کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 45 از 50

 سید علی حیدری شیعہ مناظر: شیعہ عالم کے مطابق شیعہ صحابہ کرام اور منافق صحابہ کا فرق سمجھ آگیا آپ کو؟ یا دونوں ایک ہی قسم کے صحابہ تھے؟ 
جعفر صادق: اہل تشیع کے  عقائد و نظریات میں ایسے ایسے اختلافات ہیں کہ عام بندہ چکرا جائے۔  کوئی کچھ کہتا ہے تو کوئی کچھ اور۔    اب اس شیعہ عالم کو ہی دیکھ لیں۔ پوری گفتگو میں  سنی و شیعہ جید علماء کی متفقہ باتوں  کا  ہی انکار کرتا  رہا۔  
    جن کے ہاں ایک  امام معصوم  کی وفات پر اگلے امام کے ناموں پر بار بار  اختلافات ہوتے رہے،  انہیں کیا پتہ کہ قرآن کریم میں صحابہ کرام کی جماعت  ،  مرتدین کی جماعت اور  منافقین کی جماعت ایک ہی جماعت ہے یا تینوں الگ  الگ جماعتیں ہیں۔

 کرکرہ اور مدعم کی توثیق اور کتب علم الرجال  اور کتب احادیث 

سید علی حیدری شیعہ مناظر: یہ  وہ علم الرجال کی کتب ہیں ، جو سنی آئمہ رجال، جرح و تعدیل کے آئمہ و محدثین نے لکھی ہیں۔میری ہر دلیل میں صحیح حدیث سے ہی آپ کے ائمہ رجال نے مدعم و کرکرہ پر صحابی کا حکم لگایا ہے۔  سنی مذہب کی تاریخ میں ایسا عالم الرجال آج تک پیدا نہیں ہوا جس نے مدعم و کرکرہ پر ان احادیث کی روشنی میں عدم صحابیت کا حکم لگایا ہو۔

جعفر صادق: قارئین۔۔شیعہ عالم سے دوران گفتگو  الفاظ بدل بدل کر کئی بار  پوچھا گیا تھا کہ   وہ صرف أسماء الرجال سے نام دکھا کر کیسے ثابت کر رہے ہیں کہ سنی مذہب میں کرکرہ اور مدعم  جید صحابی رسول ہیں۔ اس کا جواب یہ دیا جانا تھا کہ دیکھیں یہ فلاں فلاں کتاب  سنی أسماء الرجال کی ہے جس میں دونوں کی تعدیل و   توثیق  بیان کی گئی ہے،  اس لئے ان دونوں کو شرف صحابیت حاصل ہے  وغیرہ وغیرہ۔   لیکن ایسا کرنے کے بجائے  شیعہ عالم کی طرف سے نام دکھا  دکھاکر  ذاتی استدلال   پیش کیا جاتا رہا کہ ناموں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ     متفقہ طور پر  سنی مذہب میں کرکرہ اور مدعم جید صحابی رسول   ہیں۔

سید علی حیدری شیعہ مناظر: اس کو سنی اصول کے مطابق قیاس مع الفارق کہتے ہیں، یاد رکھیے گا بھولنا مت اس اصطلاح کو۔۔۔شیعہ علماء الرجال نے عبداللہ ابن ابی کے کفر کی تصریح کرکے اسے صحابی علی علیہ السلام لکھا ہے، جب کہ سنی آئمہ رجال نے کرکرہ کو کہیں بھی کافر صحابی رسول نہیں لکھا بلکہ میں تو ان دونوں کے ساتھ سنی مذہب سے رضی اللہ عنہم کی توثیق بھی بھیج چکا ہوں، اب اگر آپ کافر کو رضی اللہ عنہم ثابت کرسکیں تو ضرور یہ قیاس کریں۔

جعفر صادق: قارئین۔۔پہلے  اسکرین شاٹس دیکھیں کہ بات کیا تھی اور شیعہ عالم کو کس نکتے کا کیا جواب دینا چایئے تھا۔


اس جواب میں  دو جواب طلب نکات ہیں۔
1۔جید شیعہ علماء کی طرف سے عبداللہ ابن سبا کا أصحاب سیدنا علی میں  شمار
2۔ شیعہ عالم کی طرف سے کذب بیانی کرتے ہوئے  کرکرہ اور مدعم کے لئے سنی مذہب سے رضی اللہ عنہم کی توثیق کا دعویٰ۔
1۔جید شیعہ علماء کی طرف سے عبداللہ ابن سبا کو اصحاب سیدنا علی میں  شمار کرنا

