کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 6 از 50

کیونکہ آپ کا دعوی احادیث نبویﷺسے باطل ہوجاتا ہے اس لئے علماء کے اقوال پیش کرنا آپ کی مجبوری ہے۔ میں یہی نکتہ آپ کو بار بار سمجھا رہا تھا۔ کرکرہ کا تعین قول نبیﷺ  سے ہوجاتا ہے۔کرکرہ جہنمی تھا۔ ثابت قدم نہ رہ سکا۔۔۔ خاتمہ بالخیر کے بغیر آپ سنی مذہب سے قیامت تک کرکرہ کو صحابی رسول ثابت نہیں کرسکتے۔قول نبی ﷺ کو چھوڑ کر ابن مندہ کی نامکمل بات کیسے تسلیم کی جائے۔ کرکرہ بظاہر صحابی تھا۔۔ جب گناہ کرنے پر آگیا تو پھر مردود ہوگیا۔ نبیﷺ  کا قول وحی الہی ہوتا ہے۔ ان کی بات ہمارے لئے حرف آخر ہے۔ آپ میرے اشکالات کو حل کریں۔
سنی عقیدہ صحابہ کی روشنی میں اور قول نبیﷺ  سے تعین ہونے کے باوجود کرکرہ  کو جید صحابی  رسول کیسے مان لیا جائے؟ علماء کے دس ہزار قول رکھ دیں پھر بھی نبیﷺ کے ایک قول کے آگے کچھ بھی نہیں ہیں۔

سید علی حیدری شیعہ مناظر: جی سامعین ملاحظہ فرمائیں ممتاز قریشی صاحب نے اب شرائط توڑتے ہوئے ذاتی قیاس آرائیاں شروع کردی ہیں،  اپنی اس ٹرن میں انہوں نے کوئی علمی و تحقیقی رد پیش نہیں کیا بلکہ صحیح بخاری کی حدیث سے سنی مذہب نے جو استدلال کیا ہے ، اسے انہوں نے اپنی ذاتی رائے سے رد کرنے کی ناکام کوشش کی۔ آئیے اس کا علمی آپریشن شروع کرتے ہیں۔ موصوف سوال کررہے ہیں کہ حدیث میں کرکرہ کو جید صحابی رسول کہاں لکھا ہے۔ یعنی موصوف کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں رہنے والے اور ساتھ ہی غزوہ میں شرکت کرنے والے صحابی رسول کرکرہ، کس طرح دیگر ہزاروں صحابہ سے افضل و برتر تھے۔ ذرا قریشی صاحب بیان کریں کہ جید اصحاب پھر کیسے ہوتے ہیں؟
(اہل سنت عقیدہ صحابہ اور شرف صحابیت کا معیار اوپر پیش کرنے کے باوجود شیعہ مناظر سمجھنے سے قاصر تھے کہ سنی مذہب میں جید صحابہ کن شخصیات کوکہتے ہیں)

