سیدنا حسین رضی اللہ عنہ علم و فضل کے اعلیٰ مقام پر - ردِ…

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ علم و فضل کے اعلیٰ مقام پر

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

صفحہ 1 از 2
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ علم و فضل کے اعلی مقام پر
ارباب سیر اس پر متفق ہیں کہ سیدنا حسینؓ علم و فضل میں بہت اونچا مقام رکھتے تھے۔ بہت سے لوگ آپؓ سے مسئلہ پوچھتے اور آپؓ ان کے فقہی سوالات کے جوابات دیتے تھے۔ علامہ ابن قیم حنبلیؒ 751ھ نے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کو ان لوگوں میں شمار کیا ہے جو فتویٰ دیتے تھے تاہم ان کی تعداد کم روایت ہوئی ہے۔
والباقون منهم مُقِلُّون في الفتيا، لا يُروى عن الواحد منهم إلا المسألة والمسألتان، والزيادة اليسيرة على ذلك؛ يمكن أن يُجمع من فتيا جميعهم جزءٌ صغير فقط، بعد التقصّي والبحث، وهم: أبو الدَّرْداء، وأبو اليُسر، وأبو سَلَمَة المخزوميّ، وأبو عُبَيدة بن الجَرَّاح، وسعيد بن زيد، والحسن والحسين ابنا علي،الخ
( دیکھیے اعلام الموقعین: جلد 2 صفحہ 19)
سیدنا حسینؓ اپنے وقت کے بڑے خطیب تھے اور آپؓ کو یہ فن اپنے والد محترم سے ملا تھا، آپؓ کے بعض خطبات اس کے شاہد ہیں۔ مسجد نبوی میں آپؓ کی مجلس لگا کرتی تھی جس میں دور دور سے لوگ آتے اور آپؓ سے فیض لیتے تھے۔
ایک مرتبہ سیدنا معاویہؓ نے ایک آدمی کسی کام کے لئے مدینہ منورہ بھیجا تو اس سے کہا کہ جب تم مسجد نبوی جاؤ گے تو وہاں دیکھو گے کہ ایک علمی مجلس قائم ہے اور وہ مجلس اس قدر پروقار اور پر سکون ہو گی کہ جیسے پرندے ان سب کے سروں پر بیٹھے ہوں تو سمجھ لینا کہ یہ سیدنا حسینؓ کا حلقہ ہے۔
( تہذیب تاریخ ابن عساکر: صفحہ 322)
شمس الائمہ امام سرخسیؒ نے سیرِ کبیر میں آپؓ سے کئے گئے سوالات کے جوابات نقل کئے ہیں
سیدنا حسینؓ کے اہل و عیال
  سیدنا حسینؓ نے متعدد شادیاں کیں اور ان سے اولادیں میں بھی ہوئیں۔ آپؓ کے تین صاحبزادے آپؓ کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے سیدنا زین العابدینؒ (سیدنا علیؒ بن الحسینؓ) باقی رہ گئے، ان سے آپؓ کی نسل آگے چلی اور اللہ نے اس نسل میں برکت ڈالی۔
 سیدنا علیؒ بن حسینؓ (سیدنا زین العابدینؒ) خاندانِ نبوت کے چشم و چراغ اور کثیر الحدیث محدث اور فقیہ ہیں۔ کثرتِ عبادت کی وجہ سے آپؒ کو زین العابدین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت اونچا رتبہ اور مقام عطا فرمایا تھا اور علماء اسلام کے ہاں آپؒ بہت زیادہ مناقب و فضائل کے حامل بزرگ ہوئے ہیں۔
علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
وقال: (وأما ثناء العلماء على علي بن الحسين ومناقبه فكثيرة)
(منہاج السنۃ : جلد 7، صفحہ 534 )
حضرت سعید بن مسیبؒ فرماتے ہیں کہ میں نے زین العابدینؒ سے زیادہ خشیتِ الہیٰ رکھنے والا شخص نہیں دیکھا۔
(حلیۃ الاولیاء )
اللہ تعالیٰ نے آپؒ کے اوقات میں بہت برکت اتاری تھی، حضرت امام مالکؒ کا بیان ہے کہ آپؒ روزانہ ایک ہزار رکعت نفل نماز پڑھتے تھے، آپؒ کا یہ معمول موت تک رہا۔
انه كان يصلى في كل يوم وليلة ألف ركعة إلى أن مات
( تہذيب: جلد 7 صفحہ306، سیر اعلام النبلاء: صفحہ 2770)
امام زہریؒ کا بیان ہے کہ آپؒ بڑے اونچے درجہ کے فقیہ تھے، تاہم آپؒ بہت کم گو تھے۔
