کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 49 از 50

   سید علی حیدری شیعہ مناظر: ضد تو آپ کررہے ہیں، ابن حجر عسقلانی کے مطابق پھر مدعم و کرکرہ کا خاتمہ بالخیر نہ ماننے کی۔
 تو کہہ دیں مفتی جان محمد مصطفائی کی طرح کہ جو بھی کرکرہ و مدعم کی صحابیت کا انکار کرے وہ حدیث نبویﷺ  کے انکار کے مترادف ہے۔

جعفر صادق: سنی لائبریری ڈاٹ کام پر مفتی جان محمد مصطفائی کی  تمام وائسز کو جوڑ کر ایک وائس میں  رکھ دیا گیا ہے۔۔ قارئین وہاں  خود  وائس سن کر فیصلہ کریں کہ انہوں نے  کیا واقعی  کر کرکرہ اور مدعم  کا نام بول کر ان کی صحابیت کا إقرار  کیا ہے اور ان کی صحابیت کا انکار کرنے والے  کو منکر حدیث قرار دیا ہے۔ دودھ کا دودھ اور  پانی کا پانی ہوجائے گا۔
  سید علی حیدری شیعہ مناظر: آپ کے لیے ختم نہ سنی مذہب کے لیے نہیں۔  تین دن میں گو کہ میرے متعدد سوالات کا جواب قریشی صاحب نے نہیں دیا لیکن خیر۔۔۔۔یہ فیصلہ بھی میں اہل علم حضرات پر چھوڑتا ہوں۔۔ ایڈمن  اب اپنے گروپ کو کھولنے یا بند رکھنے میں آزاد ہیں۔
وما علینا الاالبلاغ المبین

جعفر صادق:  آخری فیصلہ قارئین  پر چھوڑا جاتا ہے۔
واٹس آپ گروپ چھوڑنے  کے بعد پرسنل میں دو میسیجز  موصول  ہوئے ، جو سبز دنیا گروپ میں آئے تھے۔
  حقیقت  :   مناظرے  میں شیعہ عالم کو   سنی مذہب میں مدعم اور کرکرہ کو  جید صحابی رسول ثابت کرنا تھا۔  شرف صحابیت  میں وہ ہستیاں داخل ہیں جن سے جنت کا وعدہ الہی بنص قرآن موجود ہے۔ جہنمی کو شرف صحابیت میں داخل کرنے کا مطلب ان آیات کا انکار ہے۔ 
شیعہ عالم کو آخر تک سمجھ نہ آسکی کہ جہنمی صرف کافر نہیں ہوتے۔  مسلمان بھی اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔ مدعم اور  کرکرہ جہنمی ہیں اسی لئے شرف صحابیت سے خارج ہیں۔ میرا جواب واضح ہے۔ عین قرآن و سنت کے مطابق ہے۔ گروپ میں ایڈمنز کی طرف سے   مجھے برا بھلا کہنا اس بات کی علامت ہے کہ  حق واضح کردیا گیا ہے،شیعہ ممبرز بھی سمجھ چکے تھے کہ حق کس طرف ہے۔
شیعہ عالم کی دوران گفتگو فاش غلطیاں اور شرائط کی خلاف ورزیاں

1۔ شرط 1  کو شیعہ عالم نے شروع میں ہی تسلیم نہیں کیا، تاکہ شیعہ عقیدہ عوام کے سامنے نہ آسکے۔
2۔   شرط 2 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شیعہ عالم نے صاف انکار کردیا کہ وہ عقائد پر گفتگو نہیں کریں گے۔ (دیکھیں اسکرین شاٹ پیج 333,334، 56 )
3۔   شرط 3 اور 4 کے مطابق صحیح احادیث اور باسند روایات سے دعوی ثابت کرنے کے بجائے  شیعہ مناظر نے اقوال علماء سے دعوی ثابت کرنے کی کوشش کی، اور  اس میں بھی ناکام رہے کیونکہ کسی عالم سے کرکرہ اور مدعم کی تعدیل نہ دکھا سکے۔ صرف ایک شاذ قول دکھا کر رٹ لگاتے رہے کہ یہ  متفقہ سُنی مذہب کا مؤقف ہے۔(دیکھیں پیج 316,57)

