حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے فضائل و مناقب - ردِ…

حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے فضائل و مناقب

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 2 از 2

( حیاۃ الصحابة: جلد 2، صفحہ 869، مجمع الزوائد: جلد 5، صفحہ 182)

یعلیٰ بن مرہؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ حسینؓ مجھ سے ہیں اور میں حسینؓ سے ہوں جو شخص حسینؓ کو دوست رکھتا ہے خدا اس کو دوست رکھتا ہے۔

(صحیح بخاری)

حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ نے فرمایا کہ ایک فرشتہ اترا جو اس سے پہلے کبھی نہ آیا تھا اس نے مجھے سلام کے بعد یہ بشارت پہنچائی کہ فاطمہؓ جنت کی عورتوں کی اور حسنؓ و حسینؓ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔

(رواه الترمذی: البدایه: جلد 8 صفحہ 206)

حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا ذكر الرسول صلى الله عليه وسلم، أن الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة،

( مسند ابى يعلىٰ: جلد 2، صفحہ 58، سنن نسائی کبریٰ: جلد 5، صفحہ 50)

سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ اہلِ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ 1362ھ فرماتے ہیں: سیدنا حسینؓ سے زیادہ کون ولی ہو گا جو حضورﷺ کے نواسے اور حد درجہ محبوب تھے جن کے بارے میں پیشن گوئی ہے حسنؓ اور حسینؓ دونوں نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔

(وعظ: حقیقت الصبر: صفحہ 42)

حضرت مولانا عاشق الٰہی میرٹھیؒ لکھتے ہیں: حضرات حسنینؓ خاتون جنتؓ کے لخت جگر، لاڈلے اور آنحضرتﷺ کے پیارے نواسے ہیں کہ نسل انہی سے چلی جو سادات کہلاتے ہیں، ان کے فضائل بے شمار ہیں اور جس کو ذرا بھی محبت ہو گی محبوب خداﷺ کے ساتھ وہ سمجھے گا کہ آپﷺ کے نواسوں کے ساتھ محبت کسی قدر بڑی نعمت ہے۔

( درر فرائد: صفحہ 335)

آنحضرتﷺ حضرات حسنین کریمینؓ کے لئے ہمیشہ دعا گو رہتے اور ان کی حفاظت کے لئے پڑھ کر انہیں دم کر دیا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں حضورﷺ یہ دعا پڑھ کر حسنؓ حسینؓ کو اللہ کی پناہ میں دیتے تھے:

(أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ هَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لأُمَّةٍ )

مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 173

میں اللہ کے کلمات تامہ کے ذریعہ وہم میں ڈالنے والے شیطان اور نظر بد سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔

كانَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يُعَوِّذُ الحَسَنَ والحُسَيْنَ، ويقولُ: إنَّ أَبَاكُما كانَ يُعَوِّذُ بهَا إسْمَاعِيلَ وإسْحَاقَ: أَعُوذُ بكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِن كُلِّ شيطَانٍ وهَامَّةٍ، ومِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ.

البخاري: (3371)

( سنن إبى داؤد جلد 2 صفحہ 304)

حضورﷺ نے اس کے بعد فرمایا: تمہارے جدِ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے لئے ان کلمات سے پناہ مانگا کرتے تھے۔

(یعنی ان کلمات کو پڑھ کر دم کرتے تھے) حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ جس نے جنتی آدمی دیکھنا ہو وہ سیدنا حسینؓ کو دیکھ لے کہ میں نے حضورﷺ سے ان کے بارے میں یہ بات سنی ہے۔

( مسند ابی یعلیٰ: جلد 2، صفحہ 3488، البدايه: جلد 8 صفحہ 206)

ایک مرتبہ حضرت حسنؓ نے حضرت ابو ہریرہؓ کو سلام کیا تو آپؓ نے اس کے جواب میں فرمایا وعليك السلام ياسيدى ۔ پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ آپؓ سید ہیں۔

( مسندابی یعلی: جلد 6، صفحہ 91)

ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے حالتِ احرام میں مچھر مارنے کے بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپؓ نے ان سے کہا تم کہاں سے ہو؟ اس نے کہا عراق سے۔ آپؓ نے فرمایا کہ اسے دیکھو یہ ایک مچھر کے قتل کے بارے میں مسئلہ پوچھتا ہے جبکہ ان لوگوں نے حضورﷺ کے نواسہ کو شہید کر دیا اور میں نے حضورﷺ سے سنا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ یہ میرے دنیا کے پھول ہیں:

قال النبيﷺ: هما رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدنيا . يعني الحسنَ والحسينَ»وروى أحمد بإسناده إلى أبي سعيد الخدري 

(مسند ابی یعلیٰ: جلد 5، صفحہ 287، اسد الغابة: جلد 2 صفحہ 26)

حضرت زید بن اسلمؓ کہتے ہیں کہ میں نے اہل بیت میں کسی کو سیدنا حسنؓ جیسا نہیں پایا۔

ما جالست في أهل بيته مثله يعنى الحسن

( المصنف لابن ابی شیبہ: جلد 6، صفحہ 186)

شیعہ عالم شئخ صدوق لکھتا ہے کہ حضرت معاویہؓ نے یزید کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: حضرت حسینؓ کے بارے میں تو تمہیں معلوم ہی ہے کہ انہیں حضورﷺ سے قرابت کی نسبت ہے اور وہ حضورﷺ کے جسم مبارک کا ٹکڑا ہیں اور ان کا جسم حضورﷺ کی طرف سے پرورش یافتہ ہے اور میں جانتا ہوں کہ اہل عراق ضرور انہیں اپنی طرف بلائیں گے اور پھر ان کی مدد سے ہاتھ اٹھا لیں گے اور ان کو اکیلا چھوڑ دیں گے اگر تجھے ان پر غلبہ ملے توان کی عزت کے حق کو پہچاننا اور حضورﷺ کے ساتھ ان کی قرابت کے مرتبہ کو یاد رکھنا اور ان کے اعمال کا مؤاخذہ نہ کرنا اور میں نے ان کے مابین جو روابط اس مدت میں قائم کر رکھے ہیں ان کو قطع نہ کرنا خبر دار انہیں کوئی مکروہ اور تکلیف دہ چیز نہ پہنچانا۔


ویاری او نخواهند کرد و او را تنها خواهند گذاشت اگر با وظفریابی حق حرمت او را بشناس و منزلت و قرابت او را با را با پیغمبر آورد او را بکرده هاۓ او را مؤاخذه مکن و روابطی که من باو در این مدت محکم کرده ام قطع مکن زنهار که با و مکروهی و آسپی مرسان


(جلاء العیون: صفحہ388)


افسوس صد افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا اور سیدنا حسینؓ مرتبۂ شہادت پا کر ہمیشہ کیلئے امر ہو گئے۔


صفحہ 2 از 2