(ایضاً)
آپؒ کو صدقہ خیرات کرنا بہت محبوب تھا اور آپؒ کبھی تو اپنا سارا مال اللہ کے رستے میں خرچ کر دیا کرتے تھے۔
(حلیۃ الاولیاء: جلد 3 صفحہ 140)
شعبہ بن نعامہؒ کا بیان ہے کہ آپؒ کی وفات پر لوگوں کو پتہ چلا کہ آپؒ تو مدینہ منورہ کے سو سے زائد گھرانوں کی کفالت کیا کرتے تھے۔
(طبقات: جلد 5، صفحہ 222، منہاج السنۃ : جلد 4، صفحہ 49)
آپؒ خود اپنی کمر پر اناج وغیرہ لے کر جایا کرتے تھے، جس کی وجہ سے آپؒ کی کمر پر کچھ نشانات بھی پڑ گئے تھے۔
(حلیۃ الاولیاء )
محمد ابن سعد آپؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:
كان ثقة مامونا كثير الحديث عاليا رفيعا ورعا
(سير اعلام النبلاء: 2768، تہذیب: جلد 7 صفحہ 305)
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہؒ 728ھ آپؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:
وقال ابن تيمية (أما علي بن الحسين، فمن كبار التابعين وساداتهم علماً وديناً،
(منہاج السنة: جلد 4 صفحہ 49)
حافظ ابن حجر عسقلانیؒ 852ھ تقریب میں لکھتے ہیں:
ثقة ثبت عابد فقيه فاضل مشهور
( تقريب التهذيب)
آپؒ کی حدیث کی مجلس مسجد نبوی میں منعقد ہوتی تھی، آپؒ کے قریب سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے مولیٰ سلیمان بن یسار ہلالیؒ کی مجلس حدیث رہتی، سلیمان بن یسارؓ مدینہ کے فقہاء سبعہ میں سے ہیں۔ یزید بن حازمؒ اس مجلس میں جایا کرتے تھے اور اس مجلس کے عینی شاہد تھے، وہ فرماتے ہیں:
رأيت على بن حسين وسليمان بن يسار يجلسان بين القبر و المنبر يتحدثان إلى أن ارتفاع الضحى ويتذاكرون فإذا أراد أن يقوما قرء عليهم عبدالله بن أبي سلمة سورة فإذا فرغ دعوا
(طبقات ابن سعد: جلد 5 صفحہ 217)
میں نے سیدنا علی بن حسینؓ اور سیدنا سلیمانؒ کو دیکھا ہے، دونوں مسجدِ نبوی میں حضورﷺ کے روضہ اطہر اور منبر شریف کے درمیان بیٹھتے تھے اور دن چڑھے تک حدیث کی روایت اور اس کا مذاکرہ کرتے تھے اور جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے تو عبداللہ ابن ابی سلمہؒ قرآن کی کوئی سورت تلاوت کرتے اس کے بعد یہ دونوں حضرات دعا کرتے تھے. آپؒ روزانہ نماز عشاء کے بعد مسجد نبوی کے آخر حصہ میں بھی بیٹھا کرتے تھے آپؒ کےساتھ سیدنا عروہ بن زبیرؓ بھی ہوتے تھے۔ (طبقات ابنِ سعدؒ)
اور لوگ آپؒ کی اس مجلس سے مستفید ہوا کرتے تھے.
ایک مرتبہ لوگوں نے آپؒ سے کہا کہ آپؒ ان لوگوں کی مجلس میں کیوں بیٹھتے ہیں جو مرتبہ میں آپؒ کے برابر نہیں ہیں؟ آپؒ نے فرمایا کہ میں ایسے لوگوں کی مجلس میں بیٹھتا ہوں جن سے مجھ کو دینی نفع ملتا ہے۔
إني أجالس من انتفع بمجالسته فی دینی
(تہذیب جلد 7 صفحہ 305)
آپؒ کے شیوخِ حدیث میں آپؒ کے والد محترم اور سیدنا عبداللہ بن عباسؓ، مسور بن مخرمۃؓ، ابو رافعؓ، ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ، ام المؤمنین ام سلمۃؓ، ام المؤمنین حضرت صفيةؓ، مروان بن حکمؒ، سعید بن مسیبؒ وغیرہم ہیں۔
(منہاج السنة: جلد 4 صفحہ 48 )
فضيل بن مرزوق نے سیدنا زین العابدینؒ سے پوچھا کہ کیا اہل بیت میں کوئی ایسا آدمی ہے جس کی اطاعت امت پر فرض قرار دی گئی ہو؟ آپؒ نے کہا: نہیں اہل بیت میں کوئی ایسا نہیں جو مفترض الطاعت ہو، جو شخص ایسی باتیں کرتا ہے وہ پرلے درجہ کا جھوٹا آدمی ہے۔
صفحہ 1 از 2