کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 42 از 50


جعفر صادق: اسکرین شاٹس ملاحظہ فرمائیں۔
کیا کسی عالم کی تعریف کو باطل کہا گیا تھاَ؟
شیعہ عالم صحابہ  کی مختلف تعاریف سے یہ استدلال بیان کر رہے تھے کہ اہل سنت کے ہاں شرف صحابیت پر بڑے اختلافات ہیں۔ ان کے اس استدلال کو باطل کہا گیا تو ان کی شیعیت والی رگ  میں تکلیف ہوگئی اور لفاظی سے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے میں لگ گئے۔
سید علی حیدری شیعہ مناظر: اللہ تعالیٰ ایمان اور اسلام میں صراحت کے ساتھ تفریق کررہا ہے جناب۔آپ درجہ بندی کررہے ہیں۔ چلیں درجہ بندی ہی کریں تو تسلیم کرلیں سنی علما متقدمین کے نزدیک زبانی توحید و رسالت کا اقرار ہی شرف صحابیت کے لیے کافی و شافی تھا، دل سے یہ اقرار کرنا شرف صحابیت کے لیے ضروری نہ تھا۔

جعفر صادق: قارئین  ، شیعہ عالم  کی کمال ڈھٹائی دیکھیں ،تھوک کے حساب سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ بس کسی  بھی طرح اپنی بات منوانا مقصود ہے۔  یہ کہاں لکھا ہے کہ 
سنی علما متقدمین کے نزدیک زبانی توحید و رسالت کا اقرار ہی شرف صحابیت کے لیے کافی و شافی تھا، دل سے یہ اقرار کرنا شرف صحابیت کے لیے ضروری نہ تھا۔
اللہ کی پناہ

سید علی حیدری شیعہ مناظر: اللہ تعالیٰ نے  ایمان اور اسلام میں تفریق ان الفاظ میں فرمائی ہے،

سورۃ 49 - الحجرات - آیت 14
قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا‌ ؕ قُلْ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰـكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ‌ ۚ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡـًٔــا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

اعرابی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ *درحقیقت تم ایمان نہیں ﻻئے بلکہ تم یوں کہو کہ ہم اسلام ﻻئے* حاﻻنکہ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا۔ تم اگر اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے لگو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہ کرے گا۔ بیشک اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔
جعفر صادق:  قارئین غور فرمائیں۔۔کتنے دوٹوک الفاظ میں  بیان کیا گیا ہے  کہ ایمان دل میں اس وقت داخل ہوگا جب اللہ و رسولﷺ کی مانی جائے گی۔ یعنی پہلے صرف اقرار تھا  ، بعد میں عمل شروع کیا گیا  تو پکا مسلمان یعنی مؤمن ہوجائے گا۔ 
اس آیت میں منافقین یا مرتدین کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ  ان نئے مسلمانوں کا ذکر ہے جنہیں فرمانبرداری کا حکم دیا جا رہا ہے تاکہ دل میں ایمان مضبوطی سے جم جائے۔ 

یہی اسلام کی درجہ بندی ہے۔  جب  میرے استدلال کا رد ممکن نہ ہوا تو اسے  مانتے ہوئے بھی شیعہ عالم نے اپنی بات لکھ دی۔

سید علی حیدری شیعہ مناظر: آپ تین دن تک خاتمہ بالخیر اور خاتمہ بالایمان میں تفریق کرتے رہے ہیں جناب آپ کے منہ سے یہ باتیں اچھی نہیں لگتیں ،  میرے جس میسج کو ٹیگ کیا ہے وہاں آپ نے ادھوری آیت ہی لکھ رکھی ہے میں ٹیگ کردیتا ہوں۔ دیکھ لیں آپ نے لایستوی سے آیت ،شروع کی ہے۔ کیوں کہ لایستوی سے پہلے جن صحابہ کی اللہ تعالیٰ چھترول کررہا ہے وہ وکلاہ وعدہ اللہ الحسنی سے خارج ہیں۔