سید علی حیدری شیعہ مناظر:  جناب من شرط 2 کے مطابق ہی میں نے سنی مذہب کا متفقہ موقف آپ کے سامنے رکھا ہے کہ کرکرہ صحابی رسول ہے۔موصوف جسے سنی عقیدہ کہہ رہے ہیں کیا اس کا علم ابن حجر عسقلانی کو نہیں تھا؟؟ الاصابہ ابن حجر عسقلانی نے کیا قیاس آرائی کرکے لکھی ہے؟ خود ابن حجر عسقلانی صحیح بخاری کی حدیث کو دلیل بنارہا ہے کرکرہ کی صحابیت ثابت کرنے کے لیے ساتھ میں ابن حجر سنی منہج بھی بیان کررہا ہے اپنے سے بڑے علماء کی زبانی کہ کرکرہ کو شرف صحابیت حاصل تھا۔ کیا ابن حجر عسقلانی کو علم نہیں تھا کرکرہ چوری کرکے جہنمی بننے کی وجہ سے صحابیت سے خارج ہوچکا ہے؟؟؟
 علمی و تحقیقی طریقے سے آپ کی ذمہ داری ہے کہ کسی سنی عالم کا قول یہاں پیش کریں کہ   کرکرہ کا خاتمہ بالخیر نہیں ہوا لہذا وہ صحابی رسول نہیں ہے  کیوں کہ شرط کے مطابق آپ ذاتی رائےو قیاس سے عمومی بات کا اطلاق کرکرہ پر نہیں کرسکتے اور اسے صحابیت سے خارج نہیں کرسکتے۔  
جی قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ ممتاز قریشی کس طرح جھوٹ بول رہے ہیں، شارح بخاری پر بہتان تراشی کرتے ہوئے ممتاز قریشی صاحب لکھ رہے ہیں ۔
*شارح نے یہی لکھا ہے کہ مؤمن ہونا دوزخ سے چھٹکارے کی گارنٹی نہیں جبتک خاتمہ بالخیر نہ ہو۔ جو شخص مؤمن ہی نہ رہا اسے آپ جید صحابی رسول ثابت کرنا چاہتے ہیں۔*
حالاں کہ شارح بخاری داؤد راز کی رائے یہ ہے 
مال غنیمت میں سے ذرا سی چوری بھی حرام ہے جس کی سزا یقینی دوزخ ہے،   اس حدیث سے ان لوگوں کا رد ہورہا ہے جو کہتے ہیں کہ مومن گناہوں کی وجہ سے دوزخ نہیں جائیں گے۔ یعنی شارح بخاری کے مطابق کرکرہ مومن تھا۔
 میں نے علماء کی ذاتی رائے دی ہی نہیں بلکہ علماء نے کرکرہ کی صحابیت ثابت کرنے کے لیے صحیح بخاری کی حدیث کو دلیل بنارکھا ہے۔  مزے کی بات ہے جس حدیث سے سنی مذہب متفقہ طور پر کرکرہ کی صحابیت کا اعلان کررہا ہے، اسی حدیث سے قریشی صاحب ذاتی قیاس آرائیاں کرکے کرکرہ کو صحابیت سے خارج کررہے ہیں  قارئین خود سوچیں کہ انہوں نے سنی مذہب کی متفقہ رائے کو تسلیم کرنا ہے یا قریشی صاحب کی ذاتی قیاس آرائیوں کو؟؟؟؟
  


 
  جی قارئین ملاحظہ فرمائیں یہاں اہل سنت کے ایک اور امام الرجال و جرح و تعدیل کے امام و محدث ابن اثیر بھی *صحیح بخاری کی حدیث* کو دلیل بناکر کرکرہ کی صحابیت کا اعلان کررہے ہیں۔ یہ ممتاز قریشی کی طرح ابن اثیر کی ذاتی رائے ہرگز نہیں، بلکہ کرکرہ کا نبی کریم کا غلام اور غزوہ میں شرکت کرنا دلیل بنا ہے کہ انہوں نے کرکرہ کو صحابی رسول مانا ہے ۔
 


 
اور یہ ایک اور سنیوں کے امام الرجال اور جرح و تعدیل کے امام شمس الدین ذہبی کی کتاب۔ یہ شمس الدین ذہبی کی وہ علمی و تحقیقی کتاب ہے جو انہوں نے سنی علماء متقدمین کی صحابہ کرام سے متعلق لکھی گئی کتابوں پر تحقیق کرکے لکھی تھی اور متقدمین نے غلطی سے جن افراد کو صحابی رسول لکھ دیا تھا ان کے نام ذہبی نے خارج کرکے صرف ان صحابہ کے ناموں کی تجرید لکھی جو سنی مذہب کے عقیدہ کے مطابق جید اصحاب رسول تھے۔  اور یہ بھی میری ذاتی رائے نہیں بلکہ ایک سنی عالم کی علمی و تحقیقی کاوش ہے ملاحظہ فرمائیں 
 

 یہ صفحہ اردو میں ہے جہاں واضح لکھا ہے۔  ابن اثیر نے اسد الغابہ میں بہت سے ایسے لوگوں کے نام لکھ دیے تھے جو صحابی نہیں تھے، اس لیے علامہ ذہبی نے تجرید الصحابہ کے نام سے کتاب لکھی اور غلطیوں کی اصلاح کی۔

  


 
 
 یہ آبی عبداللہ الخطیب ایک اور ماہر علم الرجال ہیں جو کرکرہ کو فصل فی الصحابہ میں اسی صحیح بخاری کی حدیث کو دلیل بناکر صحابی رسول ثابت کررہے ہیں۔
  

  قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ سنی مذہب کا نمائندہ ادارہ علامہ یوسف بنوری ٹاؤن کراچی کا جامعہ العلوم الاسلامیہ بھی کرکرہ کے صحابی رسول ہونے کا اعلان فرمارہا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ کرکرہ کا نام رکھنے کی تلقین بھی کررہا ہے۔۔۔۔کیا یہ بھی جید صحابی ہونے کی دلیل نہیں؟
 

صفحہ 6 از 50