کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 5 از 50

سید علی حیدری شیعہ مناظر: دعویٰ یاد کرلیں۔ کرکرہ اور مدعم سنی مذہب میں جید اصحاب رسول ہیں۔ آپ کے ترجمہ اور میرے ترجمے میں  زمین آسمان کا فرق ہے، پھر کبھی سمجھاؤں گا۔
جعفر صادق: موت اسلام پر آئی ہو،اور موت حالت ایمان میں ہو۔مفہوم ایک ہی ہے۔لفظوں کی غلامی سے باہر نکلیں۔ مسلمان اور مؤمن میں  کیا فرق ہے؟   کرکرہ اور مدعم سُنی مذہب کے عقیدہ صحابیت کے تحت صحابی رسول کا شرف نہیں رکھتے۔ 

سید علی حیدری شیعہ مناظر: پہلی شرط کا میرے دعوے سے تعلق نہیں، لہذا مجھ پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔
 مزید شرائط شامل کریں۔
1- قرآن و حدیث پر ذاتی قیاس آرائی کی ہرگز گنجائش نہیں ہے۔
2- میرے دلائل کا علمی و تحقیقی رد پیش کرنا سنی مناظر کی ذمہ داری ہوگی۔
3- بحث رجالی ہے لہذا ائمہ رجال اور جرح و تعدیل کے اقوال کو شارحین و مفسرین پر فوقیت ہوگی۔
 
جعفر صادق: آپ کی شرائط قبول ہیں۔

سید علی حیدری شیعہ مناظر: براہ مہربانی  میرے دلائل کا علمی و تحقیقی رد پیش کیجیے گا ۔

 جعفر صادق: اگر صحیح احادیث سے مسئلہ حل ہو تو پھر کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ دو گھنٹوں سے یہی تو سمجھاتا رہا ہوں۔آپ اسی لئے تو سنی و شیعہ عقائد سے بھاگتے رہے ہیں۔ جب احادیث سے تعین ہوجائے تو پھر کیسی تحقیق؟آپ کو پتہ بھی ہے کہ تحقیق کب کی جاتی ہے۔

  سید علی حیدری شیعہ مناظر: تحقیق بھی اسی مناظرہ میں آپ کو سکھاؤں گا۔

جعفر صادق: عقائد بتانا نہیں ہیں۔تحقیق سکھاؤگے!
شیعہ عالم کی دعویٰ کے حق میں دلیل
سید علی حیدری شیعہ مناظر: عقائد اہلسنت کے علما زیادہ بہتر جانتے ہیں یا آپ،  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑیں۔

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
صحيح البخاري۔ كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ
کتاب: جہاد کا بیان، 190بَابُ الْقَلِيلِ مِنَ الْغُلُولِ:

190باب: مال غنیمت میں سے ذرا سی چوری کر لینا۔ حدیث نمبر: 3074

حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن سالم بن ابي الجعد، عن عبد الله بن عمرو، قال: كان على ثقل النبي صلى الله عليه وسلم رجل، يقال له: كركرة فمات، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" هو في النار فذهبوا ينظرون إليه فوجدوا عباءة قد غلها"، قال ابو عبد الله: قال ابن سلام كركرة: يعني بفتح الكاف وهو مضبوط كذا.

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو نے ‘ ان سے سالم بن ابی الجعد نے ‘ ان سے عبداللہ بن عمر نے بیان کیا کہ *نبی کریم صلی اللہ علیہِ وآلہ وسلم کے سامان و اسباب پر ایک صاحب مقرر تھے ‘ جن کا نام کرکرہ تھا*۔ ان کا انتقال ہو گیا ‘ *نبی کریم صلی اللہ علیہِ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تو جہنم میں گیا۔* صحابہ انہیں دیکھنے گئے تو ایک عباء جسے خیانت کر کے انہوں نے چھپا لیا تھا ان کے یہاں ملی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری ) نے کہا کہ محمد بن سلام نے (ابن عیینہ سے نقل کیا اور) کہا یہ لفظ «كركرة» بفتح کاف ہے اور اسی طرح منقول ہے۔