استدلال یہ تھا کہ صرف نام دکھانے سے کسی کے متعلق اہل تشیع کے ہاں بھی متفقہ فیصلہ کہہ دینا درست نہیں ہے ، بطور مثال عبداللہ ابن سبا یہودی کا  شیعہ أسماء الرجال میں أصحاب سیدنا علی  کی فہرست میں نام دکھایا گیا ،  اگرچہ شیعہ عالم عبداللہ ابن سبا کو  اپنی کم علمی یا  خطائے  بشری  سے ابن سبا کو منافق عبداللہ ابن ابی سمجھ بیٹھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے من و عن وہی  جواب   دیا جو کرکرہ اور مدعم کے متعلق أسماء الرجال میں صرف نام دکھانے سے انہیں اہل سنت کی طرف سے پیش کیا جاتا رہا۔ غور فرمائیں۔۔ شیعہ عالم نے  جواب دیا کہ  أسماء الرجال میں اس کی تفصیل اچھے الفاظ میں بیان نہیں کی گئی۔  وہ کافر ہوگیا تھا، جب توثیق نہ ہو ، خاتمہ بالخیر نہ ہو تو  اس شخص کو  جید صحابی کہہ کر عزت افزائی نہیں کی جاتی۔
اگر عبداللہ ابن سبا   کو اپنے برے انجام کے باوجود  معتبر شیعہ علماء کی طرف سے أصحاب سیدنا علی میں   شمار کیا جاتا ہے تو  کیا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اہل تشیع اس ملعون کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں؟    ہرگز نہیں۔ بالکل اسی طرح کرکرہ اور مدعم کا نام دکھاکر یہ کہہ دینا درست نہیں ہے کہ سنی مذہب میں متفقہ طور پر یہ دونوں جید صحابی رسول ہیں! 

حقیقت  تو یہ بھی  ہے کہ کئی پڑھے لکھے شیعہ بھی یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ یہ عبداللہ ابن سبا ایک افسانوی کردار تھا!  جیسا کہ گفتگو کے آخر میں ایک شیعہ ایڈمن نے بھی کچھ اس طرح جواب دیکر دل کی بھڑاس نکالی۔

2۔ شیعہ عالم کی  کذب بیانی 
    سنی مذہب سے کرکرہ اور مدعم کے لئے رضی اللہ عنہم کی توثیق کا دعویٰ

قارئین! یہ بات لکھ کر  شیعہ عالم  نےجہالت کے بلند مقام پر جگہ بنالی  ہیں۔  اوپر پیج  52 پر گفتگو ملاحظہ فرمائیں۔  ایک  فہرست میں کئی سارے غلامان رسولﷺ کے   نام دکھا کر آخر میں سب کے لئے رضی اللہ عنھم  کے الفاظ سے شیعہ عالم نے   استدلال پیش کیا کہ انہوں نے کرکرہ اور مدعم کو سنی مذہب سے رضی اللہ عنھم کی توثیق ثابت کردی ہے۔ مناظروں میں اس قسم کے دلائل سے شیعہ ہی گذارہ کرسکتے ہیں۔ 
طئے شدہ شرائط میں شرط 3 اور 4 کو بھی ملاحظہ فرمائیں۔


قارئین خود فیصلہ کریں کہ کیا شیعہ عالم نے شرائط کے مطابق اپنے دعویٰ کو ثابت کیا؟
صحیح احادیث سے کرکرہ اور مدعم کا نام دکھا کر شیعہ عالم کی طرف سے اسماء الرجال اور اقوال علماء سے دلائل دینا، تعدیل کے بغیر صرف  نام دکھانا،  شرائط کی خلاف ورزی تھا، کیونکہ موضوع براہ راست دو اشخاص کا صحیح روایات سے تعین کرنا تھا کہ وہ جید صحابی رسول ہیں یا نہیں!   اس کے باجود ان کے دلائل پر بھی گفتگو کی گئی اور عوام کو دکھایا گیا کہ ان کا مؤقف کتنا کمزور ہے۔ سنی و شیعہ کتب سے اہل سنت مؤقف کو ثابت بھی کردیا گیا۔ الحمدلللہ

  قول نبیﷺ سے کرکرہ اور مدعم سمیت کئی  أصحاب  رسول  جہنمی ہیں! معاذاللہ
شیعہ عالم آپے سے باہر!!

صفحہ 45 از 50