یزید کے بارے میں لوگوں کے اقوال ، نیز کیا اسے لعنت کرنا…

یزید کے بارے میں لوگوں کے اقوال ، نیز کیا اسے لعنت کرنا جائز ہے؟

  ابو شاہین

صفحہ 3 از 3

ہمیں معلوم ہونا چاہتے کہ یزید کو لعنت کرنے کا رواج دولت عباسیہ کے قیام کے بعد پڑا، جب بنو امیہ پر اعتراضات کرنے کے لیے لوگوں کو وسیع مواقع میسر آئے۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 501) رہی یہ مرفوع حدیث کہ ’’میری امت کا معاملہ قائم رہے گا یہاں تک کہ بنو امیہ میں سے ایک شخص، جسے یزید کہا جائے گا، اس میں دراڑیں ڈال دے گا۔‘‘ تو یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ اس میں کئی ایک علل ہیں۔ (احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 206 مسند ابو یعلی: رقم، 870) اس حدیث کو ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں صدقۃ السمین کے طریق سے روایت کیا ہے، وہ ہشام سے، وہ مکحول سے اور وہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کرتا ہے اور اس میں دو علّتیں ہیں،

الف: صدقۃ السمین کا ضعف

 اس کا پورا نام ابو معاویہ صدقہ بن عبداللہ السمین دمشقی ہے۔ اسے ابن معین، بخاری، ابو زرعہ اور نسائی نے ضعیف کہا ہے۔ احمد فرماتے ہیں، اس کی کوئی حدیث مرفوع نہیں ہے اور یہ منکر ہے اور اس نے مکحول سے جو حدیث مرسل بیان کی ہے، وہ زیادہ نرم ہے اور یہ بہت زیادہ ضعیف ہے۔ مزید فرماتے ہیں وہ کسی چیز کو درست نہیں رکھتا، اس کی احادیث منکر ہیں۔ دار قطنی فرماتے ہیں، وہ متروک ہے۔ (تہذیب التہذیب: جلد، 6 صفحہ 371)

ب: مکحول اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اس لیے کہ اس نے ان سے ملاقات نہیں کی۔ (احداث و احادیث: صفحہ 206) ابن کثیر یزید کی مذمت میں وارد احادیث کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ابن عساکر نے یزید کی مذمت میں جتنی بھی روایات ذکر کی ہیں، وہ ساری کی ساری موضوع ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی صحیح نہیں ہے، ان میں سے سب سے عمدہ حدیث ’’ضعیف‘‘ ہے جس کی سند منقطع ہے۔ (البدایۃ و النہایۃ نقلا عن احداث و احادیث: صفحہ 206)


صفحہ 3 از 3