 جی قارئین ملاحظہ فرمائیں صحیح بخاری کی یہ صحیح السند حدیث مبارکہ ہے، جس میں کرکرہ نامی ایک شخص کا ذکر ہے جو نبی کریم ﷺ کے سامان و اسباب کی نگرانی کرتا تھا۔ یہ شخص کون تھا؟ یہ بھی آپ کو سنی مذہب سے دکھاتا ہوں۔

 


 
    یہاں دیکھ سکتے ہیں کہ شارح بخاری نے اس حدیث کی شرح میں قرآن مجید کی آیت مبارکہ اور ایک اور حدیث مبارکہ سے استدلال کرکے لکھا ہے کہ مال غنیمت میں سے ذرا سی چوری بھی حرام ہے جس کی سزا یقینی دوزخ ہے، آگے لکھتے ہیں کہ *ان لوگوں کا رد ہورہا ہے جو کہتے ہیں کہ مومن گناہوں کی وجہ سے دوزخ نہیں جائیں گے* یعنی شارح بخاری کے مطابق کرکرہ مومن تھا۔
 
 

شیعہ عالم کا صحیح بخاری  کی حدیث سے استدلال

 جی قارئین ملاحظہ فرمائیں یہ اہل سنت کے معروف امام الرجال اور جرح و تعدیل کے امام ابن حجر عسقلانی ہیں۔جو صحیح البخاری کی اسی حدیث کو دلیل بنارہے ہیں جسے میں نے پیش کیا ہے۔اس حدیث سے ابن حجر عسقلانی سنی علماء کا منھج تحریر کررہے ہیں کہ کرکرہ نبی کریم ﷺ کے غلام تھے جو غزوہ خیبر میں بھی شریک تھے یعنی مجاہد صحابی رسول تھے، انہیں شرف صحابیت حاصل تھا۔  یہ بات طے ہے کہ اصحاب رسول کے درجات تھے، جب کہ وہ صحابہ جنہیں نبی کریم ﷺ کی غلامی اور غزوہ میں شرکت کا موقع ملا انہیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے ، کرکرہ ان میں سے ایک تھے۔یہ میری ذاتی رائے نہیں بلکہ متفقہ بات ہے۔
جعفر صادق: پہلا سوال ، اس حدیث میں کہاں لکھا ہے کہ یہ کرکرہ جید صحابی رسول تھا؟ 
  شرط نمبر 2 کے مطابق آپ کو سنی مذہب کے عقیدے کی روشنی میں کرکرہ کو جید صحابی رسول ثابت کرنا ہے۔سنی عقیدہ صحابہ کے مطابق حالت ایمان کے ساتھ خاتمہ بالخیر بھی لازم ہے۔ جو حدیث بطور دلیل آپ نے پیش کی ہے اس میں واضح  لسان نبویﷺ کی تصریح موجود ہے۔ جس کے مطابق کرکرہ کا خاتمہ بالخیر نہیں ہوا تھا، وہ مال غنیمت سے چوری کا مرتکب تھا اور جہنمی تھا۔ 


 


 
  رہی بات شارح صحیح بخاری کی تو اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ چاہے مؤمن ہی کیوں نہ ہو آخری گھڑی تک ثابت قدم رہنا لازمی ہے۔ کرکرہ ثابت قدم نہ رہ سکا۔ یہی اس بات کی دلیل ہے کہ کرکرہ شرف صحابیت سے خارج ہوچکا۔ 
شارح نے یہی لکھا ہے کہ مؤمن ہونا دوزخ سے چھٹکارے کی گارنٹی نہیں جبتک خاتمہ بالخیر نہ ہو۔ جو شخص مؤمن ہی نہ رہا اسے آپ جید صحابی رسول ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ جب لسان نبویﷺ سے کرکرہ کا خاتمہ بالخیر ہونا ثابت نہیں بلکہ جس شخص کو نبی کریم ﷺ جہنمی فرما رہے ہیں وہ شخص شیعہ عقیدے کے تحت تو صحابی ہوسکتا ہے ، لیکن اہل سنت کے عقیدے کے مطابق ہرگز ہرگز صحابی رسول نہیں ہوسکتا کیونکہ اللہ کا وعدہ ثابت قدم صحابہ کرام کے لئے ہے۔ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔ الحمدلللہ۔
 
  یہ پڑھیں۔۔آپ آگئے نہ علمائے کے اقوال پر۔۔۔۔

صفحہ 5 از 50