کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 40 از 50


    دیکھیں یہ ہے سنی علما متقدمین کا منہج صحابہ سے متعلق۔قریشی صاحب کو عربی نہیں آتی اس لیے ترجمہ بھی بھیجا تھا لیکن موصوف نے جیسے میرے دلائل کو نہ چھونے کی قسم کھا رکھی ہے اس لیے اس دلیل کو بھی نہیں چھوا۔
  حضرت خطیب بغدادی نے امام احمد بن حنبل  سے صحابی کی تعریف ان الفاظ میں بیان کی ہے:

*کُلُّ مَنْ صَحِبَهُ سَنَةً أَوْ شَهْرًا أَوْ یَوْمًا أَوْ سَاعَةً أَوْ رَآهُ، فَهُوَ مِنْ أَصْحَابِهِ، لَهُ مِنَ الصُّحْبَةُ عَلَی قَدْرِ مَا صَحِبَهُ.*

 ہر وہ شخص جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہو‘ ایک سال یا ایک مہینہ یا ایک دن یا ایک گھڑی یا اُس نے  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہو وہ صحابی ہے۔ اسے اسی قدر شرفِ صحابیت حاصل ہے جس قدر اس نے صحبت اختیار کی۔ 
امام بخاری صحابی کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں:

*وَمَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم أَوْ رَآهُ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَهُوَ مِنْ أَصْحَابِهِ.*

مسلمانوں میں سے جس نے بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہو یا فقط آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہو، وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابی ہے۔
  احمد بن حنبل اور امام بخاری نے صحابی کی اصطلاحی تعریف میں نہ ہی ایمان کی حالت میں ملاقات کی شرط رکھی ہے اور نہ ہی خاتمہ بالخیر کی کوئی شرط رکھی ہے۔

جعفر صادق:یہ ایک علمی نکتہ ہے کہ کسی عالم کی طرف سے  کسی بات کا ذکر نہ کرنا اس بات  کی نفی ثابت نہیں سمجھی  جاتی جب تک اس عالم سے اس  بات کی واضح نفی نہ  بیان  کی گئی ہو۔

امام احمد بن  حنبل اور تعریف صحابی
  امام احمد بن حنبل  کی تعریف  میں اسلام لانے کا ذکر نہیں ہے تو کوئی بیوقوف ہوگا جو یہ سمجھے گا کہ امام احمد بن حنبل  مکہ کے کفار یا ابوجہل کو بھی جید  صحابی رسول  سمجھتے تھے (معاذاللہ)۔  یہ عقل کی بات ہے کہ ان کے نزدیک یہ لکھنا غیر ضروری تھا کہ وہ شخص مسلمان بھی ہو کیونکہ ان کی تعریف عام مسلمانوں کے سمجھانے کے لئے تھی نہ کہ غیر مسلمین کے سامنے بیان کرنا تھا، اس لئے انہوں نے ضروری نہ سمجھا۔

امام بخاری اور تعریف صحابی
ا  امام  بخاری  نے اسی مفہوم کو االگ الفاظ سے بیان کردیا کہ مسلمان  کو دیدار نبویﷺ نصیب ہوا تو وہ شرف صحابیت میں داخل ہوگیا۔ اب کوئی بیوقوف ہی اس سے یہ استدلال لے گا کہ امام بخاری کی اس تعریف کے مطابق  مرتد ہوجانے والا بھی صحابی رسول ہوگا،  جب تک امام بخاری کے  اپنے الفاظ سامنے نہ ہوں۔

سید علی حیدری شیعہ مناظر:   واحد شرط جو سنی سلف صالحین نے یہاں رکھی ہے وہ اسلام قبول کرنا یا مسلمان ہوتے ہوئے نبی کریم کی صحبت ہے۔ جب کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان ہونے اور ایمان لانے میں واضح فرق صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
  اللہ تعالیٰ نے  ایمان اور اسلام میں تفریق ان الفاظ میں فرمائی ہے 

