تعارف باغ فدک - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تعارف باغ فدک

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 2

ایک حد( کنارہ) عدن، دوسری سمرقند، تیسری افریقہ، چوتھی سمندر کا کنارہ جو آرمینیا سے ملا ہوا ہے

(بحار الانوار جلد 8 صفحہ 101)

اسی کتاب کی ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ فدک میں بے شمار قلعے اور اموال تھے اور آخر کار ان قلعوں اور اموال کی چابیاں حضورﷺ کے پاس آگئیں (ایضاً)

ان تمام روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ فدک تقریباً آدھی سے زیادہ دنیا پر محیط تھا اور یہ ایک ایسی سلطنت کا نام تھا جو آرمینیا سے لے کر مصر تک پھیلی ہوئی تھی اس کی ایک حد مدینہ میں احد پہاڑ کو بھی لگتی تھی

( دیکھیے انوار النعمانیہ جلد 1 صفحہ 16)

یعنی فدک ایک بہت عریض و وسیع سلطنت کا نام ہے جس میں کئی ملک تھے، کئی بڑے بڑے قلعے تھے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنے پروں سے اس کی حدود مقرر کی تھیں اور یہ سارا مال و متاع و اسباب جائداد حضورﷺ نے اکیلی حضرت فاطمؓہ کے لیے رکھا تھا۔ حضرت فاطمہؓ ابوبکرؓ سے اسی وسیع سلطنت کا مطالبہ کر رہی تھیں اور بقول شیعہ لمبے چوڑے خطبے دے رہی تھی۔

انا للہ وانا الیہ راجعون۔

مشہور محقق مناظر، فاتح اعظم رافضیت حضرت العلام مولانا اللہ یار خان رحمتہ اللہ شیعہ کی طرف سے فدک کے اس حدود اربعہ پر دلچسپ تبصرہ فرمایا جسے پڑھنا نہایت اہم ہے۔ فرماتے ہیں کہ:

  "اس حقیقت کے پیش نظر یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہؓ نے سیدنا ابوبکرؓ سے جس فدک کا مطالبہ کیا تھا وہ اہل لغت کا خیالی نہیں بلکہ ائمہ معصومین ( شیعہ جن بارہ اماموں کو معصوم مانتے ہیں ان) کا بیان کردہ حقیقی فدک ہی مانگا ہو گا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی سلطنت حجاز کے ایک چھوٹے سے حصّے سے آگے نہیں بڑھی تھی۔ پھر وہ سیدہ فاطمہؓ کا مطالبہ کیونکر پورا کر سکتے تھے؟ اور سیدہ فاطمہؓ کے متعلق یہ کہنا کہ وہ جان بوجھ کر سیدنا ابوبکرؓ سے وہ چیز مانگ رہی ہیں جو ان کی قبضے میں نہیں کسی طرح قابل تسلیم نہیں۔ اگر آج کوئی شخص صدر پاکستان سے مطالبہ کرے کہ مجھے افغانستان اور ایران بطور جاگیر دے دیا جائے تو صدر پاکستان بھلا اس کا مطالبہ کیونکر پورا کر سکتے ہیں؟ اس پر اگر وہ شخص روٹھ جائے اور صدرِ پاکستان کو غاصب کہنے لگے تو اس کے متعلق کیا کہا جائے گا؟ اس بنا پر عقل کا یہی فیصلہ ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کا مطالبہ محض فرضی قصہ ہے جو لوگ اس مطالبے کو صحیح تصور کرتے ہیں ان کا فرض بنتا ہے کہ تاریخ سے یہ ثابت کریں کہ مطالبہ کے وقت یہ علاقے حضرت ابوبکرؓ کے قبضے میں تھے اور اسلامی حدود میں داخل تھے اگر ایسا نہیں اور یقیناً نہیں تو مطالبہ کو فرضی قصہ اور جعلی داستان کہنا پڑے گا"