4۔ شرط 5 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک لمبی تحریر نیٹ سے اٹھا کر کاپی پیسٹ کردی، جس کا زیر بحث موضوع سے تعلق بھی نہ تھا۔ (دیکھیں پیج 156 سے  161)
5۔ شرط 7 کے مطابق شیعہ عالم کو مقدسات کا احترام کرنا تھا اور غیر متعلق اعتراضات کرنے کا کوئی حق نہیں تھا، اس کے باوجود براہ راست حضرت ابوبکر صدیق کے متعلق اعتراض وارد کردیا۔(دیکھیں اسکرین شاٹ پیج 164 )


شیعہ عالم نے دوران گفتگو اپنی شرائط پر بھی عمل نہیں کیا۔


شیعہ مناظر کی پہلی شرط:
قرآن و حدیث سے ذاتی قیاس آرائی کرتے ہوئے صرف نام اور ایک شاذ قول دکھا کر بار بار یہ کہتے رہے کہ کرکرہ اور مدعم سُنی مذہب میں متفقہ جیّد اصحاب رسول ہیں ۔
دوسری شرط :
جس طرح اہل سنت کو علمی و تحقیقی رد کا پابند کر رہے تھے ، اسی دلیل کے مطابق انہیں بھی اہل سنت کے اشکالات کا علمی و تحقیقی رد کرنا تھا، حد تو یہ ہے کہ آخر میں پوچھے گئے پانچ اہم ترین نکات کے جوابات دینے میں  بھی ناکام رہے۔
تیسری شرط
شیعہ مناظر نے خود اپنی اس شرط کی بھی پابندی نہیں کی، علم رجال میں کسی شخص کے متعلق جرح و تعدیل کی مدد سے ہی فیصلہ کیا جاتا ہے، کرکرہ اور مدعم کی جرح (جہنمی) دکھا کر شیعہ مناظر اسے تعدیل سمجھاتے رہے۔ احادیث میں مذمت کو درگذر کرتے ہوئے صحبت رسول کو شان کرکرہ و مدعم ثابت کرنے کی کوششیں کیں۔

کیا الاصابہ فی تمییز الصحابہ (امام ابن حجر عسقلانی)  میں صرف صحابہ کرام  کا تذکرہ ہے؟

الاصابہ کے مقدمے میں واضح بیان کیا گیا ہے کہ امام ابن حجر عسقلانی نے کئی غیر صحابی بھی اس کتاب  میں شامل کئے ہیں۔
الاصابہ فی تمییز  الاصابہ اور تجرید  اسماء الصحابہ میں  عبدالرحمان بن ملجم کا تذکرہ!

قارئین! شیعہ حضرات  یہ دعوی کرتے ہیں کہ الاصابہ فی تمییز الاصابہ اور تجرید اسماء الصحابہ میں اگرکسی کا  نام موجود ہو تو وہ سنی مذہب میں متفقہ صحابی رسول ہوگا، تو یہ دعوی بھی باطل ہے۔ ہم بطور مثال صرف ایک  عبدالرحمان ابن  ملجم  ملعون کا  نام اور تذکرہ پیش کرتے ہیں۔ یہ شخص  اہل سنت و اہل تشیع  کے ہاں متفقہ طور پر قاتل سیدنا علیؓ کی حیثیت سے مشہور و معروف ہے، اس کے باوجود اس کا نام امام ابن حجر عسقلانی نے الاصابہ فی تمییز الاصابہ میں اور امام  ذہبی نے تجرید اسماء الصحابہ میں شامل کیا ہے، یہ اس بات کی قوی دلیل ہے کہ دونوں کتب میں سو فیصد صحابہ کرام کا   ذکر نہیں ہے بلکہ ایسے اشخاص کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو شرف صحابیت نہیں رکھتے ، کیونکہ خاتمہ بالخیر نہیں ہوا۔
تجرید اسماء الصحابہ(امام ذہبی)

3782 : عبد الرحمن بن ملجم المرادی قاتل امیر المؤمنین علی . ذکر ابن یونس انه قرأ علی معاذ بن جبل (تجرید اسماء الصحابة جلد 1 صفہہ 356 ط دار المعرفة)
الاصابہ فی تمییز الصحابہ (امام ابن حجر عسقلانی)
[ 6412 ] عبد الرحمن بن ملجم المرادی ، أدرک الجاهلیة ..  
الاصابة فی تمییز الصحابة جلد 8 صفہہ 158 ط مرکز الهجر للبحوث ۔

ابن ملجم کا جس عالم نے بھی ذکر کیا ہے تو اس کی تعدیل بیان نہیں کی بلکہ قاتل علی ہونے کی وجہ سے اس کی مذمت بیان کی گئی ہے۔
 
 
 
 

صفحہ 49 از 50