سیدنا حسین رضی اللہ عنہ علم و فضل کے اعلیٰ مقام پر - ردِ…

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ علم و فضل کے اعلیٰ مقام پر

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 2 از 2
فضیل نے پوچھا کہ روافض(شیعہ) یہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے سیدنا علیؓ کے لئے اور سیدنا علیؓ نے سیدنا حسن ؓ کے لئے اور سیدنا حسنؓ نے سیدنا حسینؓ کے لئے (علی ھذا القیاس) امامت کی وصیت کی تھی ( کہ ان کے بعد یہ اور ان کے بعد وہ امام ہوں گے)۔
آپؒ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میرے والد کا اس حال میں انتقال ہوا کہ انہوں نے اس باب میں دو حرف کی بھی وصیت نہ کی تھی، جو لوگ (شیعہ) اس طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ ہماری طرف جھوٹ منسوب کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اہل بیت کے نام پر اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔
( تہذیب الکمال: جلد 20 صفحہ 396)
ایک مرتبہ کسی نے آپؒ سے سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے بارے میں پوچھا کہ آپؒ کی ان کے بارے میں کیا رائے ہے؟ آپؒ نے حضور ﷺ کے روضہ اطہر کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا کہ ان کے مقام و مرتبہ کے لئے بس یہی کافی ہے کہ وہ سرور دو عالم رسول اکرم حضرت محمد رسول اللهﷺ کے ساتھ آرام فرما ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ 2770 تہذیب جلد 7 صفحہ 306)
سیدنا زین العابدینؒ کے صاحبزادے سیدنا محمد باقرؒ کہتے ہیں میں اپنے والد سیدنا زین العابدینؒ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ بنی امیہ کی اقتداء میں بغیر کسی تقیہ کے نمازیں پڑھا کرتے تھے اور ہمارا بھی یہی معمول ہے۔
( طبقات: جلد 5 صفحہ 216)
آپؒ کی وفات 94ھ کو مدینہ میں ہوئی اور جنت البقیع میں آپؒ کی تدفین عمل میں آئی۔
نوٹ: جس طرح سیدنا حسینؓ کی شہادت کے بعد شیعہ گروہ امامت کے عنوان پر ایک دوسرے کے مقابل آ گیا اور ہر کوئی اپنی پسندیدہ شخصیت کو امام بتانے لگا اس طرح سیدنا علیؒ بن حسینؓ کی وفات کے بعد بھی امامت کے مسئلہ پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا تھا۔ شیعہ روایات بتاتی ہیں کہ آپؒ کی وفات کے بعد آپؒ کے صاحبزادہ حضرت زیدؒ نے دعویٰ امامت کر دیا (ان کی امامت کے قائلین کو زیدیہ کہا جاتا ہے ) اور وہ چالیس ہزار کا لشکر لے کر عراق کے حاکم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے مگر ان میں سے تیس ہزار نے عین موقع پر آپؒ سے بے وفائی کر لی اور حضرت زیدؒ شہید کر دیے گئے۔ انہی دنوں کچھ لوگ سیدنا حسن مثنیؒ بن سیدنا حسنؓ بن علیؓ کی امامت کے قائل ہوئے ان کے بعد ان کے بیٹے عبداللہ رحمۃاللہ پھر ان کے بعد ان کے پوتے محمد نفس ذکیہؒ کی امامت کے قائل ہوئے اور انہوں نے آپؒ کو امام مہدی سمجھا. ایک گروہ سیدنا زین العابدینؒ کے بعد آپؒ کے دوسرے بیٹے سيدنا محمد باقرؒ کی امامت کا قائل ہوا اس گروہ میں چار لوگ ایسے تھے جن کے بارے میں حضرت جعفر صادق رحمۃاللہ کہتےہیں کہ وہ اگر نہ ہوتے تو ہمارا کہیں ذکر بھی نہ ہوتا۔ زرارہ، ابوبصیر محمد بن مسلم، برید بن معاویہ
(دیکھیے رجال کشی: صفحہ 136)
ہم اس وقت اس تفصیل میں نہیں جاتے کہ ان چاروں نے اہلِ بیت نبوت کے نام پر کسی قدر شرمناک تماشا برپا کیا اور ان بزرگوں کے نام سے کتنی شرمناک روایات وضع کر ڈالیں یہ بات خود شیعہ علماء بھی تسلیم کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ جب ان بزرگوں کو ان کی خرافات کا پتہ چلتا تو وہ ان پر لعنتیں بھیجا کرتے تھے اور ان کو پرلے درجے کا جھوٹا کہتے تھے۔
سیدنا حسین ؓ کی ایک بیٹی فاطمہ کا نکاح حسن مثنیؒ سے ہوا جو آپؓ کے بھتیجے تھے ان کے بعد سیدنا عثمانؓ کے پوتے عبداللہ بن عمروؓ سے ان کی شادی ہوئی۔
آپؓ کی دوسری صاحبزادی سکینہؓ کی شادی عبداللہ الحسن سے ہوئی تھی مگر رخصتی سے قبل عبداللہ فوت ہو گئے پھر ان کا نکاح مصعب بن زبیر سے ہوا، ان کے بعد سیدنا عثمانؓ کے پوتے حضرت زید بن عمرو سے ان کا نکاح ہوا۔
یاد رہے کہ سیدنا حسنؓ کی دونوں بیٹیاں بھی سیدنا عثمانؓ کے خاندان میں بیاہی گئیں، ان نکاحوں کی تصریح شیعہ کی معتبر کتابوں تذکرہ سبط ابن جوزی اور منتخب التواریخ صفحہ 241 طبع ایران میں موجود ہے اور شیعہ مؤرخ امیر علی نے بھی اپنی کتاب تاریخ صحرانشیناں (صفحہ 202 حاشیہ ) پر سیدہ سکینہ بنت الحسینؓ کے سیدنا عثمانؓ کے پوتے کے نکاح میں آنے کو صریح لفظوں میں تسلیم کیا ہے۔
( عبقات 216)
حضور ﷺ نے سیدنا حسینؓ کی شہادت کی پیشگوئی پہلے ہی فرمادی تھی چنانچہ آپؓ کی شہادت دس محرم 61ھ جمعہ کے دن ہوئی اس وقت آپؓ کی عمر مبارک 57 سال اور ساڑھے چھ ماہ تھی۔ آپؓ کا مزار مبارک عراق میں مرجع خلائق ہے اور ہزارہا لوگ دن رات آپؓ کے مزار پر سلام کے لئے حاضر ہوتے ہیں اور آپ کے لئے ایصالِ ثواب کرتے ہیں۔
علامہ عزالدین ابن اثیرؒ لکھتے ہیں:
و قبره مشهور يزار
(اسد الغابة: جلد 2 صفحہ 27)
سیدنا حسینؓ کی قبر مشہور اور زیارت گاہ خلائق خاص وعام ہے.
وقبره مشهور يزار به ويتبرك به وحزن الناس عليه كثيرا واكثروا في المراثي
( تهذیب الاسماء: جلد 1 صفحہ 163 )
اللہ تعالیٰ نواسہ رسولﷺ جگر گوشہ بتولؓ سیدنا حسینؓ کی قبر مبارک کو نور سے منور فرمائے آپؓ کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے اور سب مسلمانوں کی جانب سے آپؓ کو بہترین جزاء عطا فرمائے آمین۔

صفحہ 2 از 2