تعارف باغ فدک - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تعارف باغ فدک

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 1 از 2

کیا سیدہ فاطمہؓ سیدنا ابوبکرؓ سے ناراض تھیں؟؟

حضور اقدسﷺ کے وصال کے بعد جب حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خلافت سنبھالی تو سیدہ فاطمہؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پاس پیغام بھیجا (خود ہرگز نہیں گئیں۔ شیعہ جو کہتے ہیں کہ دربار میں کھڑی رہیں اور کئی گھنٹے انتظار کیا وغیرہ،، یہ سب جھوٹ ہے۔ مسجد نبوی ہی تھی جہاں سب معاملات سلجھائے جاتے تھے۔ وہاں کون سا دربار تھا؟؟) کہ وہ آپ سے حضور اقدسﷺ کی وراثت کے لیے کہیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے قاصد کو بتایا کہ حضور اقدسﷺ کا ارشاد ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی میراث مال میں نہیں چلتی وہ جو کچھ بھی چھوڑ جاتے ہیں سب کا سب صدقہ ہوتا ہے۔ چنانچہ جب سیدہ فاطمہؓ کو یہ بات معلوم ہو گئی تو پھر آپؓ نے سیدنا ابوبکرؓ سے اس فدک کے بارے میں کوئی بات نہ کی۔ یہاں تک کہ آپؓ کا انتقال ہو گیا۔

شیعہ علماء اس پر سیدنا ابوبکر صدیقؓ پر نہایت ہی غلیظ قسم کے الزام لگاتے رہے ہیں اور ان کے مجتہد اور ملاّ ذاکرین یہ کہتے نہیں تھکتے کہ سیدنا ابوبکرؓ نے حضرت فاطمہؓ کا حق وراثت چھین لیا تھا اور انہیں ان کی جائیداد سے محروم کر دیا تھا۔ سیدہ فاطمہؓ یہ دنیاوی مال نہ ملنے پر  اس قدر ناراض ہوئیں کہ انہوں نے پھر سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے زندگی بھر کوئی بات نہیں کی اور اپنے جنازے میں بھی شریک نہ ہونے کی وصیت کر گئیں۔

آئیے ہم اس واقعہ کی حقیقت پر نظر کریں اور دیکھیں کہ سیدہ فاطمہؓ کے دل میں دنیاوی مال سے محبت کیا واقعی اس درجے کی تھی کہ اس کے لیے انہوں نے اپنے والد محترمﷺ کے عمر بھر کے رفیق اور جانثارؓ کو چھوڑ دیا تھا اور شیعہ لوگوں کی یہ بات کہاں تک درست ہے؟

مسئلہ فدک کی حقیقت

خاتم النّبییّن حضور اقدسﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہاں یہود کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور ان کے اپنے باغات اور زمینیں تھیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو قوّت و شوکت عطا فرمائی اور آس پاس کے علاقے ایک کے بعد دوسرا مسلمانوں کے قبضے میں آتے گئے۔ جب بنو نضیر، بنو قریظہ اور خیبر کے بعض قبائل نے مسلمانوں کا رعب و جلال دیکھا تو انہوں نے بغیر کسی لڑائی کے اپنی زمینیں مسلمانوں کے حوالے کر دیں ان میں فدک نامی جگہ بھی تھی حضورﷺ نے یہ زمینیں اپنی تحویل (قبضے) میں لے لیں۔ یہ مال فئی تھا۔

مشہور تبرائی شیعہ عالم مقبول احمد دہلوی حضرت باقر اور حضرت جعفر صادق رحمھما اللّٰہ کے حوالے سے لکھتا ہے۔

    "تہذیب الاحکام میں جناب باقر علیہ السلام اور جناب امام جعفر علیہ السلام سے فئی کے بارے میں منقول ہے کہ جو زمین اس طرح ہاتھ آئے کہ اس میں خون نہ بہایا گیا ہو (اور نہ ہی جہاد کی نیت سے گھوڑے دوڑائے گئے ہوں) بلکہ کسی قوم سے مصالحت کی گئی ہو اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کچھ دیا ہو اور جو زمین غیر آباد پڑی ہو یا پانی کی تہہ میں ہو یا پانی کے راستے میں ہو، یہ سب کی سب فٸ میں داخل ہے"

(ضمیمہ مقبول نوٹ نمبر 3 صفحہ نمبر 156)

