حدیث عشرہ مبشرہ پر اعتراضات کا تحقیقی جائزہ - دفاعِ اہلِ…

حدیث عشرہ مبشرہ پر اعتراضات کا تحقیقی جائزہ

  ابو روافض وقاص علی حیدری

صفحہ 1 از 5

حدیث عشرہ مبشرہ پر اعتراضات کا تحقیقی جائزہ

حصہ اول: حدیث عشرہ مبشرہ پر پہلا اعتراض یہ کیا گیا کہ چونکہ اس میں شامل سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کو اس کا علم نہیں تھا اس لیے حدیث غلط ہے۔
1: جب کہ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ رسول اللہﷺ‎ سے اپنے سننے کی سیدنا عبداللہ بن سلامؓ کے جنتی ہونے کے علاوہ نفی فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سیدنا عبداللہ بن سلامؓ کے علاوہ جنتی ہونے کے بارے میں کسی اور کا نہیں سنا۔
اس کا یہ کیسے مطلب ہوگیا کہ رسول اللہﷺ سے کسی نے بھی عشرہ مبشرہ کے جنتی ہونے کی نہیں سنی کسی ایک صحابی رسولﷺ کو کسی ایک بات کا علم ہونا اور دوسرے کو نہ ہونا پہلے والے کے علم کی نفی نہیں ہوتی۔
2: اگر سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ یہ فرماتے کہ رسول اللہﷺ نے کسی بھی صحابی کے جنتی ہونے کی بشارت نہیں دی سوائے سیدنا عبداللہ بن سلامؓ کے پھر معترض کا اعتراض ٹھیک تھا مثال کے طور پر سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن عمرؓ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپﷺ نے فرمایا حسنؓ اور حسینؓ میرے دنیا کے پھول ہیں جامع ترمذی جلد دوم ابواب المناقب۔
اب اگر سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ یہ کہہ دیں کہ یہ فرمان ہم نے نہیں سنا اور سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہہ دیں میں نے سنا نہ تو اس سے سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کی طرف سے رسول اللہﷺ کی زبان مبارک سے اس حدیث کی سماعت کی نفی ہوسکتی، اور نہ حضراتِ حسنین کریمینؓ کی بات غلط ہے۔
دونوں باتیں اپنی جگہ پر حق ہیں صرف سوچ کا اینگل درست ہونا چاہیے ورنہ امامیہ مذہب کے مصادر سے ہر درست روایت کو غلط رنگ دے کر بات کا پتنگڑ بنایا جا سکتا ہے بشرطیکہ درست روایات ہوں۔
3: بنیادی طور پر یہ حدیث عشرہ مبشرہ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ نے حضورﷺ سے نہیں سنی جن کی روایت کا معترض غلط مطلب بیان کر رہا ہے۔
بلکہ یہ حدیث سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ، سیدنا سعید بن زیدؓ نے حضورﷺ سے روایت کی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ابوبکرؓ جنت میں، عمرؓ جنت میں، عثمانؓ جنت میں، علیؓ جنت میں، طلحہٰؓ جنت میں، زبیرؓ جنت میں، عبدالرحمٰن بن عوفؓ جنت میں، سعد بن ابی وقاصؓ جنت میں، سعید بن زیدؓ جنت میں اور ابو عبیدہ بن الجراحؓ جنت میں جائیں گے۔
جامع ترمذی جلد دوم باب المناقب
حصہ دوم:
تاریخ طبری کے حوالے سے حدیث عشرہ مبشرہ پر یہ اعتراض کیا گیا کہ اس حدیث میں شامل جنتی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سیدنا عمر فاروقؓ نے مسئلہ خلافت کے خلاف کرنے کی وجہ سے قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا۔
