یہودیوں کا مختصر تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

یہودیوں کا مختصر تعارف

  مولانا غلام محمد

صفحہ 5 از 6

عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں عرب کا تقریبا پورا علاقہ اسلام کی آغوش میں اگیا تھا یہاں تک کہ مشرکین اور اہل کتاب یہود و نصاری میں سے کوئی بھی ایسے قوت باقی نہ رہی تھی جو اسلام کے فروغ اور اشاعت میں رکاوٹ بن سکے یہی صورتحال عہد صدیقی میں اور زیادہ مستحکم ہوئی عہد صدیقی کی مدت مختصر تھی یعنی سوا دو سال تقریبا اس دور میں اسلام کی اشاعت کا سلسلہ جزیرۃ العرب کے حدود سے نکل کر اطراف عالم میں پھیل گیا عہد فاروقی کے تقریبا ساڑھےدس سال کے دور میں دعوت اسلام اور عسکری فتوحات کا سلسلہ اس تیزی سے اگے بڑھا کے اس وقت کی دو بڑی طاقتیں فارس اور روم کے کئی علاقے اہل اسلام کے زیر نگیں آگئے عہد عثمانی میں اسلام کی دعوت اور ملکی فتوحات کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا اس زمانے میں مختلف ملکوں قوموں اور مختلف طبقات کے بے شمار لوگ اپنے قدیم مذاہب کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو گئے ان لوگوں میں اکثر و بیشتر وہ لوگ تھے جنہوں نے دین اسلام کو حق و نجات کا واحد ذریعہ سمجھ کر قبول کیا تھا لیکن کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو منافقانہ طور پر اسلام قبول کر کے مسلمانوں میں شامل ہو گئے تھے ان کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شدید بغض اور دعوت بھری ہوئی تھی وہ اسی ارادے اور منصوبے سے بظاہر مسلمان بن کر مسلمانوں میں شامل ہو گئے کہ جب بھی کوئی موقع ہاتھ ائے تو کوئی نہ کوئی فتنہ پیدا کر کے اسلام اور مسلمانوں کو آسانی سے نقصان پہنچا سکیں خاص طور پر یہودیوں میں سے کافی لوگ اسی مقصد کے حصول کے خاطر منافقانہ طور پر اسلام میں داخل ہوئے تھے ایسے ہی لوگوں میں جن کے اوپر ذکر ہوا ایک یہودی عبداللہ بن سبا بھی تھا جو یمن کے شہر صنعا کا رہنے والا تھا اس نے بھی حضرت عثمان کے دور خلافت میں اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا بعد میں اس کا جو کردار سامنے ایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا یہودیت کو ترک کرنا اور اسلام قبول کرنے کا مقصد یہی تھا جس مقصد سے پولوس یہودی نے یہودیت کو ترک کر کے عیسائیت کو قبول کیا تھا عبداللہ بن سباء کو مدینہ منورہ کے مختصر قیام میں یہ بات معلوم ہو گئی کہ حجاز کے سارے علاقے میں دینی شعور عام ہے اور ایسے محافظ اسلام موجود ہیں کہ ان کی موجودگی میں یہ اپنے مقصد میں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکے گا چنانچہ یہ بصرہ اور کوفہ کو اور مصر کو روانہ ہو گیا وہاں اس کو اپنے مقصد کے جتنے لوگ بھی ملے ان کو اس نے آپس میں منظم کیا اور زیر زمین اپنا کام شروع کیا عبداللہ بن سباء یہودی کو پولوس یہودی والا سبق اچھی طرح یاد تھا جس سے اس نے عیسائیت میں تحریف کی تھی یعنی ایک مذہب کی پیروی کرنے والوں کو گمراہ کرنے کا اسان سے آسان طریقہ یہی ہے کہ اس مذہب کے مقدس مقبول اور محبوب شخصیت کے بارے میں لوگوں میں حد سے زیادہ غلو سے کام لے کر رتبہ مقام اور ان کے فضائل بیان کیے جائیں یہ پڑھا لکھا تو پہلے ہی تھا اس کو توریت اور انجیل کا علم حاصل تھا اور عربی زبان پر اس کو کامل دسترس حالت حاصل تھی اور اس