یزید کے بارے میں لوگوں کے اقوال ، نیز کیا اسے لعنت کرنا…

یزید کے بارے میں لوگوں کے اقوال ، نیز کیا اسے لعنت کرنا جائز ہے؟

  ابو شاہین

صفحہ 2 از 3

رہے وہ لوگ جو یزید کے ساتھ محبت کو جائز قرار دیتے یا اس سے محبت کرتے ہیں مثلاً غزالی اور دستی، تو ان کے پاس دو مآخذ ہیں،

 پہلا ماخذ

 یزید مسلمان ہے اور اس نے عہد صحابہ میں منصب خلافت سنبھالا اور اس وقت تک موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کا ساتھ دیا اور اس میں کچھ خصال محمودہ بھی تھیں۔ رہے قابل اعتراض واقعات مثلاً واقعہ حرہ وغیرہ، تو وہ ان کے بارے میں تاویل پر تھا، ان کا کہنا ہے کہ یزید مجتہد مخطی تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اہل حرہ اس سے نقض بیعت کے مرتکب ہوئے جسے ابن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ نے بھی کراہت کی نظر سے دیکھا۔ جہاں تک قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے، تو یزید نے اس کا حکم نہیں دیا تھا اور اسے پسند بھی نہیں کیا تھا بلکہ اس نے تو ان کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا اور ان کے قاتل کی مذمت کی۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک اس کے سامنے پیش نہیں کیا گیا تھا بلکہ اسے ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

 دوسرا ماخذ

 صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قسطنطنیہ سے جنگ کرنے والے پہلے لشکر کی مغفرت کر دی گئی ہے۔‘‘ (بخاری: رقم الحدیث، 2926) جس پہلے لشکر نے قسطنطنیہ سے جنگ کی اس کا امیر یزید تھا۔

تحقیق یہ ہے کہ ان دونوں اقوال میں اجتہاد کی گنجائش موجود ہے، اسی طرح اس شخص سے محبت کرنا جو نیک اعمال بھی کرتا ہے اور برے بھی، بلکہ ہمارے نزدیک تو اس امر میں بھی منافات نہیں ہے کہ ایک ہی آدمی میں حمد و ذم اور ثواب و عقاب جمع ہو جائے۔ اسی طرح اس امر میں بھی منافات نہیں ہے کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے، اس کے لیے دعا کی جائے اور اس پر لعنت بھی کی جائے اور اس پر سب و شتم بھی کیا جائے، اس لیے کہ اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ملت اسلامیہ کے فاسق لوگ بھی ایک نہ ایک دن جنت میں ضرور داخل ہوں گے، اگرچہ وہ جہنم میں داخل بھی ہو جائیں یا اس کے مستحق قرار پائیں۔ اس طرح ان میں ثواب و عقاب اکٹھے ہو جائیں گے۔ مگر خوارج اور معتزلہ اس سے انکار کرتے ہیں، ان کے نزدیک ثواب کا مستحق عقاب کا مستحق نہیں اور جو مستحق عقاب ہے وہ مستحق ثواب نہیں۔ (الفتاوی: جلد، 6 صفحہ 297) جہاں تک آدمی کے لیے دعا یا بددعا کا تعلق ہے، تو ہر فوت شدہ نیک و بد مسلمان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اگرچہ اس کے ساتھ ساتھ فاجر کو باالتعیین یا بالنوع لعنت کرنا بھی جائز ہے۔ مگر پہلی حالت زیادہ عادلانہ ہے۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے جب ایک مغل ایلچی نے یزید کے بارے میں سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: ہم نہ تو اسے گالی گلوچ کرتے ہیں اور نہ اس سے محبت ہی کرتے ہیں، یزید کوئی نیک انسان نہیں تھا کہ ہم اس سے محبت کریں اور ہم کسی مسلمان کا نام لے کر اسے سب و شتم نہیں کرتے۔ اس نے کہا: تم اس پر لعنت کیوں نہیں کرتے؟ کیا وہ ظالم نہیں تھا؟ کیا وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا: جب ہمارے سامنے حجاج بن یوسف اور اس جیسے ظالم حکمرانوں کا ذکر ہوتا ہے تو ہم اسی طرح کہتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا،

 اَلَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ (سورۃ ہود: آیت 18)

 ’’خبردار ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔‘‘

 ہم کسی کا نام لے کر اس پر لعنت کرنے کو پسند نہیں کرتے، جبکہ بعض علماء اس پر لعنت بھی کرتے ہیں اور اس میں اجتہاد کی گنجائش موجود ہے، لیکن پہلا قول زیادہ پسندیدہ اور احسن ہے۔ مگر جس شخص نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا یا اس کے لیے تعاون کیا یا اسے پسند کیا، تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ اس کی کوئی بھی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں کرے گا۔ اس نے سوال کیا، اہل بیت کے ساتھ محبت کرنے کے بارے میں تمہارا کیا اعتقاد ہے؟ انہوں نے جواب دیا، ہمارے نزدیک اہل بیت سے محبت کرنا فرض ہے اور اس سے آدمی کو اجر ملتا ہے۔ صحیح مسلم میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع غدیر خم کے مقام پر ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا

 ’’لوگو! میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں، کتاب اللہ اور میری عترت میرے اہل بیت۔‘‘

(مسند احمد: جلد، 6 صفحہ 347)

 امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس سے فرمایا، ’’ہم اپنی نمازوں میں ہر روز یہ درود پڑھتے ہیں،

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، وَ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ 

’’یا اللہ! رحم و کرم فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جس طرح تو نے رحم و کرم فرمایا ابراہیم پر، بے شک تو تعریف کے قابل اور بزرگی والا ہے، اے اللہ برکت نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمدؐ پر جس طرح تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر، بے شک تو تعریف کے قابل اور بزرگی والا ہے۔‘‘

مغل ایلچی کہنے لگا، اہلِ بیت سے بغض رکھنے والے کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ آپ نے فرمایا، اہل بیت سے بغض رکھنے والے پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ اس سے نہ نفلی عبادت قبول فرمائے گا نہ فرضی۔ اس کے بعد ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مغل وزیر سے فرمایا، تم نے یزید کو ناصبی کیوں کہا؟ اس نے جواب دیا، لوگوں نے اسے بتایا ہے کہ اہل دمشق ناصبی تھے۔ یہ سن کر ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بآواز بلند فرمایا: یہ کہنے والا جھوٹ بولتا ہے اور جس نے بھی یہ بات کی اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو، اللہ کی قسم اہل دمشق ناصبی نہیں تھے اور نہ مجھے وہاں موجود کسی ناصبی کا علم ہی ہے۔ اگر دمشق میں کوئی شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرتا تو مسلمان اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے۔ (الفتاوی: جلد، 6 صفحہ 297 اور 298) 

صفحہ 2 از 3