یہودیوں کا مختصر تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

یہودیوں کا مختصر تعارف

  مولانا غلام محمد

صفحہ 6 از 6

"امامت فرض ہے اہل بیت سے محبت اور علی رضی اللہ تعالی عنہ کی حمایت ہمارا نصب العین ہے حضرت علی وصی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اپ خلافت کے حقدار ہیں اور مظلوم ہیں پہلے تینوں خلیفہ معاذ اللہ غاصب ہیں کافر و مرتد ہیں (ابن سبا 63 )"

کافی عرصے سے یہ سب کچھ زیر زمین ہو رہا تھا خود حضرت علی کو بھی یہ خبر نہ تھی کہ اپ کے بارے میں کیا کیا کہا جا رہا ہے کیونکہ عام طور پر زیر زمین تحریکیں ایسی ہی ہوا کرتی ہیں ان کی خبر تب ہوتی ہے جب زیر زمین بہت کچھ ہو چکا ہوتا ہے اس کام میں یہودی شروع ہی سے بڑے تجربہ کار رہے ہیں پھر جو کچھ ہوا وہ سب کو معلوم ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ جو اس وقت کی سب سے بڑی حکومت کے فرمان رواں تھے ان باغیوں کے خلاف صرف اجازت دیتے تو یہ نہیں ہو سکتا تھا جو ہوا لیکن اپ نے ایسا کرنا پسند نہیں کیا کہ صرف اپ کی جان کی حفاظت میں کسی کلمہ گو کہ خون کا ایک قطرہ بھی زمین پر گرے بلکہ اس کے بر خلاف اپ نے مظلومیت کی حالت میں شہید ہو کر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں پیش ہونے کو پسند فرمایا اور اس دنیا میں اپ نے ایک ایسی مظلومیت کی شہادت اور قربانی کی لافانی مثال قائم کی جس کی نظیر اج تک یہ دنیا پیش نہیں کر سکی کہ ایک عظیم سلطنت کے فرمان روا نے بے کسی کی حالت میں رہ کر شہادت کی موت قبول کی ہو لیکن اپنی حفاظت کے لیے فوج مقرر کر کے اس فوج اور باغیوں کے درمیان جنگ کرا کر اور اس طرح مسلمانوں کو اپس میں لڑانا اور خون بہانہ پسند نہ کیا ہو اسی خونی فضا میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ 35 ہجری میں خلیفہ چہارم مقرر ہوئے لیکن حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی مظلومانہ شہادت کے نتیجے میں امت دو گروہوں میں تقسیم ہو گئی اور نوبت جنگ اور قتال تک پہنچی جنگ جمل اور جنگ صفین دو لڑائیاں ہوئیں عبداللہ بن صبا یہودی کا گروہ جو خاصی تعداد میں تھا وہ حضرت علی کے ساتھ تھا اور اس یہودی کو ایسی فضا میں اچھا موقع ہاتھ ایا کہ وہ فوج کے بے علم اور کم فہم عوام کو حضرت علی کی محبت اور عقیدت کے عنوان سے گمراہی میں مبتلا کرے یہاں تک کہ اس نے کچھ بے وقوفوں کو یہ بھی سبق پڑھایا کہ پولوس یہودی نے عیسائیوں کو پڑھایا تھا جس کے نتیجے میں ان لوگوں کو یہ عقیدہ بن گیا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ انسانی شکل میں خدا ہے اس نے کچھ احمقوں کے کانوں میں یہ بات بھی ڈال دی کہ اللہ تعالی نے نبوت اور رسالت کے لیے جو تالی کو منتخب کیا تھا لیکن جبرائیل کو دھوکہ لگا کہ وہ غلطی سے وہی لے کر حضرت علی کے بجا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا پہنچے چند سیاسی مصلحتوں کی بنا پر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے مدینۃ الرسول کو چھوڑ کر عراق کے شہر کوفہ کو اپنا دارالحکومت بنایا اور پھر یہ علاقہ سبائیوں کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا یہاں پر اس گروہ کو اپنے عقائد فاسدہ کی ترویج و اشاعت کے لیے حالات ماحول اور لوگ زیادہ مناسب مل گئے۔


صفحہ 6 از 6