منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا…

منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا پہلا خطبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

2۔ آپؓ کی نگاہ میں منصب خلافت کا یہ تقاضا ہے کہ ملکی ذمہ داریوں سے متعلق جو معاملات بھی آپؓ کے سامنے آئیں انہیں آپؓ خود حل کریں اور رعایا پر جو آپ سیدنا ابوبکرؓ سے دور ہیں بہترین و باصلاحیت امراء اور گورنر مقرر کریں، تاہم آپؓ کی نگاہ میں اللہ کے سامنے جواب دہی اور اپنی ذمہ داری سے سبکدوشی کے لیے صرف اتنا کرنا کافی نہیں تھا، بلکہ آپؓ کا کہنا تھا کہ ان گورنروں اور حکام کی سخت نگرانی کرنا ایک ایسی ذمہ داری ہے جس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ اسی وجہ سے ان میں سے جس نے بہتر کام کیا آپؓ نے اس کے ساتھ احسان کیا اور جس نے آپؓ کی مرضی کے خلاف کیا اس کی آپؓ نے گرفت کی اور سزا دی۔

اس موضوع پر تفصیلی بحث ’’گورنروں کا نظام اور اس کی ترقی میں فقہ فاروقی کا کردار‘‘ کے زیر عنوان آ رہی ہے۔

3۔ حضرت عمرؓ کی سختی جس سے لوگ خوفزدہ ہیں وہ ان کے لیے خالص نرمی اور مہربانی میں بدل دیں گے اور ان کے لیے عدل و انصاف کا میزان قائم کریں گے اور جس نے ظلم و زیادتی کی اسے سخت سزا ملے گی اور رسوائی اس کے ہاتھ آئے گی۔ ’’کسی ظالم کو کسی پر ظلم اور سرکشی کرتے ہوئے نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ اس کا رخسار زمین سے رگڑ دوں گا‘‘ البتہ جس نے میانہ روی، دین داری اور پاک دامنی کو ترجیح دی وہ بے انتہا رحمت و مہربانی سے نوازا جائے گا۔ آپؓ نے سچ کہا کہ ’’میں اپنا چہرہ شرفاء کے لیے زمین پر رکھتا ہوں۔‘‘ 

(الإدارۃ العسکریۃ فی عہد الفاروق: صفحہ 106)

 اپنی رعایا کے ساتھ حضرت عمرؓ کا عدل و انصاف کیسا تھا؟ یہ بات ان شاء اللہ نظامِ عدل سے متعلق آپؓ کے مواقف اور اس پر آپؓ کے خصوصی اہتمام کے تحت ذکر کی جائے گی، جس سے معلوم ہو گا کہ ملک کے تمام صوبوں میں عدل و انصاف کا کس قدر بول بالا تھا۔ 

4۔ خلیفۃ المسلمین نے اس بات کی ذمہ داری قبول کی کہ امتِ مسلمہ کی جان و اموال اور ان کے دین کا مکمل دفاع کرے گا، سرحدوں کی حفاظت کرے گا اور خطرات کو پیچھے دھکیلے گا، لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ مجاہدینِ اسلام پر ظلم نہ ہو، سرحد کی اس حد تک انہیں جانے پر مجبور نہ کرے گا کہ جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے، اور اگر وہ لشکر میں نظر نہ آئیں (یعنی شہید کر دیے جائیں) تو خلیفہ اور اس کے اداری ذمہ داران و ارکان ان کے بچوں اور خاندانوں کی کفالت کریں گے۔

(السیاسیۃ الشرعیۃ: دیکھئے اسماعیل بدوی: صفحہ 160 نقلاً عن الطبری )

حضرت عمرؓ نے عسکری ادارے کو ترقی دی اور اپنے دور میں وہ ایسا زبردست فوجی ادارہ بنا کہ پوری دنیا میں اس کی کوئی مثال نہ تھی۔ 

