کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 43 از 50


صحابہ کرام دین اسلام کے اولین طلباء تھے، ان  کی تعلیم و  تربیت براہ راست نبیﷺ اورا للہ عزوجل نے فرمائی۔ کئی مواقع پر ان کی لغزشوں پر سخت الفاظ، ان کی قربانیوں پر بشارتیں بیان فرمائی گئی ہیں، مقصد ان کی تعلیم و تربیت کرنا تھا۔ یہ آیت بھی اسی پس منظر میں ہے کیونکہ آگے آیت 10 میں ان سب سے جنت کا وعدہ بھی فرمادیا گیا ہے۔

وکلا وعداللہ الحسنیٰ

کا  مصداق تمام صحابہ کرام ہیں۔ (سورت الحدید 10)

 سید علی حیدری شیعہ مناظر: دم ہے تو ان صحابہ کو وکلاہ وعدہ اللہ الحسنی کا مصداق ثابت کرکے دکھاؤ۔

جعفر صادق:  شیعہ عالم کو بتادیا گیا تھا کہ  انہیں کرکرہ اور مدعم   کو سنی مذہب کے مطابق جید صحابی رسول ثابت کرنا تھا، لیکن اپنے آخری ٹرن میں  بھی باز نہیں آئے اور کئی جواب طلب باتیں لکھ کر اچھلتے رہے، اب اسی جواب کو ملاحظہ فرمائیں۔ بازاری انداز سے چیلینج کر رہے ہیں۔
سب سے پہلے تو قارئین، آیت کو دوبارہ پڑھیں۔

قال فماخطبکم   سورہ الحديد : آیت 10
وَ مَا  لَکُمۡ   اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لِلّٰہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَا یَسۡتَوِیۡ  مِنۡکُمۡ مَّنۡ  اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ  اَعۡظَمُ  دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ  بَعۡدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ  الۡحُسۡنٰی ؕ وَ اللّٰہُ  بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿٪۱۰﴾

تمہیں کیا ہوگیا ہے جو تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ؟ دراصل آسمانوں اور زمینوں کی میراث کا مالک (تنہا) اللہ ہی ہے تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور قتال کیا ہے وہ (دوسروں کے) برابر نہیں (١) بلکہ ان کے بہت بڑے درجے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیے، (٢) ہاں بھلائی کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ کا ان سب سے ہے (٣) جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔

کیا اس آیت میں دو مختلف لوگوں کی جماعت کا ذکر ہے؟  یعنی ایک جماعت وہ جو  راہ خدا میں خرچ نہیں کرتی۔؟ اور دوسری جماعت وہ جو راہ خدا میں خرچ کرتی ہے۔؟
اگر کوئی ایسا سمجھے تو اس سے بڑا جاہل کوئی نہیں ہوگا۔ اس آیت میں ایک ہی جماعت کا ذکر ہے اور وہ ہے صحابہ کرام کی جماعت۔
اس جماعت کو دین الہٰی  میں خرچ کرنے پر ابھارا جا رہا ہے اور یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے  خرچ کرنے والے زیادہ افضل و برتر ہیں کیونکہ وہ وقت اسلام کا سخت ترین وقت تھا جب دنیا  میں  مسلمانوں کی مختصر تعداد صرف مکہ میں موجود تھی۔
اس آیت میں فتح مکہ سے پہلے اور فتح  مکہ کے بعد یعنی دور نبیﷺ سے لیکر قیامت تک دین کی راہ میں خرچ کرنے والے شامل ہوں گے۔ جو لوگ بھی ثابت قدم ہوں گے، دین کی راہ میں خرچ کرتے رہیں گے ان سب سے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ فرمادیا ہے۔

مفہوم: تمام  مکی مہاجرین صحابہ  جنہوں نے  راہ خدا میں مالی و جسمانی قربانیاں دیں اور مدنی صحابہ کرام (انصار)    ان سب سے بدرجہ اُتم اللہ نے جنت کا وعدہ فرمادیا ہے۔ بیشک   ان صحابہ کرام  میں حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق ،  حضرت عثمان غنی اور سیدنا مولیٰ علی  بھی شامل ہیں۔ 
 
