کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت -…

کرکرہ اور مدعم کی صحابیت کا تعین اورعقیدہ صحابہ اہلسنت

  جعفر صادق

صفحہ 39 از 50

اردو  ترجمہ اکابر شیعہ از أصحاب اکرام
نوٹ: شیعہ عالم کے پاس دوسرا نسخہ تھا جو دوسرے  مترجم کا ہے جس میں کئی خیانتیں کی گئی ہیں۔ 

سید علی حیدری شیعہ مناظر: اب مقدمہ دوم میں شیعہ امامیہ کا موقف پڑھیں کہ ایمان و عدالت ، صحابہ و غیر صحابہ کی برابر ہے۔۔۔مطلب سمجھ آیا قریشی صاحب اس کا؟ یقینا نہیں آیا ہوگا

جعفر صادق:  جی بالکل درست بیان ہوا ہے۔ شرف صحابیت کے لئے پہلے حالت ایمان کا ہونا ضروری ہے اور  اس حالت ایمان میں صحابہ اور غیر صحابہ دونوں ہی  برابر ہیں،  ایک عام مسلمان سے صحابی کا درجہ اس لئے زیادہ ہے کہ اسے دیدار نبویﷺ  کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ غیر صحابی،    صحابی رسول سے الگ ہے، کیونکہ حالت ایمان میں دیدار نبویﷺ شرف صحابیت کا ایک معیار ہے۔ 
اس کے بعد صحابی رسول کے درجات بھی مختلف ہیں۔  بالکل آسان بات  ہے،یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے۔
سید علی حیدری شیعہ مناظر:


اور یہاں دیکھیں قرآن مجید سے منافق صحابہ کا ثبوت

جعفر صادق:  غور سے پڑھیں۔ آپ کے پسندیدہ مترجم نے بھی لکھا ہے کہ وہ منافقین تھے اور لوگ انہیں صحابہ سمجھتے تھے، آگے آیت بیان ہوئی ہے کہ    اللہ چاہتا تو انہیں آئینہ دکھادیتا۔ منافقین کے متعلق پوری ایک سورت منافقون بھی قرآن میں موجود ہے۔ ان کی توحید و رسالت کی گواہی دل سے نہیں تھی اس لئے ان کی گواہی اللہ نے قبول ہی نہیں کی۔ جب وہ دائرہ اسلام میں داخل نہ ہوئے تو  شرف صحابیت میں کیسے داخل ہوگئے؟

 

سید علی حیدری شیعہ مناظر:اور یہاں صحابہ کا کفر اور گناہ ثابت کیا جارہا ہے۔
جعفر صادق:   یہ اگرچہ الگ بحث ہے لیکن اس نکتے سے بھی یہی واضح ہورہا ہے کہ خاتمہ بالخیر ہی شرف صحابیت کا معیار ہے بصورت دیگر ان جلیل القدر صحابہ کرام کو  اہل تشیع کس بنیاد پر شرف صحابیت سے نکالتے ہیں؟

سید علی حیدری شیعہ مناظر:


    یہاں پڑھیں منافق اور قاتل عثمان بھی صحابہ۔۔۔ولید بن عقبہ کو قرآن نے فاسق کہا وہ بھی صحابی۔
جعفر صادق:  اگرچہ شیعہ عالم  اپنے موضوع کرکرہ اور مدعم کی صحابیت سے کوسوں دور پہنچ چکے ہیں ، لیکن اس کے باوجود شرف صحابیت کا معیار وہی ثابت ہورہا ہے جو شروع سے انہیں سمجھانے کی کوشش کی جاتی  رہی، صحابہ کرام کے اعمال سے ہی شیعہ رافضی نتیجہ نکالتے ہیں، آسان الفاظ میں  شرف صحابیت کے لئے سنی و شیعہ کے ہاں حالت ایمان میں  دیدار نبویﷺ کے ساتھ دین میں استقامت، ثابت قدمی اور خاتمہ بالخیر ہی لازمی ہے۔ اب ہر صحابی پر الگ سے گفتگو کی جائے تو ان پر الگ الگ دلائل دیکر حقیقت جانی جا سکتی ہے۔ 
 شیعہ عالم نے کرکرہ اور مدعم کو سنی مذہب میں جید صحابی رسول ثابت کرنے کا دعوی  کیا تھا، اس میں انہیں کتنی کامیابی ہوئی ، اس کا فیصلہ قارئین کے لئے اتنا مشکل نہیں ہے۔

سید علی حیدری شیعہ مناظر: یہاں آپ کے ابن حجر عسقلانی کی علمی چھترول ملاحظہ فرمائیں، صحابیت سے متعلق عقیدہ کیا ہے اور صحابی کو ثابت کیا کیا ہے