5۔ خلیفہ نے پوری رعایا کے لیے خراج اور فے وغیرہ سے مالی حقوق کی ادائیگی کا عہد کیا کہ وہ اس میں سے کچھ روک کر نہ رکھے گا، وہ اسے ناجائز مقام پر خرچ نہ کرے گا، بلکہ مسلسل جہاد، غزوات اور محنت کی کمائی پر رغبت دلا کر نیز ملکی آمدنی کی بروقت وصولی کے ذریعہ سے ان کے وظائف اور عطیات میں اضافہ کرے گا۔ 

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 121)

سچ تو یہ ہے کہ سیّدنا عمرؓ نے مالی محکمہ اور ملکی خزانہ کو بہت ترقی دی، بیت المال کی آمدنی کے ذرائع اور ملکی مفاد میں اس کے مصارف کو نہایت منظم کیا۔ 

6۔ خلیفہ کے حقوق جو رعایا سے متعلقہ ہیں ان میں یہ بھی شامل ہے کہ اپنے خلیفہ کے لیے خیر خواہی اور اس کی سمع و اطاعت کی ذمہ داری بہترین طریقے سے نبھائے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرے جس سے سماج میں اسلامی ذہنیت کی نشوونما ہو۔

7۔ آپؓ نے خطبہ میں اس بات کی طرف آگاہ کیا کہ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں اللہ سے تقویٰ، نفس کا محاسبہ اور آخرت میں جواب دہی کے احساس کے علاوہ کوئی دوسری چیز معاون نہیں ہو سکتی۔

8۔ شیخ عبدالوہاب النجارؒ نے فرمان حضرت عمرؓ ’’عربوں کی مثال نکیل زدہ اونٹ جیسی ہے‘‘ پر تعلیق چڑھاتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اَلْجَمَلُ الْآنِفُ‘‘ اس اونٹ کو کہتے ہیں جو مالک کے تابع ہوتا ہے، ڈانٹ اور مار پڑتے ہی اپنی پوری طاقت سے چلنے لگتا ہے۔ آپؓ نے اس مثال کے ذریعہ سے اپنے زمانے کی امتِ مسلمہ کی بہترین تصویر کشی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ امت سامع و مطیع تھی، جو حکم ملتا تو پابندی کرتی اور جب کسی کام سے روکا جاتا تو فوراً رک جاتی۔ ساتھ ہی یہ عظیم ذمہ داری اس کے قائد پر بھی عائد ہوتی ہے کہ امت کی قیادت میں بڑی توجہ اور دانائی سے کام لے تاکہ نہ تو اسے خطرات میں ڈال دے اور نہ ہی ہلاکت میں غرق کر دے۔ اس کے کسی معاملہ کو غرور میں آ کر یونہی نظر انداز نہ کر دے۔ آپؓ نے خطبہ میں ’’راستہ‘‘ سے وہ سیدھا راستہ مراد لیا ہے جس میں کوئی کجی نہیں ہے، اور اس طرح جو قسم کھائی تھی اسے آپؓ نے پورا بھی کیا۔

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 121 محض الصواب: جلد، 1 صفحہ 375 )

9۔ تند مزاجی، سخت گیری اور نرمی کے بارے میں سنت الہٰی، لوگوں کے حالات، ان کی اجتماعی زندگی، کسی شخص کو چاہنے اور اس پر اتفاق کرنے، اس کی بات ماننے اور اس سے محبت کرنے کے بارے میں اللہ کی ہمیشہ یہ سنت رہی ہے کہ تند مزاج اور سخت دل انسان سے لوگ دور بھاگتے رہے ہیں، اگرچہ وہ ناصح اور لوگوں کے لیے خیر خواہ اور فائدہ مند ہی کیوں نہ ہو۔ 

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 121 )

اور اس حقیقت پر قرآن بھی شاہد ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے: 

فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ‌ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانْفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ‌ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ‌ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ‌ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَوَكِّلِيۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران: آیت 159)

ترجمہ: ’’پس اللہ کی طرف سے بڑی رحمت ہی کی وجہ سے تو ان کے لیے نرم ہو گیا ہے اور اگر تو بد خلق، سخت دل ہوتا تو یقیناً وہ تیرے گرد سے منتشر ہو جاتے، سو ان سے در گزر کر اور ان کے لیے بخشش کی دعا کر اور کام میں ان سے مشورہ کر۔‘‘

صفحہ 2 از 3