کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 8 از 50

شارح صحیح بخاری(مولانا محمد داؤد راز)  نے شان کرکرہ بیان نہیں کی ۔
( شیعہ عالم کےباطل استدلال کا رد)
 کتنی ہی لفاظی کرتے رہیں، شارح بخاری نے کرکرہ کی شان نہیں بلکہ مذمت ہی بیان کی ہے۔ جب تک ہدایت نصیب نہ ہو آپ  مفہوم سمجھنے سے قاصر ہی رہیں گے، صاف صاف لکھا ہے کہ کرکرہ نے ایسا عمل کیا کہ جہنمی ہوگیا، آگے لکھتا ہے چاہے مجاہد ہی کیوں نہ ہو ، اس کا جہاد بھی اس کے کام نہیں آئے گا۔ یہ الفاظ آپ کو *شان کرکرہ* لگ رہے ہیں ، بلکہ آپ عوام کو گمراہ کرتے ہوئے یہ بھی کہہ رہے کہ شارح کے نزدیک کرکرہ مؤمن تھا! ارے عالم صاحب۔۔ مؤمن بظاہر تھا ، بظاہر شرف صحابیت بھی تھی، جب سرکار دو عالم ﷺنے دیگر صحابہ کو اس کی حقیقت بتادی تو اب کوئی فرمان نبویﷺ دیکھ کر، پڑھ کر، سمجھ کر بھی بضد ہوکر کہے کرکرہ جیّد صحابی تھا تو اس کا اللہ ہی حافظ ہو۔

 
 
ذاتی قیاس آرائی آپ کرتے آ رہے ہیں۔ میں تو لسان نبوت ﷺ سے دکھا رہا ہوں کہ کرکرہ جہنمی تھا۔
چلیں یہ بتائیں۔۔  کرکرہ اہل سنت عقیدہ صحابہ کے مطابق جنتی تھا؟ 
  
  اللہ کے بندے۔۔۔ علمائے کرام نے تاریخی روایات کو جمع کر کے ایسی تمام شخصیات کو جمع کردیا ہے جو دور نبوی ﷺ میں ایمان لائے اور شرف صحابیت نصیب ہوئی لیکن ان میں سے کتنے ثابت قدم رہے، کتنے مرتد ہوگئے یا کتنے درحقیقت غیر صحابی تھے اس کا علم تحقیق سے کیا جاتا ہے۔ کرکرہ کے متعلق تو واضح صحیح بخاری کی حدیث میں تصریح موجود ہے ، جو خود آپ پیش کرچکے ہیں، جس کے مطابق یہ جہنمی تھا۔ اس قول نبیﷺ کے بعد کرکرہ کے متعلق کسی صحیح العقیدہ انسان کو کوئی ابہام نہیں ہوگا۔ اللہ و رسول ﷺچاہیں تو اسے قیامت کے دن معاف فرمادیں، بحرحال اس کا علم کسی بنی بشر کو نہیں ہوسکتا، اس لئے تب تک ہم فرمان نبویﷺ کی موجودگی میں اسے شرف صحابیت میں داخل نہیں کرسکتے۔

امام ذہبی نے بھی کرکرہ کی شان و عظمت بیان نہیں کی!(شیعہ استدلال کا رد)

 امام ذہبی نے بھی کرکرہ کو مال غنیمت کا چور ہی لکھا ہے۔ آپ کے نزدیک یہ *شان کرکرہ* ہے اور اس طرح *کرکرہ جیّد صحابی* ہوجاتا ہے! کمال ہوگیا۔  کیا اہل سنت کے ہاں یہی عقیدہ صحابہ ہے؟ عجیب زبردستی ہے۔
 
 
  کیا علامہ ذہبی نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ اس نے تجرید الصحابہ میں سو فیصد صحابہ کے نام ہی لکھے ہیں اور کوئی غیر صحابی اس میں مذکور نہیں ہے؟ جس طرح علامہ ابن اثیر نے اسد الغابہ میں غیر صحابی شامل کردئے تھے اسی طرح  تجرید الصحابہ میں بھی یہ خارج از امکان نہیں ہے۔(دیکھیں پیج 336)  اس کے علاوہ کرکرہ تو واضح فرمان نبویﷺ کے تحت جہنمی تھا، اس کے متعلق کوئی ابہام اہل سنت کو نہیں ہے۔

