حدیث عشرہ مبشرہ پر اعتراضات کا تحقیقی جائزہ - دفاعِ اہلِ…

حدیث عشرہ مبشرہ پر اعتراضات کا تحقیقی جائزہ

  ابو روافض وقاص علی حیدری

صفحہ 2 از 5
اول: اس میں ایک راوی عوف ہے اس کے بارے میں میزان الاعتدال میں موجود ہے کہ یہ قدری، رافصی شیطان تھا اور ایسا راوی اگر ثقہ بھی ثابت ہو جائے تو بھی اس کی وہ روایت جو اس کے مذہب اور نظریہ کی تائید کرتی ہو وہ رد کر دی جائے گی ۔
دوم: دوسری بات یہ ہے کہ اس روایت میں بلغنیی ان مروان کے الفاظ عوف کہتا ہے کہ مجھے مروان بن الحکم کی طرف سے یہ بات پہنچی ہے مگر یہ بات پہنچانے والا کون ہے ہے اس کا علم روایت کے اندر نہیں پس اس لحاظ سے ایک راوی کے مجہول ہونے کی وجہ سے بھی حجت نہیں ہے ملاحظہ ہو طبقات ابنِ سعد جلد سوم صفحہ 119۔
سوم: عوف کی مروان بن الحکم سے ملاقات بھی ثابت نہیں۔
4. امامت و سیاست۔اس کتاب کا بھی حوالا معترض نے دیا ہے یہ جس مصنف کی طرف منسوب ہے اس کی یہ کتاب ثابت ہی نہیں۔
اس کے علاوہ اس کی روایت کی سند ثابت ہی نہیں۔
تیسرا یہ کہ خود امامت و سیاست کے مصنف کے بارے میں بشرطیکہ وہ اس کتاب کا مصنف ثابت بھی ہو امام حاکم فرماتے ہیں کہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ قتیبہ کذاب ہے ملاحظہ ہو میزان الاعتدال۔
5. ممکن ہےتاریخ میں ڈھونڈنے سے ایسے حوالے مل جائیں گے جن میں امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفانؓ کے قاتلین میں سیدنا علیؓ کانام بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے علاوہ لوگوں نے لیا کیونکہ کہ ہر شخص کو مکمل حالات کا پتہ نہیں تھا قاتلینِ امیرالمومنین سیدنا عثمانؓ سیدنا علیؓ کے لشکر میں چلے گئے اور دوسرا قرینہ عام لوگوں کے پاس یہ تھا کہ سیدنا علیؓ فوراً خلیفہ بھی بن گئے شک تو جاتا تھا۔
لیکن یہ ثابت نہیں کہ سیدنا علیؓ نے یہ کام کیا اور آپؓ نے اس فعل سے برات کا اعلان بھی فرمایا تھا۔
اس لئے ہم اہلِ سنت و الجماعت سیدنا علیؓ سمیت تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی پر بھی خلیفتہ المومنین مظلوم مدینہ سیدنا عثمان بن عفانؓ کی شہادت کا الزام نہیں لگاتے
کسی کے بارے میں جرم ثابت ہونا اور ہے اور ایسا مشہور ہونا اور ہے مثال کے طور پر حضرت موسی علیہ السلام جب کوہِ طور سے واپس آئے تو سارا غصہ قوم کے بگڑنے کا حضرت ہارون علیہ السلام پر اتارا لیکن ان کا کوئی قصور نہیں تھا یہ حالات دیکھ کر انہوں نے ایسا کیا۔
حصہ چہارم:
1. سیدنا علیؓ کا قتل امیرالمومنین کا الزام لگانے کے لیے معترض نے نہج البلاغہ کا حوالہ دیا تھا پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کتاب ہمارے نزدیک غیر معتبر ہے دوسری بات یہ ہے کہ نہج البلاغہ کے اندر اس روایت کی سند ہی موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے اس کو نہ تحقیقی جواب کے زمرے میں پیش کیا جا سکتا ہے نہ الزامی۔
اول: خود سیدنا علیؓ نے سیدنا طلحہٰؓ و سیدنا زبیرؓ کے لیے جنت کی خوشخبری امام الانبیاء خاتم المعصومین حضرت محمد عربیﷺ سے سنی تھی چنانچہ آپؓ نے فرمایا کہ میں نے خود رسول اللہﷺ سے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ طلحہٰؓ و زبیرؓ جنت میں میرے پڑوسی ہوں گے۔