کو پولوس کا عیسائیت کو تبدیل کرنے کے لیے اختیار کیا ہوا طریقہ اور اس سے حاصل کی ہوئی کامیابوں کی پوری واقفیت حاصل تھی چنانچہ یہ ہر طرح سے موقع شناس تیز فہم اور چالاک ثابت ہوا یہ ماحول اور حالات اور موقع دیکھ کر کام کرتا تھا پس جیسا ماحول اور لوگ دیکھتا تھا ان کی استعداد اور صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مقصد کی بات سامنے رکھتا تھا اور بات کرنے کے بعد ان کے رد عمل کا خاص خیال رکھتا تھا اسلام لانے کے بعد اس نے اپنا ظاہری نمونہ ایک عابد زاہد متقی اور پرہیزگار کا اختیار کیا جس کی وجہ سے لوگ اس کی تعظیم کرنے لگے اور اس کے پاس لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہو گیا یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں تورات اور انجیل میں جو کچھ لکھا ہوا ہوتا تھا وہ پڑھ کر لوگوں کو سنا کر خوش کرتا تھا مورخین کا بیان ہے کہ اس نے سب سے پہلے جو نئی بات پیش کی وہ یہ تھی کہ مجھے ان مسلمانوں پر تعجب ہے کہ عیسی علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں آنے پر عقیدہ و یقین رکھتے ہیں لیکن سید الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دوبارہ دنیا میں آنے کے قائل نہیں ہیں حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام نبیوں سے افضل و اعلی ہیں اپ یقینا دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اس نے یہ بات ایسے نو مسلم اور مکمل دین سے ناواقف لوگوں کے سامنے رکھی جن کے بارے میں اس نے سمجھا کہ ایسے خرافاتی عقیدے کو قبول کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں جب اس نے دیکھا کہ میری یہ نئی بات ان لوگوں نے بغیر کسی لیت ولعل کے قبول کر لی ہے یا یہ لوگ خاموش ہو گئے ہیں حالانکہ یہ بات قران و سنت کے صریحا خلاف تھی تو اس کی ہمت اور زیادہ بڑھی اور یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ساتھ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خصوصی قرابت کی بنا پر تمام عقیدت اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے حضرت علی کے فضائل ومناقب میں جھوٹی باتیں بنا کر حدیث کے نام سے بیان کرنے لگا جس سے اس کی مقبولیت میں اور اس کے عقیدت مندوں میں دن بدن اضافہ ہونے لگا اس کے بعد اس نے ایک دوسری بات یہ کہی کہ ہر پیغمبر کا ایک وصی اور وزیر ہوتا ہے جو نبی کی نبوت کا رازداں ہوتا ہے جیسے موسی علیہ السلام کے رازداں یوشع بن نون تھے ایسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رازدان حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں پس توحید و رسالت کے ساتھ حضرت علی کی امامت ہونا بھی فرض عین ہے یہ بات بھی لوگوں نے تسلیم کر لی اور چند دنوں میں انہوں نے یہ سبق بھی یاد کر لیا اب یہ اور اگے بڑھا اور کہنے لگا کہ پیغمبر کریم کے تمام صحابہ افضل ہیں لیکن حضرت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خصوصی قرابت کے لحاظ سے ان سب سے زیادہ افضل ہیں یہ بات نو مسلم ناقبت اندیش مسلمانوں کے لیے کوئی خاص اہمیت والی نہیں تھی انہوں نے سمجھا کہ کسی ایک شخص کو دوسرے سے افضل کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن جن لوگوں میں دینی فراست تھی انہوں نے اس بات کو غلط اور دین میں ایک فتنے کا دروازہ کھولنے کا سبب سمجھا اور انہوں نے ناراضگی ظاہر