یہودیوں کا مختصر تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

یہودیوں کا مختصر تعارف

  مولانا غلام محمد

صفحہ 4 از 6

امام جعفر صادق نے فرمایا کہ اے مفضل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی کہ اے خداوندا میرے بھائی علی ابن ابی طالب کے شیعوں اور میرے ان وصی فرزندوں کے شیعوں کے اگلے اور پچھلے گناہ میرے اوپر ڈال دے اور شیعوں کے گناہوں کی وجہ سے مجھے دیگر پیغمبروں کے سامنے رسوا نہ کر پھر اللہ تعالی نے تمام شیعوں کے گناہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ڈال دیے اور تمام گناہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے معاف کیے گئے ادم اور حوا نے معاذ اللہ گناہ کیا لہذا ہر انسان موروثی گنہگار ہے موجودہ عیسائیت کے نزدیک اعمال نیک نجات کے اسباب نہیں اگر اللہ تعالی کسی بندے کے گناہ توبہ و استغفار سے معاف کرے تو وہ آپ کا رحم ہے لیکن یہ رحم اپ کے عدل کے خلاف ہے اللہ کے رحم کا یہ تقاضہ ہے کہ انسان سزا سے بچ جائے لیکن وہ عادل بھی ہے لہذا اپ کے عدل کا یہ تقاضہ ہے کہ جرم کی سزا ضرور دی جائے پھر اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی نجات کا یہ سبب تلاش کر کے نکالا کہ اپنے بیٹے یہ سوا مسیح علیہ السلام جو کہ تمام گناہوں سے پاک ہیں قیامت تک انے والے عیسائیوں کے بوجھ اٹھوا کر ان سے جان کی قربانی لی گئی ماشاءاللہ اور اب ان کا صلیب پر چڑھ کر اپنی جان دینا تمام عیسائیوں کے گناہوں کا کفارہ اور نجات کا وسیلہ بنا ہوا ہے یہ ہے کفارہ کا عقیدہ جس کو پولوس یہودی نے عیسائیت میں داخل کر کے عیسائیت کی تعریف کی یہ جو کچھ بیان ہوا ہے وہ کفارہ اور تثلیث کے بارے میں مستند و معتبر ترین کتب میں سے اختصار کے طور پر اخذ کر کے پیش کیا گیا ہے

اسلام میں شریعت کے ابتدا کس نے کی اور کیسے کی ؟

اپ نے عیسائیت میں یہودی پولوس کی تحریف کے بارے میں پڑھا حقیقت یہ ہے کہ موجودہ عیسائی دنیا پوری دنیا میں تعداد کے لحاظ سے کثرت میں ہونے کے باوجود اور دنیاوی ترقی کے معاملے میں چاند پر قدم جمانے کے دعوے کے ہوتے ہوئے یہ اتنے بڑے مفکر اور مدبر تمام کے تمام پولوس یہودی کی تحریف کردہ عیسائیت کی پیروی کرنے والے ہیں جس کا حضرت عیسی علیہ السلام کی عیسائیت سے کوئی تعلق اور ربط نہیں ہے اسلام میں شیعت کے ابتدائی تاریخ پہ بالکل ایسی ہی ہے جیسی پولوس کی اصلی عیسائیت میں تحریف اور تبدیلی کی تاریخ فرق صرف یہ ہے کہ عیسائیت میں یہودی پولوس نے جو تحریف کی اس سے اصل عیسائیت بالکل مٹ گئی اور پولوسیت عیسائیت کے نام سے قائم ہو گئی بخلاف اس کے کہ شیعیت کے موجد عبداللہ بن سباء یہودی اور اس کی پیروی کرنے والوں نے اسلام میں جو کچھ تبدیلی اور تحریف کی وہ تو اپنی جگہ قائم رہی لیکن اس کا نام شیعت ہو گیا اللہ سبحانہ و تعالی نے اسلام کی اس بات سے حفاظت فرمائی کہ شیعت کو لوگ اسلام کہنے لگے اور شیعت کے بنیادی عقائد قران و سنت کو مٹا دیں ایسا نہ ہو سکا اور کبھی نہ ہو سکے گا کیونکہ اسلام کی بنیاد قرآن و حدیث پر ہے ان کی حفاظت کی ذمہ داری حق سبحانہ و تعالی نے لی ہے پھر معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام کے عقائد و اعمال الگ ہیں جن کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے اور شیعت کے اعمال باقاعد علیحدہ ہیں جن کے بنیاد اماموں کی امامت اور ان کی طرف منسوب روایات پر ہے لہذا اسلام جدا ایک مذہب ہے اور شیعت الگ ایک دوسری چیز کا نام ہے یہ دونوں متضاد ہیں ان میں کوئی اتحاد نہیں تاریخ کے مطالعے سے شیعت کی ابتدا کے بارے میں جو حقیقت سامنے آتی ہے وہ اس کی مختصر روداد یوں ہے

صفحہ 4 از 6