سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لیے نامزد کرنا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

’’اے عمر! اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ کے لیے کچھ کام صرف دن کے ہیں جنہیں وہ رات میں قبول نہیں کرتا، اور کچھ کام رات کے ہیں جنہیں وہ دن میں قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی نفل کو قبول نہیں کرتا جب تک کہ فریضہ کی ادائیگی نہ کی جائے۔ قیامت کے دن ترازو میں جن لوگوں کے نامہ اعمال بھاری ہوں گے وہ محض ان کے اتباع حق کی وجہ سے ہوں گے، کل وہ پلڑے یقیناً بھاری ہوں گے، اور جن لوگوں کے نامہ اعمال ہلکے ہوں گے وہ محض ان کے اتباع باطل کی بنیاد پر ہوں گے، کل وہ پلڑے یقیناً ہلکے ہوں گے۔ اللہ نے جنت والوں کا ذکر کیا تو ان کے اچھے اعمال کے حوالے سے یاد کیا اور ان کی گستاخیوں کو درگزر کر دیا۔ پس جب میں ان کا ذکر کرتا ہوں تو ڈرتا رہتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے نہ مل سکوں اور اللہ تعالیٰ نے جب جہنم والوں کا ذکر کیا تو ان کا ذکر ان کے بُرے اعمال کے حوالے سے کیا اور اپنی بھلائیوں کو ان پر بند کر دیا۔ پس جب میں ان کا ذکر کرتا ہوں تو میں امید لگاتا ہوں کہ اِن لوگوں کے ساتھ نہ رہوں۔ بندہ کو خوف و رغبت کی زندگی گزارنی چاہیے۔ اللہ سے بے جا امیدیں نہ باندھے اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اگر تم نے میری وصیت کو محفوظ کیا تو موت کے علاوہ کوئی بھی گمشدہ تیرے نزدیک مبغوض نہ ہو گا۔ اور تو اس کو عاجز نہ کر پائے گا۔‘‘ 

(مآثر الأنافۃ: جلد، 1 صفحہ، 49)

حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے فوراً بعد حضرت عمر بن خطابؓ نے خلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ 

(تاریخ الطبری: جلد، 4 صفحہ، 248)

اس مقام پر ایک محقق یہ محسوس کرتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کی طرف سے عمرؓ کو خلیفہ نامزد کیے جانے کو اس وقت تک شرعی حیثیت حاصل نہ ہوئی جب تک کہ اکثریت کی رضامندی حاصل نہ ہو گئی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے لوگوں سے مطالبہ کیا کہ میرے بعد وہ کسی کو اپنا خلیفہ بنانے کے لیے تلاش کر لیں تو لوگوں نے معاملہ آپؓ پر چھوڑ دیا اور کہا کہ ہماری وہی رائے ہو گی جو آپ کی رائے ہو گی۔ 

(طبقات ابن سعد: جلد، 3 صفحہ، 199 تاریخ المدینۃ: ابن شہبۃ: جلد، 2 صفحہ 665 تا 669 )

سیّدنا ابوبکرؓ نے اہم ترین صحابہ کرامؓ سے مشورہ کرنے کے بعد ہی سیدنا عمرؓ کو نامزد کیا تھا، انفرادی طور پر ہر ایک سے پوچھا اور جب سیدنا عمر فاروقؓ پر اتفاقِ رائے کا رجحان محسوس کیا تو حضرت عمرؓ کی نامزدگی کا اعلان کر دیا۔ اس طرح امتِ مسلمہ کی اہم ترین شخصیتوں سے رائے اور مشورہ لینے اور صحیح نقطہ نظر کی تلاش و جستجو کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کو نامزد کیا، اور اس نامزدگی کی شرعی حیثیت اس وقت تک مفقود رہی جب تک کہ امتِ مسلمہ نے اسے قبول نہ کیا۔ کیونکہ حاکم وقت کو منتخب کرنا امت کا حق ہے۔ خلیفہ زیادہ سے زیادہ امت کی طرف سے وکالت کر سکتا ہے۔ لہٰذا اصل حق داروں کی رضامندی ضروری ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اسی لیے امت مسلمہ سے مخاطب ہوئے اور کہا: کیا میں تم پر جس کو خلیفہ بناؤں تم اس پر راضی ہو؟ کیونکہ اللہ کی قسم میں نے لوگوں سے مشورہ کرنے میں ادنیٰ کوتاہی بھی نہیں کی ہے اور نہ کسی قرابت دار کو تم پر حاکم بنایا ہے۔ بلکہ میں نے عمر بن خطابؓ کو تم پر خلیفہ مقرر کیا ہے۔ تو تم ان کی بات سنو اور اطاعت کرو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ، الشجاع: صفحہ، 272 )

آپ کا یہ کہنا کہ ’’کیا میں تم پر جس کو خلیفہ بناؤں تم اس پر راضی ہو؟‘‘ اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ انتخاب خلافت کا معاملہ امت کا حق ہے، اور یہ چیز اس اُمت کے ساتھ خاص ہے۔

(صفۃ الصفوۃ: جلد، 1 صفحہ 265 ، 264 )

 بلاشبہ سیّدنا عمرؓ نے اہلِ حل و عقد کے مشوروں اور ان کے ارادوں کے اتفاق سے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی، لوگوں نے حضرت ابوبکرؓ کو انتخاب خلیفہ کی ذمہ داری سونپ دی اور آپؓ کو اس معاملے میں اپنا نائب مقرر کر دیا۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے مشورہ کیا اور خلیفہ متعین کر دیا۔ پھر اس تعیین کو لوگوں کے سامنے پیش کیا اور انہوں نے اس کا اقرار کیا، اسے قبول کیا اور اس پر اظہارِ رضا مندی کیا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ امت کے اصحاب حل و عقد ہی اس امت کے ممبران پارلیمنٹ ہیں۔ اس طرح گویا سیّدنا عمر فاروقؓ کا خلیفہ مقرر کیا جانا شورائیت کے صحیح ترین اور عادلانہ اسلوب کے بالکل موافق تھا۔ 

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: الشجاع: صفحہ 272 )

سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کے انتخاب کے لیے جو لائحہ عمل اختیار کیا وہ کسی بھی صورت میں شورائیت کے منافی نہیں ہے، اگرچہ سیدنا عمرؓ کو بحیثیت خلیفہ منتخب کرنے میں جو کارروائی کی گئی وہ سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کو بحیثیت خلیفہ منتخب کرنے میں نہ کی گئی تھی۔ 

(القیود الواردۃ علی سلطۃ الدولۃ فی الاسلام: صفحہ، 172) 

بہرحال خلافت فاروقی شورائیت اور اتفاق رائے سے منعقد ہوئی، نیز تاریخ اس بات پر خاموش ہے کہ آپ کی خلافت کے بارے میں کوئی اختلاف واقع ہوا ہو، یا آپؓ کی طویل مدت خلافت میں کسی نے آپؓ کی خلافت کے خلاف بغاوت کی ہو۔ بلکہ آپؓ کی خلافت اور مدت خلافت میں آپؓ کی اطاعت پر اجماع تھا اور سب ایک وحدت کی شکل میں تھے۔


صفحہ 3 از 3