(تحذیر المسلمین عن کید الکاذبین صفحہ 215)

جیسا کہ ہم اوپر عرض کر آئے ہیں کہ فدک اموال فئی میں سے تھا اور اللّہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مال فئی کی آمدنی کے حقدار بھی بتا دیے کہ وہ کن حقداروں میں خرچ کی جائے گی۔

یہ آٹھ مصارف (حقدار) ہیں جن کا ذکر سورۂ حشر کی آیت نمبر 7۔8۔ 9 میں موجود ہے۔

اور وہ یہ ہیں

1 اللہ کے نام پر۔

2 رسول اللہﷺ کے لیے۔

3 رسولﷺ کے قرابت داروں کے لیے۔

4 یتیموں۔

5 مسکینوں۔

6 مسافروں۔

7 مہاجرین۔

8 انصار کیلئے۔

شیعہ عالم محمد بن مرتضٰی المعروف فیض کاشانی نے حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کے حوالے سے اموال فئی کے متعلق نقل کیا ہے کہ۔۔۔۔۔۔

ھی للّہ وللرسول علیہ السلام ولمن قام مقامہ بعدہ

(تفسیر صافی صفحہ 210)

یہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کا حق ہے اور جو رسولﷺ کے بعد اس کا قائم اور جانشین بنے اس کا حق ہے۔

اس سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ مال فئی کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتا اور نہ یہ کسی کی وراثت میں چلتا ہے جب فدک  مال فئی میں سے تھا تو پھر اس پر وراثت کا دعویٰ خود شیعہ مفسرین کے نزدیک بھی غلط ہے۔ معلوم نہیں یہ لوگ حضرت فاطمہؓ پر کیوں غلط الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے ایک ایسی چیز کا مطالبہ کیا جس پر ان کا کوئی حق ہی نہیں تھا۔

اس قسم کی باتوں سے حضرت فاطمہؓ کی عزت ہوتی ہے یا آپؓ کے بارے میں کوئی اور تصور پیدا ہوتا ہے اس پر شیعہ عوام بھی کبھی غور کر لیا کریں۔

حضورﷺ اس آیت کی روشنی میں اس کی آمدنی اپنے اہل و عیال اور قرآن کے بیان کردہ دوسرے مصارف پر خرچ کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ سے یہ بات کہی بھی تھی اور ان دونوں بزرگوں نے اس کا کبھی انکار نہیں کیا۔۔۔۔۔۔

فکان النبیﷺ ینفق علی أھلہ من ھذا المال نفقۃ سنة ثم یاخذ مابقی فیجعلہ مجعل مال اللہ فعمل بذلک رسول اللہ ﷺ فی حیاتہ

(صحیح بخاری: جلد 2 صفحہ 576)

حضورﷺ اس مال سے اپنے گھر والوں کا سالانہ خرچ نکالتے تھے اور باقی مال کو اللہ تعالٰی کی بتائی گئی جگہوں پر خرچ کر دیتے تھے۔ حضورﷺ نے اپنی زندگی میں اس پر عمل کیا تھا۔

مٶرخ احمد بن یحیی بلاذری (279ھ)لکھتے ہیں۔

فکان نصف فدک خالصا لرسول اللہﷺ وکان یصرف ما یأتیہ منھا إلی أبناء السبیل وفی روایة أن فدک کانت للنبیﷺ فکان ینفق منھا ویاکل ویعود علی فقراء بنی ھاشم ویزوّج إلیھم

ترجمہ: آدھا فدک خالص حضورﷺ کے قبضے میں تھا۔ اس سے جو آمدنی آتی اسے مسافروں پر خرچ کر دیتے تھے ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ اس سے خود بھی خرچ کرتے تھے اس میں سے اپنے کھانے کے لیے لے لیتے اس میں سے بنی ہاشم کے فقراء کو دیتے اور ان کی شادیاں کراتے تھے۔

(فتوح البلدان: صفحہ 31)


صفحہ 2 از 2