جبکہ یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے اس کا ایک راوی لوط بن یحییٰ ابی مخنف ہے جو پرلے درجے کا جھوٹا کذاب اور ضعیف راوی تھا جمہور محدثین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہےاس روایت کا دوسرا راوی محمد بن عبداللہ انصاری ہے جس کو امام عقیلیؒ نے منکر الحدیث کہا ہے امام ابنِ حبانؒ نے منکر حدیث کہا ہے اور امام ابنِ طاہرؒ نے جھوٹا کہا ہے۔ اس روایت کا تیسرا راوی جناب اعمش ہیں جو تدلیس کی وجہ سے مشہور ہیں اگر وہ سماع کی تصریح راوی سے نہ کریں تو ان کی روایت حجت نہیں ہوتی اور یہاں سماع کی تصریح نہیں ہے بلکہ ابراہیم سے جناب اعمش سماع کی تصریح کے بغیر روایت کرتے ہیں۔
ان علتوں کی وجہ سے معترض کی یہ طبری کی روایت حجت نہیں۔
ملاحظہ ہو میزان الاعتدال: جلد پنجم صفحہ، 508 میزان الاعتدال ترجمہ: محمد بن عبداللہ انصاری تاریخ طبری جلد دوم صفحہ 687۔
 حصہ سوم:
اس حدیث مبارکہ میں شامل سیدنا طلحہٰؓ اور سیدنا زبیؓر پر معترض نے یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ دونوں شخصیات سیدنا عثمانؓ کی شہادت میں شریک تھے اور جو حوالہ جات پیش کیے گئے ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں کہ ان دو شخصیات نے سیدنا عثمانؓ کو شہید کیا تفصیل اس کی درج ذیل ہے:
1. تاریخِ طبری کے اندر جو روایت ہے اس میں بھی قتل کا ذکر نہیں اور باقی راویوں پر بحث کے علاوہ بھی محمد بن عمر واقدی بھی اس روایت میں موجود ہے اور اس کی روایت پیش ہی نہیں کی جا سکتی محدثین نے اس پر سخت جرح نقل کی ہے امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں یہ کذاب ہے امام ابنِ معینؒ فرماتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے امام بخاریؒ کہتے ہیں یہ متروک ہے امام ابو حاتمؒ کہتے ہیں یہ روایت گھڑتا تھا، امام دارقطنیؒ فرماتے ہیں یہ ضعیف ہے ملاحظہ ہو میزان الاعتدال: جلد، 7 صفحہ، 273 میم۔
کامل ابنِ اثیر میں علیحدہ سند نہیں وہ بھی تاریخ طبری کا ہی چربہ ہے اس لئے اس کا جواب کی ضرورت ہی نہیں۔
2. الاستیعاب جلد دوم کی جو روایت پیش کی گئی ہے اس میں جناب امام عبد الرحمٰن بن مہدی ہیں جن سے علامہ ابنِ عبد البر نقل کرتے ہیں جبکہ امام عبد الرحمٰن بن مہدی سے علامہ ابنِ عبد البر کی ملاقات ہی ثابت نہیں اس لیے یہ روایت ہی منقطع ہے امام امام عبد الرحمٰن 198 میں وفات پا گئے تھے اور علامہ ابنِ عبد البر ان کے سو سال سے زائد عرصہ بعد پیدا ہوئے ملاحظہ ہو الاستیعاب جلد اول مقدمہ۔
دوسری بات یہ ہے کہ علامہ ابنِ عبد البر نے خود لکھا ہے کہ مروان کا یہ وہم تھا کہ سیدنا طلحہٰؓ امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفانؓ کی شہادت میں ملوث ہیں۔چنانچہ علامہ ابنِ عبدالبر لکھتے ہیں 
 ‏‏فیما زعموا یہ مروان کا وہم ہے ملاحظہ ہو الاستیعاب جلد دوم صفحہ 318۔
تیسری بات یہ ہے کہ مروان والی روایت میں یہ ساری گفتگو علامہ ابنِ عبدالبر نے ویقال سے شروع کی۔سکین لگا دوں گا اس میں دیکھ لیں اس کا مطلب ہے کہا گیا ہے کیا پتا کس نے کہا کون تھا کیسا آدمی تھا ثقہ تھا جھوٹا تھا اس علت کی وجہ سے بھی یہ روایت نہیں پیش کی جا سکتی۔
 چوتھی بات یہ ہے کہ سیدنا طلحہٰؓ نے اپنے آپ کو ہرگز یہ نہیں کہا کہ میں نے امیر المؤمنین سیدنا عثمانؓ کو شہید کیا بلکہ آپؓ نے ندامت کا اظہار اس وجہ سےکیا آپؓ ان کی مدد نہ کرسکے اس لیے آپؓ نے اللہ سے دعا کی کی کیا اللہ آپ ان کا بدلہ مجھ سے لے کر راضی ہو جائیں اور یہ روایت ہے ہی منقطع جس کی تفصیل بتا دی گئی ہے۔
3. طبقات ابنِ سعد کی جو روایت معترض نے پیش کی ہے وہ بھی قابلِ حجت نہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ:
صفحہ 1 از 5