سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لیے نامزد کرنا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے امت کی بیماری کی بہترین تشخیص کر لی تھی، اس لیے آپؓ نے اُمت کے لیے بہترین اور کامیاب دوا کا انتظام کر دیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک بلند پہاڑ تھے کہ جب دنیا آپؓ کو دیکھتی تو مایوس ہو جاتی اور پیٹھ پھیر کر بھاگتی۔ یہ آپؓ کی شخصیت ہی تھی جس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:

إِیْہَا یَابْنَ الْخَطَّابِ! وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ مَا لَقِیَکَ الشَّیْطَانُ سَالِکًا فَجًّا قَطُّ إِلَّا سَلَکَ فَجًّا غَیْرَ فَجِّکَ۔

(الکامل: ابن الأثیر: جلد، 2 صفحہ، 79 )

ترجمہ: ’’بہت خوب اے ابن خطاب! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر شیطان راستہ چلتے تم سے مل جاتا ہے تو (راہ بدل کر) تمہارے راستہ کے علاوہ دوسرے راستہ پر چلنے لگتا ہے۔‘‘

یہ حقیقت ہے کہ یہ امت جن بڑے بڑے حوادث سے دوچار ہوئی ان کا ظہور سیدنا عمرؓ کی شہادت کے بعد ہوا، لہٰذا ان کمر توڑ حوادث کا بعد میں واقع ہونا سیدنا ابوبکرؓ کی فراست، اور سیدنا عمرؓ کے لیے تیارہ کردہ مجوزہ عہد نامہ کی سچائی پر ایک قوی دلیل بن سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ تین آدمیوں میں کافی فراست پائی جاتی ہے:

1۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صاحبزادی، جس نے کہا تھا: اس (آدمی) کو نوکر رکھ لیجیے، بے شک آپ کا بہترین مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔

2۔ عزیز مصر، جب اس نے اپنی بیوی سے حضرت یوسف علیہ السلام سے متعلق کہا: اس کو عزت و احترام سے رکھو، امید ہے کہ وہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔

3۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب کہ آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا۔ 

(تاریخ الإسلام: عہد الخلفاء: ذہبی جلد 66 صفحہ 127 ، ابوبکر رجل الدولۃ صفحہ: 99)

سچ تو یہ ہے کہ سیدنا عمرؓ امت کی ایک مضبوط دیوار تھے جو امت اور فتنوں کے درمیان بند کی طرح حائل تھے۔ 

(صحیح البخاری: الجزیۃ والموادعۃ: حدیث، 3158 )

سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عزائم کی خبر حضرت عمرؓ کو ملی، آپ سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کے پاس گئے، حضرت ابوبکرؓ نے دیکھتے ہی ان کے عزائم کو بھانپ لیا، پھر انہیں سمجھایا، لیکن حضرت عمرؓ نے ماننے سے انکار کر دیا، حضرت ابوبکرؓ نے آپ کو تلوار کی دھمکی دی، پھر حضرت عمرؓ کے سامنے بات قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا۔ 

(صحیح البخاری: فضائل اصحاب النبی: حدیث، 3683)

سیّدنا ابوبکر صدیقؓ نے چاہا کہ با ہوش و حواس اور پوری ذمہ داری کے ساتھ لوگوں کو سیّدنا عمر فاروقؓ کی بطورِ خلیفہ نامزدگی سے آگاہ کر دیں تاکہ کوئی پیچیدگی اور شک و شبہ باقی نہ رہ جائے۔ چنانچہ ابوبکرؓ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: کیا میں جس کو تمہارا خلیفہ بنا رہا ہوں اس سے تم راضی ہو؟ بے شک میں نے مشورہ لینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے اور نہ ہی کسی قرابت دار کو خلافت سونپی ہے۔ میں نے تم پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا ہے۔ لہٰذا ان کی باتوں کو سنو اور اطاعت کرو۔ لوگوں نے عرض کیا: ہم سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔ 

(مجمع الزوائد: جلد، 10 صفحہ، 268 سنداً یہ حدیث صحیح ہے۔)

پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اللہ سے دعا کرنے لگے، اس سے مناجات کیں اور دل کے رازوں کو اس کے سامنے کھول دیا، آپؓ دعا کر رہے تھے: اے اللہ! تیرے نبی کے حکم کے بغیر میں نے عمر کو خلیفہ بنا دیا ہے۔ اور اس سے میرا اصل مقصد لوگوں کی اصلاح ہی ہے۔ میں ان کے فتنے میں مبتلا ہو جانے سے خائف ہوں اور پوری محنت سے ان سے رائے اور مشورہ لے کر پھر ان میں سب سے بہتر اور سب سے زیادہ خیر خواہی کے خواہش مند شخص کو ان پر مقرر کیا ہے، اللہ تیرا حکم (موت) مجھ پر آ پہنچا ہے، لہٰذا تو اس امت کو میرا بہتر جانشین عطا کر دے کیونکہ وہ سب تیرے بندے ہیں۔

حضرت ابوبکرؓ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ عہد نامہ خلافت پڑھ کر لوگوں کو سنا دیں اور لوگوں سے سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیعت لے لیں۔ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکرؓ کی مزید تصدیق کی نیز کسی منفی ردّ عمل کے ظاہر ہونے سے پہلے حکم کی تعمیل کر دی۔ حضرت عثمانؓ نے لوگوں سے پوچھا: کیا اس عہد نامے میں جس کا نام ہے، تم اس کی بیعت کرنے کو تیار ہو؟ سب نے کہا: ہاں، سب نے اس کا اقرار کیا اور اس پر راضی ہو گئے۔

چنانچہ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ عہد نامہ پڑھ کر فارغ ہوئے تو سب اس پر راضی ہو گئے اور حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور آپؓ کی بیعت کی۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ حضرت عمرؓ کو لے کر تنہائی میں گئے اور ہر چیز کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لیے آپ کو بہت ساری نصیحتیں کیں اور پھر دینِ اسلام کی راہ میں اپنی ہر ممکن طاقت لگانے اور کوشش کرنے کے بعد ہر قسم کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ 

(أبوبکر رجل الدولۃ: صفحہ، 100)

آپ نے حضرت عمرؓ کو یہ وصیتیں کی تھیں:

صفحہ 2 از 3