کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 44 از 50

وَ مَا لَکُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَا یَسۡتَوِیۡ مِنۡکُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الۡحُسۡنٰی ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ﴿٪۱۰﴾

  اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے جب کہ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ کے لیے ہے؟ تم میں سے جنہوں نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور قتال کیا وہ (دوسروں کے) برابر نہیں ہو سکتے، ان کا درجہ بہت بڑا ہے ان لوگوں سے جنہوں نے بعد میں خرچ کیا اور مقاتلہ کیا، البتہ اللہ تعالیٰ نے ان سب سے اچھائی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب آگاہ ہے۔

 اس آیت کا آغاز بھی صحابہ کی سخت سرزنش سے ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کررہے تھے،
  کن سب سے اچھائی کا وعدہ ہے؟؟ ان سب سے جنہوں نے فتح مکہ سے قبل اور بعد قتال و راہ خدا میں مستقل مزاجی سے خرچ کیا؟؟
یا
ان سب صحابہ سے بھی جو ایمان لانے کے بعد ایمان سے محروم ہوئے، جنہوں نے پکا وعدہ توڑ دیا؟ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بند کردیا؟  تینوں آیات کا بغور مطالعہ فرمائیں تو ہر باشعور انسان کو سمجھ آجائے گا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے سے وہ تمام صحابہ خارج ہیں  جو ایمان لانے کے بعد ایمان سے محروم ہوئے، پکے وعدے توڑے اور راہ خدا میں خرچ کرنا بند کردیا۔   اگر آپ مذکورہ تینوں آیات پڑھ کر *سب سے* سمجھ لیتے تو اس غلط فہمی کا شکار نہ ہوتے۔

شیعہ عالم کا إقرار 
 ایمان لانے کے بعد مرتد ہونے والے وعدہ الہٰی میں شامل نہیں ہیں۔(اسکرین شاٹ)

جعفر صادق:   کاش شیعہ عالم  بھی باشعور انسان ہوتے۔ کم ازکم اپنی لکھی ہوئی باتوں کو ہی سمجھنے کی قابلیت ہوتی پھر مجھے غلط فہمی کا طعنہ نہ دیتے۔

قارئین! شیعہ عالم  خود تسلیم بھی کر رہے ہیں کہ جس کا خاتمہ بالخیر نہ ہو ا ، وہ شرف صحابیت سے خارج  ہے کیونکہ  جنت کے وعدہ الہٰی کا مصداق نہیں ہے، پوری گفتگو میں یہی نکتہ تو  انہیں بار بار سمجھایا جاتا رہا۔
بیشک شرف صحابیت کا یہی معیار ہے کہ حالت ایمان میں دیدار نبویﷺ اور خاتمہ بالخیر۔
  سید علی حیدری شیعہ مناظر:    تین روز میں آپ نے کوئی ایک حدیث نہیں بھیجی جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہو کرکرہ و مدعم صحابیت سے خارج ہیں  اور میں سنی مذہب کے مطابق ثابت کرتا آیا ہوں کہ جہنمی ہونا ، دلیل کفر نہیں نہ ہی اس سے خاتمہ بالایمان کا انکار ہوتا ہے۔لہذا آج کے ناصبی و خارجی بھی مدعم و کرکرہ کے خاتمہ بالایمان کے قائل ہیں۔آپ تو کسی گنتی میں ہی نہیں۔

جعفر صادق:  توجہ دیں قارئین!  نبیﷺ کا یہ فرمانا  کہ کرکرہ اور مدعم دونوں  جہنمی ہیں، شیعہ عالم کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔    اگر جنت کے وعدے میں کرکرہ اور مدعم بھی شامل ہیں تو  نبیﷺ نے انہیں جہنمی کیوں کہا؟  شرف صحابیت رکھنے والے جو ثابت قدم رہے اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے ان سے تو اللہ عزوجل نے جنت کا وعدہ فرمادیا ہے۔ کیا نبیﷺ اس وعدہ الہٰی کے ہوتے ہوئے کسی جنتی کو جہنمی کہہ سکتے ہیں۔ معاذاللہ۔

