یہودیوں کا مختصر تعارف - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

یہودیوں کا مختصر تعارف

  مولانا غلام محمد

صفحہ 2 از 6

ظہور اسلام کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں سرعے کے ساتھ اسلام کی اشاعت ہونے لگی یہ بات یہودیوں کے لیے ناقابل برداشت تھی چنانچہ ان لوگوں نے محلاتی سازشوں خود تراشیدہ ومن پسند افواہوں بغض اور دشمنی سے بھرپور چال بازیوں سے مسلمانوں کو بہت تنگ کیا چنانچہ مکہ مکرمہ کے مشرکوں کی ظاہری اور کھلی عداوت سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا دکھ نہیں پہنچا جتنا ان لوگوں کی درپردہ سازشوں سے آپ کو پریشان ہونا پڑا انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو السلام علیکم کے بجائے السام علیکم ( تو برباد ہو جائے ) کہنا شروع کیا یہ لوگ لفظ السلام اور السام اس طرح ادا کرتے تھے کہ آسانی سے ان دونوں لفظوں کے درمیان فرق معلوم کرنا مشکل تھا ایک یہودی عورت نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں زہر ملا کر دیا تھا وادی قراء میں حضور علیہ السلام کی موجودگی میں ان یہودیوں کے تیر سے آپ کا ایک غلام شہید ہوا حضور علیہ السلام کے عہد میں ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ پر تہمت میں بھی درپردہ یہودیوں کی سازش کار فرما تھی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی زیر زمین سازشوں اور خفیہ سرگرمیوں میں ہمہ وقت مشغول ہوتے تھے ان کے جزیرۃ العرب کی انتہائی نازک اور حساس حدود میں رہنے اور سرحد پار آباد اجنبی قوموں سے خطرناک ساز باز میں مشغول ہونے کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے ہمیشہ خطرہ سمجھا جاتا تھا لہذا ان حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وقت میں وصیت فرمائی کہ اخرجوا الیھود والنصاری من جزیرہ العرب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کو عرب کے جزیرے سے نکال دو ( صحیح بخآری کتاب الجھاد ) اسی وصیت کی تعمیل کا اعزاز حضرت امیرمومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو نصیب ہوا جنہوں نے ہر جگہ سے یہودیوں کو نکال کر شام کی طرف جلا وطن کر کے جزیرۃ العرب کو ان کی نحوست سے پاک کیا اس تمام کاروائی کے باوجود یہودیوں کی پرانی عادت منافقت اور سازش ہر حال میں قائم رہی ایک نہایت شاطر اور ذہین یہودی عبداللہ بن سباء نے ظاہر میں اسلام قبول کر کے اپنے گروہ کے ساتھ اسلام اور مت مسلمہ میں کتنے ہی اقسام کے فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی ایک طرف اس گروہ نے سیاسی میدان میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے خلافت کے بارے میں جھوٹی افواہیں پھیلا کر حکومتی نظام میں خلل پیدا کیا جس کی وجہ سے خلیفہ ثالث کے آخری چھ سال اور حضرت علی اور حضرت حسین کے خلافت کا پورا عرصہ مسلمانوں کے باہمی انتشار میں گزرا اور باہر کی دنیا میں اسلام اور اسلامی حکومت کی اشاعت اور وسعت کا انتہائی تیز رفتاری سے چلنے والا کام اچانک بالکل بند ہو گیا اور اس کی وجہ سے اسلام کو ناقابل تلافی ضرر پہنچا اور دوسری طرف اس یہودی اور اس کے گروہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے اہل بیت کی محبت کے نہایت دلکش اور خوبصورت نعروں کی آڑ لے کر پس پردہ پہلی مرتبہ اسلامی عقائد میں بنیادی تحریف کا کام شروع کر دیا جیسا کہ اسلام کی مکمل تعلیم یعنی قرآن مجید اور اس کے لفظی و معنوی حفاظت کا خود اللہ تعالی نے ذمہ اٹھایا ہے اور اس کے لیے غیبی انتظامات کیے گئے ہیں لہذا یہ گروہ بظاہر تو اسمیں تحریف کر کے اس کو مٹا نہ سکا لیکن اندر ہی اندر اس گروہ نے اسلام کی بے داغ عبارت میں کیسے کیسے ڈاکے ڈالے ہیں اور اسلامی عقائد اور قرآن مجید سنت رسول اور ختم نبوت کے بارے میں کس قدر تحریفات کی ہیں دین حق اور اس کی پیروی کرنے والوں کے خلاف کیسی کیسی خطرناک سازشیں کی ہیں اور اس کے کیسے تباہ کن نتائج نکلے ہیں ان کا تفصیلی مطالعہ ہر مسلمان اور خاص کر ایسے عالم دین کے لیے جس نے اس مذہب کا مطالعہ نہ کیا ہو اس پرفتن دور میں نہایت ضروری ہو گیا ہے

اب ہم یہودیوں کی مذکورہ خصلتوں کو ذہن میں رکھ کر دیکھیں کہ انہوں نے کیسے عیسائیت میں تحریف پیدا کی اور اسلام کے اندر بھی انہوں نے کیسے نہ ختم ہونے والے فتنوں کا دروازہ کھولا ہے

عیسائیت میں تحریف کس نے کی اور کیسے کی ؟

موجودہ عیسائیت کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عیسی علیہ السلام کو اس دنیا سے آسمان پر اٹھا لیا گیا اس بات کو ابھی ایک سو برس بھی نہ گزرے تھے کہ عام عیسائیوں میں عیسائیت کی جگہ پر پولوس کا تراشیدہ نیا مشرکانہ مذہب عیسائیت کے نام سے مشہور ہو گیا اور دنیا کے تقریبا تمام عیسائیوں نے یہ پولوس کا ایجاد کردہ دین جس کی بنیاد تثلیث اور کفار کے عقیدے پر تھی قبول کر لیا

اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پولوس کون تھا تثلیث کیا ہے؟اور کفارہ کس کو کہا جاتا ہے ان باتوں پر کچھ روشنی ڈالی جاتی ہے

پولوس کون تھا اور اس کے دور کا اہم کارنامہ

صفحہ 2 از 6