نوٹ: یہی بات شیعہ کتاب تفسیر صافی جلد 1 صفحہ 636 اور دوسری کتب شیعہ میں بھی موجود ہے۔ پیش نظر رہے کہ فدک مال فٸ میں سے تھا یہ ایک گاؤں تھا جو مدینہ منورہ سے تین منزل کے فاصلے پر تھا جس میں پانی کا چشمہ اور کچھ کھجور کے درخت تھے اور یہ بغیر کسی جنگ کے فئی کے طور پر حضورﷺ کے قبضے میں آیا تھا اور خود علماء شیعہ بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ فدک اموال فئی میں سے تھا۔ یعنی اس (فدک) کے حق دار 8 قسم کے لوگ تھے۔

نہج البلاغہ کا شارح سیّد علی نقی لکھتا ہے۔

اہل فدک نصف آراں بقولے تمام را  بصلح  وآشتی تسلیم نمودند

(فیض الاسلام شرح نہج البلاغہ صفحہ نمبر 959)

فدک کے لوگوں نے اس کا نصف حصہ یا ایک قول کے مطابق تمام فدک بغیر کسی لڑائی کے حضور اقدسﷺ کے سپرد کر دیا۔

صاحب در نجفیہ لکھتا ہے کہ ایک روایت کے مطابق باغ فدک میں کھجور کے کل 11 درخت تھے جو حضور اقدس ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے لگائے تھے

انہ کان فیہا احدی عشر نخلة غرسھا رسول اللہﷺ بیدہ

(در نجفیہ صفحہ نمبر 332)

مگر افسوس کہ شیعہ علماء نے اپنی عوام کو یہ بتانے میں کوئی حیاء محسوس نہیں کی کہ فدک درحقیقت ایک بہت وسیع و عریض ملک تھا اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ نہیں چاہتے تھے کہ سیدہ فاطمہؓ کو اتنا بڑا ملک اور سلطنت مل جائے اور وہ دولت مند بن جائیں۔

شیعہ کتابوں میں فدک کا کل رقبہ کتنا دکھایا گیا ہے اسے بھی دیکھتے جائیے!

شیعہ مذہب کا سب سے بڑا عالم ملا محمّد بن یعقوب روایت کرتا ہے کہ جب خلیفہ مہدی نے حضرت موسیٰ کاظم سے پوچھا کہ فدک کا کل رقبہ کیا تھا اس کا حدود أربعہ تو بتائیں آپ نے اس کے جواب میں کہا:

حد منھا جبل احد وحد منھا عریش مصر وحد منھا سیف البحر وحد منھا دومۃ الجندل فقال لہ کل ھذا قال نعم یا امیر المؤمنین ھذا کلہ إن ھذا کلہ مما لم یوجف علی أھلہ رسول اللہ ﷺ یخیل ولا رکاب۔

( الشافی ترجمہ اصول کافی جلد 3،  صفحہ192)

ترجمہ: اس کا حدود أربعہ یہ ہے کہ ایک طرف جبل احد، دوسری طرف عریش مصر، تیسری سیف البحر اور چوتھی دومۃ الجندل۔ اس نے کہا کہ یہ ہے کل علاقہ؟ فرمایا ہاں اس علاقہ پر لڑائی نہیں ہوئی۔

حضرت موسٰی کاظمؒ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ فدک کسی باغ یا گاؤں اور شہر کا نام نہیں تھا ایک بڑا وسیع و عریض  کوئی ملک تھا کہ اس کا ایک کنارہ جبل أحد تھا تو دوسرا عریش مصر تھا ادھر سے سیف البحر تھا تو دوسری طرف دومة الجندل اس کی حد تھی۔

معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسٰی کاظمؒ کو خود پتہ نہ تھا کہ فدک کس چیز کا نام ہے اور اس کا حدود أربعہ کیا ہے۔ کسی نے ان سے کہہ دیا کہ آپ تو آدھی دنیا کے مالک ہیں اور آپ اس کو سچ سمجھ بیٹھے اور خلیفہ مہدی سے آدھی دنیا کا مطالبہ کر دیا۔

(استغفر اللہ)

شیعہ عالم باقر مجلسی حضرت جعفر رحمہ اللّٰہ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ۔

حضور اقدسﷺ نے کہا کہ جبرائیل علیہ السلام نے فدک کے حدود بتانے کے لیے اپنے پروں سے ایک لائن کھینچی اور مجھے حکم دیا کہ یہ سلطنت تمہارے (یعنی حضرت فاطمہؓ کے) حوالے کر دوں۔

(حیات القلوب  جلد 2 صفحہ 503)

اسی مضمون کی ایک اور روایت شیعہ عالم باقر مجلسی نے نقل کی ہے کہ اس میں فدک کی حدود یہ بیان ہوئی ہیں۔

صفحہ 1 از 2