ملاحظہ ہو جامع ترمذی جلد دوم ابواب المناقب: صفحہ، 719۔
دوم: خود امامیہ کتاب میں موجود ہے کہ سیدنا علیؓ کو جب سیدنا عثمانؓ کے شہادت کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کی طلحہٰؓ میری بیعت کے بغیر ہی جنت میں چلا جائے۔
ملاحظہ ہو روضۃ الصفاء جلد دوم صفحہ 487۔
سوم: اسی طرح جب سیدنا علیؓ کے سامنے سیدنا زبیرؓ کا قاتل آیا تو اس کو آپؓ نے فرمایا: بشر وہ بالنار۔
ترجمہ: اسے جہنم کی بشارت دے دو۔
ملاحظہ ہو المستدرک: جلد، سوم رقم، 5578 مسند ابی داؤد الطیالسی: جلد، اول صفحہ، 137 رقم، 158 مسند احمد: جلد دوم، صفحہ، 185۔
اس کے علاوہ یہ روایت شیعہ کتب میں بھی موجود ہے ملاحظہ ہو اخبار الطوال: صفحہ، 49 مروج الذہب: صفحہ، 364 روضتہ الصفا: جلد دوم، صفحہ، 487۔
اور اسی طرح سیدنا علیؓ نے سیدنا عثمانؓ کے قتل شہادت کے بعد بعد قرآنِ مجید کی سورۃ الحجر کی آیت 47 سے استدلال کر کے جنتی تسلیم کیا چنانچہ آپؓ نے اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرمایا کہ میں اور طلحہٰؓ انہی لوگوں میں سے ہوں گے یہ سن کر پاس بیٹھے دو سبائیوں نے سیدنا علیؓ پر اعتراض کیا کہ خود ان کو قتل بھی کرتے ہو اور ان کو جنتی بھی کہ کر بھائی بھی مانتے ہو؟ اس پر سیدنا علیؓ کو غصہ آ گیا اور آپؓ نے اتنی آواز سے فرمایا کہ پورا محل گونج گیا آپؓ نے فرمایا جاؤ اس زمین سے دور ہو جاؤ اگر اس آیت کے تحت جنت میں جانے والے میں اور سیدنا طلحہٰؓ نہیں تو بتاؤ اور کون ہے؟
ملاحظہ ہو طبقات ابن سعد جلد سوم 119,120
اگر اسی طرح آپ تاریخی کتب سےقاتل تلاش کرنے ہی ہیں تو لیجیئے شوق پورا کیجیئے یہ لیں یہ سارے قاتل سیدنا علیؓ کے لشکر میں تھے جب ان لوگوں نے صدیقہ کائنات سیدنا علیؓ علی کی روحانی ماں سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے ساتھ صلح دیکھی اور سیدنا علیؓ نے اپنے لشکر کو مخاطب کر کے فرمایا جن لوگوں نے سیدنا عثمانؓ کی قتل میں کسی قسم کی بھی مدد کی وہ میرے ساتھ نہ آئے سیدنا علیؓ کا یہ فرمانا تھا کہ ان کے لشکر میں شامل ان باغیوں نے سر جوڑ لیے جنہوں نے امیر المؤمنین کو شہید کیا تھا اور ان میں جو سب سے بڑے سرغنہ ماسٹر مائنڈ باغی تھے ان میں عبداللہ بن سبا اشتر شریح بن اوفیٰ، سالم بن ثعلبہ۔
اور کہنے لگی کہ ہمیں اطلاع اور سیدنا زبیرؓ کی رائے تو پہلے سے معلوم تھی آئیے آج سے پہلے ہم نہیں جانتے تھے اگر ان دونوں نے صلح کرلی تو یہ ہمارے خون پر صلح عبد اللہ بن سباء نے یہ بھی کہا کہ ہم پچیس سو ہیں اور طلحہٰؓ اور زبیرؓ ر اور ان کے ساتھی 5000 ہیں۔
ملاحظہ ہو البدایہ والنہایہ: جلد، سوم صفحہ، 1484
ثابت ہوا کہ سیدنا علیؓ کے مطابق قاتل ان کے اپنے لشکر میں تھے اور عبداللہ بن سبا اور ان کے ساتھیوں کے بیانات سے بھی پتہ چلا کہ قاتل وہ خود ہی تھے اور سیدنا طلحہٰؓ اور سیدنا زبیرؓ تو مسلم بین الفریقین سیدہ عائشہؓ کے لشکر میں تھے۔
معترض نے حدیثِ عشرہ مبشرہ پر یہ بھی اعتراض کیا ہے کہ سیدنا عثمانؓ کو آگر رسول اللہﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی تو جب آپؓ کے گھر کا محاصرہ ہوا تو آپؓ نے بلوائیوں، باغیوں کو یہ حدیث کیوں نہ سنائی۔
صفحہ 2 از 5