جعفر صادق:   کونسی علمی چھترول۔۔۔ علامہ ابن حجر عسقلانی نے یہ دعوی  ہرگز نہیں کیا کہ  الاصابہ میں صحابہ کرام کا  احوال صحیح روایات سے ہی بیان کیا  ہے۔ کسی بھی صحابی پر اعتراض کرنے سے پہلے روایت کی سند و متن کو چیک کیا جاتا ہے۔     اسی عکس میں ابن حجر عسقلانی کی طرف سے کئی ایسی روایات کا ذکر ہے جو شان صحابہ کے خلاف ہیں ، کیا  وہ صحیح روایات ہیں؟  ہرگز نہیں۔
سید علی حیدری شیعہ مناظر:
اب یہاں مقبول و مردود صحابہ کی وضاحت کررہے ہیں۔

جعفر صادق:  اہل تشیع کی یہ خودساختہ اقسام صحابہ  کی فہرست خلاف قرآن ہیں۔ اوپر تفصیل سے گفتگو پڑھی جائے تو قارئین کے سامنے حقیقت واضح ہوجائے گی۔


سید علی حیدری شیعہ مناظر: میں زیادہ ٹائپ اس لیے نہیں کررہا کیوں کہ اردو تراجم بھیج رہا ہوں قارئین پڑھ سکتے ہیں کہ قاضی نور اللہ شوستری کا صحابہ سے متعلق مجموعی نظریہ کیا تھا۔

کتاب کی فہرست بھی پڑھ لیں کہ *شیعہ اصحاب رسول* اور اصحاب مولا علی علیہ السلام کون کون تھے ان کے حالات بھی اس کتاب میں بیان کیے گئے ہیں۔
جعفر صادق:  کیا کسی جگہ قاضی نور اللہ شوستری نے یہ الفاظ لکھے ہیں کہ فلاں صحابی شیعہ صحابی تھا؟ 
قارئین۔۔اہل تشیع کی ایک صحیح روایت کے مطابق سوائے تین صحابہ کے بعد از نبی تمام صحابہ مرتد ہوچکے تھے (معاذاللہ) 
 تو  مجالس المؤمنین میں  شیعہ صحابہ کی اتنی لمبی فہرست کہاں سے آگئی؟  
 دور نبویﷺ میں  جو شیعہ صحابہ تھے وہ تو  بعد از نبیﷺ مرتد ہوگئے تھے، یعنی  خلفائے ثلاثہ کے دور میں شیعہ صحابہ نہ تھے؟  
کیا سیدنا علی کے دور میں وہ ایک بار پھر  شیعہ صحابہ ہوگئے؟ 
پھر چھ ماہ حضرت اما م حسن کے  دور میں شیعہ صحابہ تھے ، اس کے بعد صلح امام حسن کے بعد حضرت امیر معاویہ کے بیس سالہ دور میں پھر شیعہ صحابہ نہ رہ سکے؟ 
شیعیت بھی ایک عجیب گھن چکر ہے۔

سید علی حیدری شیعہ مناظر: لہذا اس تعریف کی وضاحت ہوگئی کہ اس کا اطلاق صرف شیعہ صحابہ کرام پر ہوگا ، ہر صحابی رسول پر اس تعریف کا اطلاق نہیں ہوگا۔ شیعہ صحابہ یعنی رسول ﷺ کے بعد مولا علی علیہ السّلام کو خلیفہ بلا فصل ماننے والے صحابہ۔یہ تفصیل اسی کتاب میں صحابہ کرام کے حالات میں پڑھی جاسکتی ہے۔

جعفر صادق: وہ شیعہ صحابہ تو شیعہ کتب کے مطابق تین صحابہ تھے۔ مطلب قرآن کریم میں جتنی تعداد میں  شان صحابہ پر آیات قرآنی کا نزول ہوا ہے،  اتنی تعداد بھی شیعہ صحابہ کی نہ تھی۔ مطلب امت مسلمہ کو قرآن میں بھترین امت کا خطاب  دینا بھی  درست نہیں ہے، حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اصحاب جتنی تعداد بھی نبیﷺ کے اصحاب کی شیعہ تسلیم نہیں کرتے۔ لاحول ولاقوت
یہ ہے شیعیت کی اصلیت!
سید علی حیدری شیعہ مناظر : قریشی صاحب شیعہ صحابہ کرام کی تعریف کا اطلاق ہر صحابی رسول پر کرنے کی ناکام کوشش کررہے تھے۔
 کبھی اہل سنت علماء متقدمین کی اصطلاحی تعریف پڑھنے کی کوشش کرنا اوپر میں نے بخاری و حنبل کی بیان کردہ صحابی کی اصطلاحی تعریف بھیجی ہے اسے پڑھ لیں اور منافقین و مرتدین کو اس سے خارج کرنے کی کوشش کرلیں، قرآن و حدیث سے ہاتھ نہ دھونے پڑجائیں تو کہنا۔

صفحہ 39 از 50