سورۃ 49 - الحجرات - آیت 14
قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا‌ ؕ قُلْ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰـكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ‌ ۚ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡـًٔــا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

اعرابی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ *درحقیقت تم ایمان نہیں ﻻئے بلکہ تم یوں کہو کہ ہم اسلام ﻻئے* حاﻻنکہ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا۔ تم اگر اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے لگو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہ کرے گا۔ بیشک اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے۔
  یہاں اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے والوں میں اور مسلمانوں میں واضح فرق بیان کردیا ہے،  اور وہ فرق یہ ہے کہ مسلمان کو صاحب ایمان ہونا لازم نہیں ہے۔

جعفر صادق:شیعہ عالم نے دوبارہ گذشتہ جواب کاپی پیسٹ کیا ہے۔ (دیکھیں پیج 152)  اس باطل استدلال کی نفی قرآن و سنت بلکہ شیعہ کتب سے بھی ہوتی ہے۔ 
اگر مسلمان کا صاحب ایمان ہونا لازم نہیں ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے بحیثیت نبی ہوتے ہوئے مسلمان ہونے کی دعا کیوں فرمائی؟   (پیج  201،202)
 
سید علی حیدری شیعہ مناظر: جب کہ سنی علماء متقدمین کے مطابق صحابی ہونے کے لیے ایمان کی شرط نہیں بلکہ صرف مسلمان ہونے کی شرط عائد کی گئی ہے۔
  خاتمہ بالخیر یا خاتمہ بالایمان کا قیاس خود سنی علماء متقدمین نے مسترد کیا ہے۔ 
آئندہ یہ غلطی مت دہرائیے گا۔
کیوں کہ آج کے خارجی و ناصبی تو ایسا کہہ سکتے ہیں سنی ہرگز ایسا نہیں کہہ سکتا ، ایسا کہنے والے سنی کو کم از کم اپنے علماء متقدمین کو رافضی ماننا ہوگا ۔


  
جعفر صادق:  شیعہ عالم کی جہالت ملاحظہ فرمائیں۔ ان کے نزدیک مسلمان ہونا اور بات ہے اور ایمان لانا اور بات ہے۔(دعاء یوسف علیہ السلام۔ پیج 256)
یہ ایک آیت پڑھیں۔

سیقول   سورہ البقرة : آیت 208
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِی السِّلۡمِ  کَآفَّۃً  ۪ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۰۸﴾

ترجمہ  :    ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو (١) وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
اگر کوئی شخص توحید و رسالت کی گواہی دے تو    شیعہ عالم کے مطابق وہ مسلمان تو ہوگیا یعنی دائرہ اسلام میں   داخل تو ہوگیا لیکن مؤمن نہیں ہوا تو قارئین اس آیت کی تشریح کیا ہوگی جس میں اللہ عزوجل   ایمان والو سے خطاب فرما کر انہیں  اسلام میں مکمل داخل ہونے کا حکم فرما رہے ہیں؟ 
مؤمن مسلمان  نہیں تو ، اےایمان والو! خطاب کیوں؟
مسلمان اگر مؤمن  ہے تو اسے دوبارہ  اسلام میں مکمل داخل ہونے کی کیا ضرورت۔؟
ماننا پڑے گا کہ  مسلمان ہونے   اور مؤمن ہونے میں بس اتنا فرق ہے کہ  مسلمان اللہ و رسولﷺ  کو دل و زبان سے ماننے کا إقرار کرتا ہے ، اس سے وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے، جبکہ مؤمن وہ ہوتا ہے جو اللہ  و رسولﷺ کو ماننے کے بعد(یعنی مسلمان ہونے کے بعد)  اللہ و رسولﷺ  کے احکامات کو بھی ماننا شروع کردیتا ہے۔

عبداللہ ابن سبا کا سیدنا علی کے أصحاب میں سے ہونا (إقرار شیعہ علماء)  اور شیعہ عالم کی جہالت

صفحہ 40 از 50