کیا سورت الحدید 8  سے صحابہ کرام اللہ کے وعدے سے خارج ہیں؟

   سید علی حیدری شیعہ مناظر: یہ صحابہ بھی اللہ کے وعدے سے خارج ہیں۔

دیکھیں شیعہ مفسر کا إقرار کہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ (پیج نمبر305)        


جعفر صادق: اوپر اس آیت کی تشریح بیان کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ خود شیعہ عالم تسلیم کر تے رہے ہیں کہ آیت 7 سے 10 تک صحابہ کرام ہی سے خطاب ہے بلکہ انہیں 11 ار 12 نمبر آیات بھی بھیجنی چاہیے تھیں، جن میں تمام نصیحتیں دینے کے بعد   مزید نعمتوں اور  بشارتوں کی خوشخبری  بھی سنائی گئی ہے۔


تفسیر بلاغ القرآن ( محسن علی نجفی) شیعہ تفسیر اور سورت الحدید کی آیات

آئیے شیعہ تفسیر سے ہی شان صحابہ کو پڑھتے  اور سمجھتے ہیں۔


 شیعہ عالم کی یہ  بات بھی قابل قبول نہیں  ہے کہ صحابہ کرام جنت کے وعدے سے خارج ہیں۔
سید علی حیدری شیعہ مناظر: قرآن کو سمجھتے تو یہ بونگی نہ مارتے۔اللہ تعالیٰ تو جن سارے صحابہ سے وعدہ کررہا ہے اس کی صراحت تو آیت میں ہوگئی۔ آپ تبلیغ یا تربیت کے موضوع پر دلیل نہیں دے رہے تھے بلکہ اپنے قیاسی عقیدہ صحابہ پر دلیل دے رہے تھے، جو کہ اس مکمل آیت اور اس سے قبل کی دو آیات سے قطعی طور پر رد ہوگیا۔

جعفر صادق: قارئین اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ موصوف  آخری ٹرن میں کتنے بوکھلا گئے  تھے۔شیعہ عالم کو  سادہ آیات قرآنی بھی سمجھ نہیں آرہیں تھیں۔ اوپر ان آیات کی شرح بھی  شیعہ تفسیر سے پیش کی گئی ہے۔ خود شیعہ  مناظران آیات میں صحابہ کرام سے خطاب ہونا بھی قبول کرچکے ہیں۔

سید علی حیدری شیعہ مناظر: دوبارہ مذکورہ آیات سمجھا دیتا ہوں تاکہ آپ کا علمی جنازہ دھوم سے نکلے۔ اصل موضوع یہاں سے شروع ہورہا ہے،  (سورت الحدید آیت 7) یہاں بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے خطاب فرمارہا ہے۔

سورہ الحدید آیت 7
اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا جَعَلَکُمۡ مُّسۡتَخۡلَفِیۡنَ فِیۡہِ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ اَنۡفَقُوۡا لَہُمۡ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ﴿۷﴾

  اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس مال سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں جانشین بنایا ہے، پس تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور (راہ خدا میں) خرچ کریں ان کے لیے بڑا ثواب ہے۔
 
نوٹ فرمائیں اللہ تعالیٰ صحابہ کو تنبیہ فرمارہا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔

اگلی آیت آیت 8
وَ مَا لَکُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ۚ وَ الرَّسُوۡلُ یَدۡعُوۡکُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّکُمۡ وَ قَدۡ اَخَذَ مِیۡثَاقَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸﴾

 اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے؟ جب کہ رسول تمہیں تمہارے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے مضبوط عہد لے چکا ہے اگر تم ماننے والے ہو۔

*صحابہ کی سخت الفاظ میں اللہ تعالیٰ مذمت فرمارہا ہے کہ وہ پکا وعدہ کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لارہے* اور یہ وہ ادھوری آیت جو قریشی صاحب نے تحریف کرکے بھیجی۔
آیت 10

صفحہ 43 از 50