کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 7 از 50


 
 اور یہ ایک اور سنیوں کا نمائندہ علمی و تحقیقی اِدارہ دارالعلوم دیوبند انڈیا کا مفتی صہیب احمد قاسمی۔
رسول اللہ کے تمام غلاموں کی فہرست مرتب کرکے انہیں رضی اللہ عنہم لکھا کر  ان کی صحابیت کا اعلان فرمارہا ہے۔ان جید اصحاب رسول میں مدعم و کرکرہ دونوں شامل ہیں۔
ایک مرتبہ پھر ممتاز قریشی صاحب نے قیاس آرائی کی۔جناب کیا آپ کی ذاتی رائے کو اہل سنت کا عقیدہ مانا جائے؟؟ کوئی سمجھ دار بندہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتا،  لہذا آپ کی ذمہ داری ہے قریشی صاحب کہ حوالہ دیں کسی سنی عالم کا کہ اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں کرکرہ صحابیت سے خارج ہے۔ اس حدیث مبارکہ پر پھر غور کریں جیسا کہ سنی مذہب نے اس حدیث پر غور و حوض کیا۔ دیکھیں ابن اثیر، ابن مندہ، خطیب، ذہبی، ابن حجر عسقلانی، مولانا داؤد راز، مولانا عامر شہزاد، ابوسعد نیشاپوری، بلاذری، دارلعلوم دیوبند انڈیا، جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ یوسف بنوری ٹاؤن کراچی یہ سب کرکرہ کی صحابیت کے قائل حدیث نبوی ﷺ کی وجہ سے ہیں۔
اب سنی مذہب کا کرکرہ سے متعلق متفقہ منھج صحیح بخاری کی روشنی میں ان علما کا تسلیم کریں یا قریشی صاحب کی ذاتی قیاس آرائیوں کو سنی مذہب سمجھا جائے؟  قریشی صاحب آپ کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ آپ متفقہ شرائط کی دھجیاں نہ اڑائیں۔
1۔میرے دیے گئے تمام دلائل کا علمی و تحقیقی رد پیش کریں۔
2۔ذاتی قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔
3۔صحیح بخاری کی اس حدیث مبارکہ کو دلیل بناکر کس سنی امام الرجال نے کرکرہ کی صحابیت کا انکار کیا؟ اس کا حوالہ بھیجیں
یا
4۔ کوئی صحیح سند حدیث بھیجیں جس میں لکھا ہو کہ کرکرہ صحابی رسول نہیں تھا۔ 
یا
5۔یہ ڈھیل بھی آپ کو دیتا ہوں کہ نبی کریم ﷺ کے کسی ایک غلام کا نام بتائیں جسے   سنی مذہب صحابیت سے خارج کرنے کی جسارت کرتا ہو۔
  کل قریشی صاحب اگر علمی و تحقیقی دلائل پیش کرتے ہیں تو ٹھیک۔وگرنہ ہم مزید علمی و تحقیقی دلائل پیش کرکے سنی مذہب کے مطابق مدعم کو بھی جید صحابی رسول ثابت کریں گے ان شاءاللہ۔
 شیعہ مناظر کے دلائل کا رد
جعفر صادق:  میں شروع سے عقیدہ صحابہ کو اسی لئے زیر بحث لاتا رہا ہوں کہ کیونکہ مجھے پتہ ہے شیعہ عقائد تو علماء کے اقوال سے گھڑے گئے ہیں، ان کا کوئی سر پیر تو ہوتا نہیں ہے، لیکن اہل سنت عقائد قرآن و احادیث نبوی ﷺکے ماتحت ہوتے ہیں ، جب آپ کرکرہ اور مدعم کو سُنی مذہب سے جیّد صحابی رسول ثابت کریں گے تو دلیل سُنی عقیدہ صحابہ کے مطابق ہی دینی پڑے گی ، اس کے لئے اقوال علماء بطور تائید تو دکھا سکتے ہیں لیکن صحیح قول نبویﷺ  کا رد علماء سے ہرگز نہیں کر سکتے۔
آپ نے پہلی شرط قبول نہ کرکے قارئین تک یہ پیغام تو پہنچا دیا کہ جو دعوی کر بیٹھے ہیں اس کا ذرا برابر بھی تعلق اہل سنت عقیدہ  صحابہ سے نہیں ہے۔ 
دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ نے دوسری شرط قبول کر کے بھی  خود کو پھنسا دیا ہے۔ اب یا تو آپ پہلے ثابت کریں کہ اہل سنت کا عقیدہ صحابہ (حالت ایمان اور خاتمہ بالخیر) نہیں ہے اور اہل سنت شیعوں کی طرح عقیدہ صحابہ رکھتے ہیں تو پھر ان دونوں  کرکرہ اور مدعم کو بھی سُنی مذہب کے عقیدہ صحابہ کے مطابق جیّد صحابی رسول تسلیم کیا جائے گا، بصورت دیگر آپ کو کرکرہ اور مدعم کے لئے کم از کم احادیث نبویﷺ  سے ثابت کرنا پڑے گا کہ اللہ و رسول ان دونوں سے آخری گھڑی تک راضی تھے۔ یاد رکھیں ٭شرف صحابیت صرف اس کے لئے ہے جن سے اللہ راضی ہو اور وہ اللہ سے راضی ہوں۔  جنت کا وعدہ بھی انہی شخصیات سے ہے۔٭
 
