منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا…

منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا پہلا خطبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

چنانچہ حضرت عمر فاروقؓ جب منصب خلافت پر سرفراز ہوئے تو آپؓ نے یہ دعا کی: ’’اے اللہ! میں سخت ہوں مجھے نرم کر دے‘‘ اور اللہ نے آپؓ کی یہ دعا قبول فرمائی، پھر حضرت عمرؓ کا دل شفقت، نرمی اور مہربانی سے معمور ہو گیا اور یہ چیزیں آپؓ کی خاص صفت بن گئیں۔ لوگوں نے حضرت عمرؓ کو اللہ کے رسولﷺ اور ابوبکرؓ کے زمانے میں سخت مزاج انسان کی حیثیت سے پہچانا تھا اور تاریخ نے بھی ہمارے سامنے یہی تصویر کشی کی ہے کہ آپؓ کی ذات وہ منفرد ہستی تھی جس نے اسلام قبول کرنے سے لے کر خلافت کا منصب سنبھالنے تک رسول اللہﷺ اور حضرت ابوبکرؓ کے پہلو بہ پہلو سختی اور قوت کا مظاہرہ کیا، یہاں تک کہ جب معاملہ (خلافت) آپؓ کے سر آ گیا تو وہ سختی، نرمی، آسانی اور رحمت میں تبدیل ہو گئی۔

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 122 )

10۔ خلفائے راشدینؓ کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے حق میں عمومی بیعت مدینہ والوں تک محدود تھی، کبھی کبھار اس بیعت میں ایسے بدوی اور دیگر قبائل کے لوگ شریک ہو جاتے جو مدینہ کے اردگرد ہوتے یا اس وقت مدینہ میں موجود ہوتے۔ لیکن بقیہ شہروں کے لوگ مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں طے پانے والے فیصلوں کے تابع ہوتے۔

یاد رہے کہ یہ طرزِ عمل بیعت میں کسی طعن یا اس کی شرعی حیثیت کو کم کرنے کی کوئی دلیل نہیں بن سکتا، کیونکہ ہر شہر اور ہر علاقہ سے سارے مسلمانوں کو اکٹھا کرنا ایک مشکل ترین کام تھا، جب کہ ملک کے لیے کسی حاکم کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ انسانوں کی مصلحتیں اور ان کا نظام معاشرت معطل نہ ہونے پائے۔ مزید برآں دوسرے شہروں کے باشندوں نے سیّدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی بیعت خلافت کے بارے میں مدینہ میں جو فیصلہ ہوا اس کی تائید بھی کی، بعض کی تائید صراحتاً اور بعض کی ضمناً رہی۔ بلاشبہ ابتدائے اسلام میں لوگوں نے (ملک اور ملکی سالمیت کے لیے) جو اسلوب اپنایا وہ سب ایسے تجربات تھے جو ملک اور اس کے اداروں کی ترقی کی راہ میں مستحکم لائحہ عمل ہیں۔ 

(الخلفاء الراشدون: صفحہ 123)


صفحہ 3 از 3