تسلیم کرنا پڑے گا کہ جہنمی کو شرف صحابیت حاصل نہیں ہوسکتا۔ یہ تصور خلاف قرآن ہے۔

شیعہ عالم کی طرف سے  طئے شدہ شرط کی صریح خلاف ورزی پر ہٹ دھرمی! 
ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری
شیعہ عالم کا إقرار کہ ان کے دلائل میں صرف کرکرہ اور مدعم کے نام تھے اور نام کی صراحت سے وہ دونوں کو جید صحابی رسول ثابت کرتے رہے ہیں۔
سید علی حیدری شیعہ مناظر: کونسی شرط کی خلاف ورزی؟؟ کاپی پیسٹ؟؟ تین روز تک آپ نے شرط 2 کے تحت اپنے خود ساختہ عقیدہ صحابہ پر ہی تو بحث کی ہے، آپ کے سارے دلائل ہی آپ کے قیاسی عقیدہ صحابہ پر ہیں، آپ نے تین دنوں میں کوئی ایک دلیل کرکرہ و مدعم کی عدم صحابیت پر نہیں دی، آپ زبردستی صحابہ کے عموم کو کرکرہ و مدعم پر تھوپتے رہے،حالاں کہ میرے دلائل خاص تھے، ہر دلیل میں کرکرہ و مدعم کے نام کی صراحت تھی اور نام کی صراحت سے میں نے دونوں کو جید اصحاب رسول ثابت کیا،لہذا آپ نے بھی نام کی صراحت سے دونوں کو صحابیت سے خارج کرنا تھا، جس میں آپ بری طرح ناکام رہے۔


جعفر صادق:صرف نام   کی موجودگی سے سنی مذہب کسی کو شرف صحابیت میں شامل یا خارج نہیں کرتا۔ اہل سنت کے ہاں   منافق، مرتد یا جن کا خاتمہ بالخیر نہیں ہوا انہیں شرف صحابیت میں شامل کیا جاتا   تو شیعہ عالم کو اس نکتہ پر دلیل دینے کی ضرورت تھی۔ اہل تشیع کی طرح اہل سنت کے عقائد و نظریات ڈھکے چھپے تو ہیں نہیں، ہر ایک بات کتب میں واضح لکھی ہوئی ہے۔

کیا منافقین بھی صحابی رسول تھے؟(معاذاللہ)

 سید علی حیدری شیعہ مناظر: ان آیات کے مطابق  تو منافقین بھی صحابی رسول تھے، کس دنیا میں ہیں جناب من۔ نہ ہی آپ کو شیعہ عالم کی وضاحت سمجھ آئی، نہ سنی علما متقدمین کی بیان کردہ اصطلاحی تعریف سمجھ سکے اور نہ ہی قرآن و حدیث آپ کو سمجھ آرہا ہے۔ہمارا قصور نہیں جناب۔

جعفر صادق: شیعہ عالم کو چاہیے تھا کہ پہلے منافق کی تعریف شنی و شیعہ کتب سے سمجھ کر آتا۔  

یہ  بھی ایک حقیقت ہے کہ  منافقین کا وجود مکی دور میں ہرگز نہیں تھا۔ منافق تو دنیاوی فائدے کے لئے دین اسلام کا زبانی إقرار کرتا ہے اور اسلام میں مدنی دور سے منافقین کا وجود شروع ہوا۔
  مکی دور میں غلبہ اسلام تو ہوا ہی نہیں تھا ، بلکہ جو اسلام قبول کرتا اسے سخت حالات کا مقابلہ کرنا پڑتا۔مکہ میں   کسی کو کیا ضرورت تھی کہ اسلام قبول کر کے جان و مال کو خطرے میں ڈالتا۔  یہی وجہ ہے کہ اولین اسلام قبول کرنے والوں کا درجہ افضل و برتر ہے۔

صفحہ 44 از 50