 اس پیج کے اوپر نیچے کئی علمائے اہل سنت مختلف کتب کا ذکر بھی موجود ہے جو صرف صحابہ کرام کے حالات و واقعات کے موضوع پر ہیں۔ کیا سب میں ایک تعداد اور ایک جیسے نام ہیں؟ ہر عالم نے مختلف تاریخی روایات کی مدد سے صحابہ کرام کے  ناموں کا تعین کیا ہے، لیکن کسی نے یہ دعوی ہرگز نہیں کیا کہ میں نے سب صحابہ شامل کردئے ہیں اور کوئی رہ نہیں گیا یا کسی غیر صحابی کا نام شامل نہیں کیا۔
 


 
الاکمال  فی أسماء الرجال:  میں یہی تو عرض کرتا آ رہا ہوں کہ کرکرہ کا جس عالم نے بھی ذکر کیا ہے اس نے قول نبی ﷺکے متعلق بھی ضرور لکھا ہے۔ اس سے کرکرہ کی مذمت  (جرح) بیان کرنا مقصود ہے، جسے آپ شان  (تعدیل) کرکرہ سمجھانے کی کوششوں میں ہیں، وہ دراصل آپ کے دعوی کے بطلان پر دلالت ہے۔ 

اسلامی نام  نیٹ سے دکھا کر شیعہ کا  استدلال :کرکرہ جید صحابی رسول تھا!

میں نے کب یہ کہا کہ کرکرہ اسلامی نام نہیں ہے؟ عبداللہ ابن ابی منافقین کا سردار تھا۔ اس کا نام بھی اسلامی ہے، تو کیا تسلیم کرلیں کہ عبداللہ ابن ابی جیّد صحابی رسول تھا؟ 
کرکرہ نام اسلامی ہونا اس بات کی ضمانت تھوڑی ہے کہ اسے جیّد صحابی رسول بھی تسلیم کر لیا جائے، یہ تو صریح گستاخی رسول ہے کہ نبی ﷺ جسے جہنمی کہے وہ شیعہ کے ہاں جیّد صحابی ہوتا ہے۔

انا لللہ وانا الیہ راجعون۔

غلامان نبی ﷺ کی فہرست میں کرکرہ نام دکھا کر شیعہ کا استدلال
 کرکرہ جید صحابی رسول تھا!

اب بس یہی رہ گیا تھا کہ فرمان نبوی ﷺسے ثابت شدہ حقیقت اور سُنی عقیدہ صحابہ کو بھول بھال کر آپ علماء اہل سنت کا مبہم فتوی پیش کر کے  اپنا دعوی ثابت کریں! کتاب میں نبی کریم ﷺکے تمام غلاموں کی فہرست بیان کی گئی ہے، سب کے متعلق فرمان نبویﷺ تھوڑی ہے۔ جب کسی صحیح حدیث سے  کسی شخص کی تخصیص ہوجائے تو اس کا حکم الگ ہوجاتا ہے۔ یہ متفقہ اصول ہے کہ نبی ﷺکے فرمان کے خلاف کسی بھی درجہ کے عالم کی رائے  قبول نہیں کی جاتی۔ چلیں اس کے جواب میں کئی فتووں میں سے صرف ایک فتوے کی  جھلک پیش کردیتا ہوں کہ اہل سنت کے ہاں شرف صحابیت کسے کہتے ہیں۔
 


  یہ پڑھیں قول نبیﷺ۔۔۔ اب بتائیں۔۔کیا کرکرہ جیّد صحابی تھا؟  جسے نبی کریمﷺ جہنمی بھی کہیں اور پھر اس سے اللہ و رسولﷺ  راضی بھی ہوں؟ یہ کیسی منطق ہے۔
 میں اگر قیاس آرائی کر رہا ہوں تو قارئین کے سامنے اہل سنت کا عقیدہ صحابہ بیان کرنے سے فرار کیوں اختیار کیا؟ چلیں اب بھی بتا سکتے ہیں۔ شرط 2 کے مطابق آپ کو عقیدہ صحابہ کی روشنی میں کرکرہ کو جیّد صحابی رسول ثابت کرنا ہے۔ دوبارہ کوشش کریں۔ قیامت تک چیلینج ہے۔ 
میں آپ کی پیش کردہ حدیث سے ہی ثابت کرچکا ہوں کہ *کرکرہ جہنمی* تھا۔ بیشک اس کا خاتمہ بالخیر نہیں ہوا تھا۔ آپ کو اس نکتے کا علمی رد کرنا چاہئے۔ حدیث کا رد حدیث سے ہی ہوسکتا ہے۔ قول نبی ﷺکے مقابل دوسرا قول نبیﷺ  پیش کریں۔ یہی آپ کے لئے آخری آپشن اور عافیت کا راستہ ہے۔

کیا کسی اہل سنت عالم نے کرکرہ کی شان و عظمت بیان  کی ہے؟

صفحہ 8 از 50