      آپ کرکرہ کو ہزاروں صحابہ سے افضل و برتر بھی کہہ رہے ہیں۔  یہ ہے شیعہ عالم کی سمجھ! اللہ عزوجل سے ایسے باطل عقائد و نظریات سے پناہ  مانگتا ہوں۔ شیطان بھی خود کو بڑا عالم فاضل سمجھتا تھا۔ اگر آپ کا علم اور عقل یہ کہہ رہی کہ یہ حدیث نبویﷺ جس میں کرکرہ کو *جہنمی* کہا گیا ہے، وہ دراصل *شان کرکرہ* کو بیان کر رہی ہے تو پھر آپ سے بڑا جاہل شاید ہی دنیا میں کوئی اور ہو!
جس شخص کو نبیﷺ اپنی زبان مبارک سے جہنمی کہہ دے اس شخص کو کوئی عام فہم  بھی اس کی شان نہیں سمجھ سکتا۔   آپ کو پتہ بھی ہے کہ شرط2 کیا ہے؟  آپ کو  اپنا دعویٰ اہل سنت عقیدہ صحابہ کے تحت  ثابت کرنا ہے۔
 
 
 قول نبی ﷺ سے کرکرہ جہنمی ہے۔ اور آپ کو سنی علماء سے کرکرہ کا تعین کرنا ہے۔حد ہوگئی!
 رہی بات امام ابن حجر عسقلانی کی تو آپ نے یہاں دوسری کذب بیانی کی ہے۔
1۔ الاصابہ میں امام ابن حجر عسقلانی کا دعوی دکھائیں کہ ان کی طرف سے  تمام صحابہ اس میں مذکور ہیں اور کسی غیر صحابی کا ذکر شامل نہیں کیا گیا ۔
2۔ دوسری بات علامہ ابن حجر عسقلانی نے کرکرہ کی شان  (تعدیل) تھوڑی بیان کی ہے، بلکہ اسی صحیح بخاری کی حدیث کو تسلیم کرتے ہوئے فرمان نبوی ﷺ پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اسے جہنمی (جرح) لکھا ہے۔ 
  

 اس حدیث میں کرکرہ کا خاتمہ بالخیر بیان ہی نہیں کیا گیا، جبکہ شرط 2 کے مطابق آپ کو *سُنی عقیدہ صحابہ* کے مطابق کرکرہ کو صحابی رسول ثابت کرنا ہے۔  کسی سُنی عالم کے قول کی ضرورت اس وقت ہوتی جب زبان رسول ﷺ سے کرکرہ کا جہنمی ہونا ثابت نہ ہوتا۔ قول نبیﷺ  وحی الہی ہے، اس کے رد کے لئے آپ کو قول سُنی عالم چاہئے۔ لاحول ولاقوت۔ 
چلیں آپ کسی سُنی عالم سے کرکرہ کی شان و عظمت(تعریف و تعدیل)  دکھادیں، اس کا جنتی ہونا دکھادیں، اس کا خاتمہ بالخیر ہونا دکھادیں۔ 
جس عالم نے بھی کرکرہ کا ذکر کیا ہے اس نے کوئی تعریف ہرگز نہیں کی۔ الحمدلللہ

صفحہ 7 از 50