ایک اور جھوٹ خاتمہ بالخیر اور خاتمہ بالایمان کی تفریق کا الزام

جعفر صادق:  یہ دراصل کرکرہ اور مدعم کے متعلق حکم کا تعین کرنا تھا۔ شیعہ عالم کو بار بار اس کے متعلق بتایا گیا کہ جتنا نبیﷺ نے ان کے متعلق بیان کیا ہے اتنا ہی سنی مذہب میں ان  کے بارے میں مؤقف موجود ہے۔ رہی بات ان کے شرف صحابیت کی تو اہل سنت عقیدہ صحابہ میں شرف صحابیت صرف ان ہستیوں کے لئے ہے جن سے اللہ راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ کرکرہ اور مدعم سے اللہ و رسولﷺ راضی نہیں تھے، اس لئے وہ شرف صحابیت سے خارج ہیں۔ جبتک کوئی ایسی واضح دلیل نہ ہو جو یا قرآن کریم سے ہو یا  فرمان نبویﷺ  سے کیونکہ ان دونوں  کا  تعین نبیﷺ خود فرما گئے ہیں۔

کیا اللہ عزوجل نے تمام صحابہ سے جنت کا وعدہ نہیں فرمایا؟

سید علی حیدری شیعہ مناظر: بات نفی کی نہیں ہے بلکہ وعدے میں شامل ہونے یا وعدے سے خارج ہونے کی ہے.
جعفر صادق:آئیے شیعہ عالم کی  پیش کی گئی اس آیت سے ہی شروع کرتے ہیں   ۔
سورت الحدید آیت 7
صحابہ کرام کو تنبیہ یا نصیحت؟

دیکھیں کتنے پیارے الفاظ میں  صحابہ کرام کو  نصیحت اور بشارت سنائی جا رہی ہے۔ شیعہ عالم کا بغض بھی چیک کریں، ان سے شان صحابہ  پڑھ کر  برداشت نہ  ہوا  ،  اس لئے  "تنبیہ"   جیسا سخت لفظ استعمال کر  رہے ہیں۔ اگر   کسی شخص سے کوئی  غلطی یا لغزش  ہوجائے تو اسے سمجھانے کے لئے تنبیہ کی جاتی ہے، جبکہ نصیحت اسے کہتے ہیں جب کسی شخص کو  کسی غلط کام سے پیشگی  بچانا مقصود ہو۔ تنبیہ میں شفقت کا عنصر نہیں ہوتا جبکہ نصیحت میں شفقت شامل ہوتی ہے۔

شیعہ عالم کا إقرار کہ آیت میں صحابہ کرام کا ذکر ہے اور وہ ایمان لاچکے ہیں۔ (اسکرین شاٹ)

شیعہ عالم کا إقرار کہ اس آیت میں ایمان والوں سے خطاب ہے۔ قارئین غور فرمائیں۔۔ شروع میں إقرار کررہے ہیں کہ ایمان والوں سے خطاب ہے اور آخر میں یہ بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ صحابہ کرام کو تنبیہ  کی جا رہی ہے۔  یعنی پوری آیت میں  صحابہ کرام کا ذکر ہے۔ 

حاصل مفہوم: صحابہ کرام  ایمان لاچکے ہیں اور اس آیت میں  انہیں دین کی مزید احکام اور  تعلیمات سکھائی جا رہی ہیں۔
سورت الحدید آیت 8
قارئین۔۔ اس طرح سمجھیں کہ جیسے استاد اپنے  شاگردوں کی تعلیم و تربیت کے لئے کبھی کبھار سختی بھی کرتا  ہے۔ سب کو تجربہ ہوگا کہ  استاد شاگرد کو   انہی الفاظ سے سمجھاتا ہے کہ "تمہیں کیا ہوگیا ہے، پڑھتے کیوں نہیں ہو، فلاں سبق یاد کیوں نہیں کیا؟ ہوم ورک کر کے نہیں لاتے ہو وغیرہ وغیرہ"
اگر کوئی ان سمجھانے کے الفاظ  سے یہ  مفہوم نکالے کہ  استاد شاگردوں کی مذمت کر رہا ہے کہ تم لوگ  اسکول تو روز آتے ہو لیکن دراصل اسکول میں تم لوگوں کا داخلہ  ہی نہیں ہوا ، بالکل نا اہل ہو، جھوٹے ہو وغیرہ وغیرہ
کیا یہ مفہوم لینا درست ہوگا؟ 

صفحہ 42 از 50