحیح بخاری جلد دوم کتاب المناقب، مسند احمد: جلد اول، مسانید علیؓ ابن ابی طالب :جلد اول، مستدرک حاکم: جلد، سوم۔
اس کے علاوہ اعمال فاروقؓ والی روایت امامیہ کی کتب میں بھی موجود ہے۔
ملاحظہ ہو معانی الاخبار: صفحہ،117 باب، 245 کتاب الشافی: صفحہ، 171، تلخیص شافی: صفحہ، 428 میں بھی موجود ہے۔
نوٹ: اس روایت میں سیدنا علیؓ نے آرزو کی تھی میں سیدنا فاروقِ اعظمؓ والے اعمال لے کر قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیش ہوں۔جس ہستی کے اعمال حاصل کرنے کی آرزو سیدنا علیؓ کریں وہ جنتی نہیں ہے تو دنیا میں جنتی اور کون ہو سکتا ہے۔
 اور دوسرا اس سے ثابت ہوا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو بھی آپؓ جنتی مانتے تھے اسی وجہ سے آپ نے ان کا ذکر رسول اللہﷺ کے ساتھ فرمایا آپ کے الفاظ ساتھ کر دے گا کا یہی مطلب ہے۔
سوم: امام الانبیاء علیہ السلام کنفرم جنتی ہیں اس کے باوجود آپﷺ فرماتے ہیں مجھے کیسے خوشی آئے حالانکہ صور والے فرشتے نے صور لیا اور وہ کان لگائے اس انتظار میں ہیں کہ کب اسے پھونکنے کا حکم ہوتا ہےملاحظہ ہو۔
جامع ترمذی: جلد دوم ابواب صفۃ القیامۃ، صفحہ، 139 رئیس۔
چہارم: دنیا میں اللہ کے خوف سے رونا کوئی عیب نہیں بلکہ یہ فضیلت کا باعث ہے مذہب امامیہ کی معتبر کتاب خصال میں موجود ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تین آدمیوں کے علاوہ ہر شخص روتا ہوگا ایک وہ جو دنیا میں اللہ کے خوف سے رویا ہو۔ ملاحظہ ہو کتاب الخصال جلد اول صفحہ 185
پنجم: سیدنا علیؓ نے وقت شہادت سیدنا حسنؓ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا حسنؓ میں تمہیں اس طرح وصیت کرتا ہوں جس طرح مجھے رسول خداﷺ نے وصیت کی ہے اے فرزند جب میں دنیا سے مفارقت کروں اور میرے اصحاب تم سے موافق نہ رہیں اس وقت اپنے گناہوں پر رونا اور دنیا کو مقصور بزرگ نہ قرار دینا اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ خداوند جبار سے پنہاں و آشکار خائف رہنا۔
ملاحظہ ہو امامیہ مذہب کی کتاب جلاء العیون جلد اول صفحہ نمبر 296، 297
نوٹ: جس معترض نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ سیدنا عمر فاروقؓ کے وقتِ وفات پر جو باتیں نقل کرکے ان کے جنتی ہونے کی نفی کرنے کی ناکام کوشش کی تھی اس کے اصول سے ان کے اپنے پہلے اور دوسرے امام جنت سے فارغ ہوگئے۔
امامیہ مذہب کی معتبر کتاب صحیفہ سجادیہ میں موجود ہیں کہ سیدنا زین العابدینؓ نے فرمایا
انا الذی افنت الذنب عمرہ۔
میں وہ شخص ہو جس کی عمر گناہوں میں تمام ہوئی۔
اس کے علاوہ سیدنا زین العابدینؓ نے اپنے گناہوں کی مغفرت کی دعا بھی اللہ سے کی اور آخرت کے انجام کی فکر بھی کی۔
اس صورت میں بقول معترض کے اصول کے سیدنا زین العابدینؓ کنفرم جنتی ہیں تو یہ سوال ان کے جنتی ہونے پر بھی ہو سکتا ہے کہ جس کو جنت کی بشارت ملی ہو کنفرم جنتی ہوں جو وارث جنت ہو وہ بھلا کیسے اپنے گناہوں کی بخشش اور آخرت کی فکر کر سکتا ہے۔
ملاحظہ ہو صحیفہ سجادیہ
سیدنا حسنؓ نے وقت وفات روتے ہوئے فرمایا میں دو باتوں کے لیے روتا ہوں ایک وہ جو حالت آنے والی ہے یعنی برزخ اور دوسرا دوستوں کی جدائی سے۔
امامیہ مذہب کی معتبر کتاب اصولِ کافی جلد اول۔
یہ جاہلانہ سوال ہے کہ اس کی ترتیب خلافت کی وجہ سے ہونے کی وجہ سے یہ حدیث غلط ہے جب کہ زبان نبویﷺ‎ سے بھی کئی اور احادیث مبارکہ میں بھی خلفائے ثلاثہؓ کے نام مبارک اسی ترتیب سے آپؓ نے کئی دفعہ بتائے۔
 ملاحظہ فرمائیں جامع ترمذی: جلد دوم، ریاض النضرہ جلد اول۔
علاوہ ازیں خود سیدنا علیؓ نے کئی دفعہ اسی ترتیب سے ان ہستیوں کا اپنے سے افضل اور خلافت میں اولیت کو بیان فرمایا۔
ملاحظہ فرمائیں فضائلِ صحابہ امام احمد بن حنبلؒ، نہج البلاغہ، واقعہ صفین، شرح نہج البلاغہ ابنِ میثم۔
صفحہ 3 از 5