کی یہ سبق یاد کرانے میں عبداللہ بن سباء کو زیادہ دقت پیش آئی اور کچھ وقت لگا اور زیادہ محنت کرنی پڑی اس نے جب دیکھا کہ ان دو مسلم ناقبت اندیش مسلمانوں نے یہ بات بھی مان لی ہے اور یہ ان کا عقیدہ ہو گیا ہے کہ تمام صحابہ سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ افضل ہیں تو یہ کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت اور حکومت کی سربراہی بھی حقیقت میں حضرت علی کا حق تھا توریت اور انجیل میں بھی یوں لکھا ہوا ہے لیکن حضور کی وفات کے بعد مہاجرین و انصار نے اپنی اکثریت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار کو اپنے پاس رکھنے کے لیے حضرت علی کے خلاف سازش کی اور معاذ اللہ ابوبکرؓ کو خلیفہ بنایا اور اس نے اپنے بعد معاذ اللہ عمرؓ کو نامزد کیا اس کے بعد حضرت عثمانؓ خلیفہ بنائے گئے ان صحابہ نے حضرت علی کا معاذ اللہ حق غضب کیا اور اسی طور سے یہ لوگ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد معاذ اللہ غاصب مرتد منافق اور کافر بن گئے ان پر تبرا کرنا چاہیے مزید کہنے لگا کہ اب بھی موقع ہاتھ سے نہیں گیا ہے۔ موجودہ خلیفہ عثمانؓ کو معزول کر کے حضرت علی کو خلیفہ بنایا جائے کیونکہ آپ کو ہی حضورﷺ کے بعد خلیفہ ہونا چاہیے تھا اس کام میں تمام مسلمانوں کو تعاون کرنا چاہیے بعد میں حضرت عثمانؓ اور آپ کے انتظامیہ کے خلاف موثر طور پر پروپیگنڈا شروع کیا اور یہ مہم چلائی کہ موجودہ خلیفہ معاذ اللہ نااہل اور ظالم ہیں کوئی بھی فریاد رس نہیں ہیں اموی سیاہ و سفید کے مالک ہیں خلیفہ کی تبدیلی کے بغیر حالات کا درست ہونا ناممکن ہے وغیرہ وغیرہ اتفاقا اس وقت مصر کے گورنر عبداللہ بن سعدؓ عنہ رومیوں کی شورش کا مقابلہ کرنے کے لیے افریقہ اور طرابلس میں نظم و نسق قائم کرنے میں مشغول تھے اور ان کو اندرونی حالات پر پوری توجہ دینے کا موقع کم مل رہا تھا عبداللہ بن صباح یہودی کو ایسے حالات کی اشد ضرورت تھی لہذا اس نے ان حالات سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اس نے مصر کو اپنا مستقل ہیڈ کوارٹر بنا کر بصرہ وکوفہ وغیرہ کو خطوط روانہ کیے اور اس طرح پروگرام ترتیب دیا کہ مصر والے کوفہ بصرہ دمشک اور مدینہ والوں کو اور کوفہ والے مصر بصرہ دمشق اور مدینہ والوں کو اور بصرہ والے مصر کوفہ دمشق اور مدینہ والوں کو اور دمشق والے مصر کوفہ بصرہ اور مدینہ والوں کو حضرت عثمانؓ کے گورنروں کی مسلسل جعلی شکایتیں اور خطوط بھیجتے رہے چنانچہ اس پروپگنڈے نے حکومت کے خلاف بہت اثر پیدا کیا اور حکومت کے لیے عام لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہونے لگا کہ دوسرے مقامات پر ظلم ہو رہا ہے اس کی تحقیقات کے بارے میں حضرت عثمانؓ نے وفود بھیجے جو تحقیق کر کے واپس ائے اور یہ رپورٹ دی کہ کہیں بھی ظلم نہیں ہو رہا ہے حالات پرسکون ہیں ایسا کوئی بھی ادمی نہیں جو حکومت کے خلاف شکایت کر رہا ہو کسی بھی تحریک کو جاندار بنانے کے لیے یہ بات اشد ضروری ہے کہ اس تحریک میں کوئی دلکش نعرہ ہو عبداللہ بن صبا یہودی نے دیکھا کہ حکومت کے خلاف اس پروپیگنڈے کا خاطر خواہ اثر ہوا ہے اور حضرت علی کی افضلیت کے بارے میں بھی نو مسلم عوام کے خیالات میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ لہٰذا عام لوگوں میں جوش پیدا کرنے کے لیے اس نے یہ نعرہ ایجاد کیا

صفحہ 5 از 6